ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین نے استولا جزیرے کا جائزہ لیا تھا اس کے بعد حیاتیاتی اور ماحولیاتی تناسب سے تندرست پایا ہے۔  فوٹو: بشکریہ ڈبلیو ڈبلیو ایف

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین نے استولا جزیرے کا جائزہ لیا تھا اس کے بعد حیاتیاتی اور ماحولیاتی تناسب سے تندرست پایا ہے۔ فوٹو: بشکریہ ڈبلیو ڈبلیو ایف

بلوچستان: بلوچستان کی خوبصورت اور بحری حیات سے مالامال استولہ جزیرے پر ماحولیاتی اور حیاتیاتی صورتحال پر اطالین کا اظہار خیال۔

جزیرہ استولا کی ماحولیاتی صورتحال کا جائزہ لینے والے آئڈ بلیو ڈبلیو ایف سے منسلک غوطہ خوروں کی ٹیم نے 4 روزہ دورہ کیا۔ اسکوبا کے مہر غوطہ خوروں کی ٹیم میں محمد عسکری ، عامر باز خان ، زوہیب مرچنٹ ، مدیحہ سید ، عبد اللہ زیدی ، عثمان اقبال ، عاصم کمال ، حمزہ مقصود ، اویناش راج اور شمین روجانی شامل تھے۔

جزیرہ استولا ماحولیاتی جائزے کے دوران حیرت انگیز طور پر خوش گوارانکشاف ہوا ہے جو یہاں سمندری جنگلی حیات اورصحمتند قدرتی نظام موجود ہے۔ اس منظر سے ڈڈلیو بلو ڈبلیو ایف کی تازہ ترین تاریخوں اور تصاویر جاری ہیں۔ ان تصاویر میں وہ دستاویزات ہیں جو استولا جزیرہ کے محفوظ ترین سمندری مقام پر کورال / مونگے کی چٹانوں کی رنگت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہیں۔ چرنا جزیرے کے قریب مونگے اور مرجانی چٹانوں کی کثیر آبادی میں بلیچنگ یعنی رنگت میں تبدیلی کی رپورٹ آرہی ہے۔ واضح ہے کہ بلیچنگ کا عمل یہ بتاتا ہے کہ حساس مونگے اور مرجانی سلسلے دھیرے دھیرے مررہے ہیں۔ اس ضمن میں یہ جاننا ضروری ہے کہ مرجانی چٹانیں بہت سی سمندری حیات کا گھر اور نرسری ہوتی ہیں۔

جزیرہ استولا پر مونگے کی رہائش گاہوں کی مشکل اہمیت اور نایاب مچھلیوں اور بڑی تعداد میں سمندری حیات کی موجودگی کا پتہ چل گیا ہے جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ سبز کچوؤں کو انڈیا نہیں دیا گیا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف ایف نے استولا جزیرے پربہترین ماحولیاتی نظام کی موجودگی کے بارے میں معلومات دیئے اسکوبا ٹیم کے کاوشوں کو بھی سراہا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق ، “استولا جزیرہ ملک کا پہلا محفوظ سمندری مقام ہاورڈ سمندری حیات سے مالا مالاٹاسٹولا جزیرہ سبزکچھوں کا انڈیا جانے کا اہم مقام اور بلوچستان کاماہی گیری کا قریب ترین مقام ہے۔ واضح طور پر استولا کو جون 2017 میں محفوظ سمندری مقام بھی ٹھیک ہو گیا۔ اس طرح استولہ سمندری حیات اور ماحول کا ایک قیمتی مقام بھی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here