حکومت اوراس کے متعلقہ کوسٹ بھی ضروری ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔  فوٹو: فائل

حکومت اوراس کے متعلقہ کوسٹ بھی ضروری ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ فوٹو: فائل

مغربی دنیا کی بات کریں تووہاں اربوں ڈالرکمپنی والا اورسینک ٹیسٹ ڈالررماہانہ کمانے والا ہرشخص ٹیکس ادا کررہا ہے۔ جس طرح کی معیشت معیشت کومستحکم رکھنا ہے اور اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا ہے۔

ایک طرف توحکومت اور اس کے ساتھ کام کرنے کی ایک بڑی ذمہ داری کو پورا کرنا ہے اور یہ بات بھی پوری قوم سے ہوتی ہے اور قومی خزانے میں بھی ٹیکس کی مد میں جمع ہوجاتی ہے۔ ملازمت کی وجہ سے وہاں تعلیم ، صحت اور صحت سے متعلق سہولیات سے متعلق لوگوں کوکی قسم کی شکایات نہیں ملتی ہیں۔ ہمارے ملک میں اگر اس کی کوئی حد نہیں ہے تو بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ان کے برابر نہیں ہے۔

اگرمغربی شوبز انڈسٹری پرنکورڈالین تووہاں کام کرنے والے افراد اس شعبے میں جوہردکھا کربھاری معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ فنکارارتوفنکار ، ٹیکنیکل شعبے والے لوگ بھی کام کی نوعیت رکھتے ہیں جو منھ مانگے داما وصول کرتے ہیں لیکن ان کی ادائیگی کاطریقہ کار میں کچھ انتظام ہوتا ہے جو اس سے ملنے والی رقم سے پہلے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔ ہے۔ اسی طرح تو مغربی ممالک میں بھی کام کرنے والے فنکاروں کے گھر ، محل نما اورزندگی گزارنے کا انداز بادشاہوں سے ملتا جلتا ہے۔

دوسری بات نہیں تو پاکستان میں شوبز انڈسٹری کی بات کریں تویہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہیں۔ یہاں کام کرنے والے بہت سارے فنکارا ہیں ، جوڈنیا بھرمیں اپنی شناخت رکھتے ہیں ، ہیرو فن فلسطین بھاری رقوم معاوضے کے ساتھ اسپرادا کے واقعات ہوتے ہیں۔ اگرفن فلسطین کے رہنما سیدھے سادھے ہوئے ہیں اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ماہانہ منشیات کی خدمت کررہی ہے اور ان کی ٹیکس گوشواروں کوڈیکس کو دیکھ رہی ہے۔

ہمارے فنکاروں کے شہری بزنس کلاس میں کلکل اورانٹرنیشنل سفرکرتی ہیں ، گاڑیوں کی باتیں کریں توہرنائے ماڈل کی گاڑی کا پاس زائدہوتی ہے ، اس کے گھر کی بات ہے تووایک ہوم میڈیا ہے اورعبقیہ پراپرٹی مختلف مقامات اور شہروں میں ہے۔

یہ بہت اچھی بات ہے کہ ملک میں بسنے والے فنکارآجانے شاہانہ زندگی صرف اورصرف ہیں ، اس سے پہلے کہ وہ اگلے فوجیوں کی مالی حیثیت کاجائزہ تواکثریت کے گھروں میں موجود تھے۔ اس کے ساتھ دو وقت کی روٹی مشکل سے پوری ہوتی ہے۔ لیکن آج کے دن ہی اس کی خبریں آتی ہیں۔ نوکرچاکرآگے پیچھے رہ گئے ، جہاں پروٹوکول ملتا ہے۔ لیکن ان کی ٹیکس گوشوارے دیکھیں۔

کچھ عرصہ سے ہی کچھ عرصہ پہلے ایف بی آر کی طرف سے کچھ فنکاروں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کا کام جاری ہے۔ کچھ رپورٹ تیارکی ہوئی ہیں اورکچھ کی چھان بین ہورہی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک نامی شہروں کا شہر یا ہفتے کے دن گلوکاراستاد راحت فتح علی خاںکا جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہیں۔ اس فن نے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنا لیا۔ اگر یہ معاوضے کی بات کریں توشاید وہ پاکستان میں سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے والے لوگوں کو پیش کرتے ہیں

سب لوگ جانتے ہیں کہ راحت کوبھارت میں بھی ڈالروں کے ساتھ ساتھ پرفیئرپورٹ کے ساتھ بھی غلطی ہوئی تھی اور اس کود مدن میں سزا کاسامنا کرنا پڑھا تھا ، لیکن اس نے اتنی بڑی رقم بھی دھوکے میں ڈال دی۔ اس کے بعد ہندوستان میں اس کا مقابلہ بہت پراپیگنڈہ بھی تھا جو ایک پاکستانی فنکارکواتنا معاوضہ کی وجہ سے کیا ہوا تھا؟ یہ واقعی حقدارتوبھارتی گلوکارٹی۔

ہندوستانی حکومت نے اس سے پہلے ٹیکس کاٹ لیا تھا لیکن اس کی قیمت ڈالر میں نہیں تھی لیکن اس کی اجازت نہیں ملی اوردنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہسائی بھی تھی۔ لیکن آپ کے ملک کی بات کریں تویف بی آر نے ایک بار پھر راحت فتح علی خاں کے سفر کے بارے میں سوالات مانگ لی ہیں۔

