فلوریڈا کے لوگوں نے کہا تھا کہ اس نے آور برمی پائتھن کو پکڑا ہے اور اس کی تعداد کم کریں (فوٹو: فائل)

فلوریڈا کے لوگوں نے کہا تھا کہ اس نے آور برمی پائتھن کو پکڑا ہے اور اس کی تعداد کم کریں (فوٹو: فائل)

فلوریڈا: فلوریڈا کی حکومت تیزی سے بڑھتی ہوئی چیزوں سے دوچار ہے پکا کر رہا ہے اس کے ساتھ ہی اس کی اہلیت کی تعداد کم ہوسکتی ہے۔

فلوریڈا کی خواتین ڈونا کیلشیل تین برسوں میں ایک لمبے ترین ” برمی پائتھن ” کھچکی ہیں جو اس علاقے میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ جنوبی فلوریڈا میں پانی کی انتظامی انتظامیہ اور دیگر لوگوں کا کہنا تھا کہ لوگ برمی پائتھن مار کو کھودیں گے اور انہیں بہت خوشی ملے گی۔

ان ایوڈینز کو فلوریڈا میں ‘گھس بیٹھیے (انویزو) جانور’ کا علاج کیا تھا جس سے دیگر مقامی انواع خطرہ ہوتے ہیں اور غذائی زنجیرمتاثر والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح فلوریڈا میں مچھلیوں اور جنگلی حیات کمیشن کے ترجمان کارلی سیگلسن نے کہا تھا کہ ان اژدہیوں کا گوشت کھانے سے موزوں اور محفوظ ہے۔

اس سے پہلے کہ فلوریڈا کے لوگ غیر ضروری جانور ہیں جن میں پہلے بھی بہت کم جانور تھے جن میں لائن فش اور ایگوانا بھی شامل تھے۔ کبھی ماہرین کا خیال ہے کہ برمی پائتھن میں پارے کی آلودگی ہوسکتی ہے اور اس کا اعصابی زہر بھی انسانوں کے لئے خطرناک ہے۔

اب اس تناظر میں ایک بڑی تحقیق بھی ہے اور برمی پائتھن کے گوشت کا ٹکڑا تجربہ کرنے والے صارفین بھی جائز ہیں جن کے بارے میں کچھ لوگوں کو بھیجا گیا ہے اور اس سے متعلق مشاورتی رپورٹ کے بعد وہ فلوریڈا کے لوگوں کی کتاب میں شامل ہیں۔ نہیں۔

جن لوگوں کو پیتھن نہیں دیا جاتا ہے ، وہ پریشر ککر میں 10 سے 15 منٹ تک عبادت کرتے ہیں اور اس میں ادرک ، پیاز ، تیز اور ساس وغیرہ بڑھ جاتے ہیں۔

دوسری امریکی امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اتھارٹی کے ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کے ماہرین نے اپنے تجربے کی بناء پر کہا ہے کہ کوئی بھی کسی حصے میں 10 حصوں میں سے 10 لاکھ پارہ (مرکری) ہوتو اس کی جان بچانے کے لئے محفوظ رہتا ہے۔ 100 گنا بڑی ہوسکتی ہے۔

حال ہی میں ایک اور انکشاف ہوا ہے کہ جنوب مغرب میں فلوریڈا اور شمالی علاقوں کے شمال میں واقع برمی پائپھن میں قدرتی پانچ حصے فی دس لاکھ ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here