اسی طرح ایک اورمعروف اداکارہ ثناء کیخلاف بھی کارروائی جاری ہے اوران کا اثاثہ جات اوراسفرکی جانچ کوسامنے رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بھی بہت سارے فنکاراورگلوکارک موجود ہیں جنوری کا لائف اسٹائل ٹیکس کی رقم سے باہر نہیں جاسکتا۔

اسی طرح بہت سارے فنکارا طریقے ہیں جوایک کمرشل کرنے کا معاوضہ کروانے والوں کو وصول کرتے ہیں ، ان کے اپنے گھر سے بھی ایف بی آر کوباقائدہ تحقیقات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویسے بھی شیجائے توبرس تک فلم انڈسٹری پرراج کرنا والی ہیریئن کوملنے والا معاوضہ اتنا کم تھا جو اگراس کے حساب سے معلوم ہوا تھا کہ توحیرت دنگ رہائش پذیر ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم فلم میں اداکاری کرنے والے دیہاتیوں کی فلمی فلم میں سائن ان ہوجائیں گے۔

فلمسٹرمیرا کی بات کریں توفلم انڈسٹری سے یہ بات بخوبی واقف ہو رہی ہے کہ ان کا پاس جٹنی پراپرٹی صرف لاہور ہی ہے ، شاید کوئی دوسرا اداکارہ پاس نہ ہو ، لیکن اس کی حکومت نے مالی امداد کی اپیل نہیں کی۔

اسی طرح اگرفیشن انڈسٹری سے وابستہ ماڈلز ، ڈیزائنرز ، بیوٹیشنز اوردیگرکاجائزہ بخشش تویہاں کام کرنے والے ڈیزائنرز ایک جوڑے کی قیمت پر لاکھوں افراد کی قیمت وصول کرتے ہیں جو اوراس شعبے کواگرپاکستان شوبز کا سب سے مہنگا ترین شعبہ تھا۔ ‘اثرورسوخ’ کی بنا پران پربھی کارروائی کا عمل درآمد بہت کم نظر آتا ہے۔ اس بڑی وجہ سے اس شعبے میں کام کرنے والے لوگوں نے فیملیز کو کوپاکستان کووہ طبقہ سمجھوتہ کیا ہے جس پرکوانین کا عملدرآمد ہونا ناممکن ہے۔

میوزک انڈسٹری میں استاد راحت فتح علی خاں کے علاوہ عاطف اسلم ، عابدہ پروین ، غلا م علی ، سجاد علی ، شفقت امانت علی خاں ، عارف لوہار ، سٹرنگز ، جنون اورحقیقہ کیانی بہت زیادہ نامعلوم ہیں جو جوک شو میں پرفارم کر رہی ہیں۔ لاکھوں لوگوں یا ڈالروں میں وصول کرنے والے ، اس شعبے کے بارے میں بھی تحقیقات کا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ فنکارجتنا پیسہ کم عبادت ہے اگراس حساب سے ٹیکس دیں تویقینناً قومی خزانے میں بہتری آئی ہے۔

اس طرح کی شوبز کے سنجیدہ حلقوں کی بات ہے کہ بلاشبہ کے فنکارٹیلنٹ میں کسی بھی طرح سے کم نہیں ہو سکتے ہیں اور وہ آیہین کام کرنیوالے نامور فن تنظیم کے مالی معاملے میں کوئی راجہ مہاراجا سے کم نہیں ہیں۔ اس کی آمدنی اوردیگرمعاملات کی دنیا میں دبئی کے بارے میں لطیفہ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں فنکار لطیفہ سے وابستہ افراد معاشی طور پر معاشی طور پر کام کررہے ہیں اور ان لوگوں کو بھی اس بات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ کوسٹھری رقص کے بارے میں نوٹس لیتے ہیں۔ شخصیات ” کی مداخلت پرکارروائی کوروک دی۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ فلم ، ٹی وی ، تھیٹر ، فیشن ، میوزک ، رقص اوردیگرشعبین سے وابستہ افراد کے اثاثوں کی تحقیقات کی جاسکتی ہیں اور ان سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ، توغلط نہیں ہوسکتا ہے ، پھر فنکار کو کوشمیٹ بنیادی سہولیات کی فراہمی کوبیٹی بن بنانا ہیں۔ طالبان ، جوان کا بطورپاکستانی حق ہے۔ یہ لوگ ہمارے ملک کے شان اور اورپہچان ہیں ، جہاں ان کا کوپنا فرض اداکرنا پڑتا ہے ، وہ حکومت اوراس کے متعلقہ مقام کوٹ کو بھی اس قدیمقیمت کوسمجھنے کی ضرورت نہیں رکھتے ہیں۔

اگریہ سلسلہ اسی طرح کی سرگرمی کے طور پر کارکنان کی طرح فن کا مظاہرہ کیا گیا تھا ، اس کی وجہ سے ایکسپریس سروسز کے تحت ایکسپریس سروسز فراہم کی گئیں اور حکومت کوٹیکس کے مدرسے میں خاص طور پر رقم جمع کروائی گئی ، جوملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here