علی ظفر نے 2014 لندن میں پاکستانی فیشن شوز کے دوران ہراساں کیا ، عورت کا قبضہ فوٹو: فائل

علی ظفر نے 2014 لندن میں پاکستانی فیشن شوز کے دوران ہراساں کیا ، خاتون کا فوٹو فوٹو: فائل

کراچی: معروف گلوکار علی ظفر کی عورت سے ہراسانی کی قید کی فراہمی 50 منصوبے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے؟

سندھ ہائی کورٹ میں لینا غنی نامی عورت کی طرف سے معروف گلوکار علی ظفر کا مقابلہ 50 سالانہ ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہوا ہے جس میں علی ظفر نے بتایا تھا کہ لندن لندن میں ایک امریکی فیشن شو کے دوران حراساں اور جون 2014 2014 میں 2 مرتبہ پھر اس طرح کی نازیبا گفتگو کی ، علی ظفر نے جولائی 2014 میں کافی حد تک کام کیا تھا جس میں ان کی شائستگی سے انکارکا بھی تھا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 19 مارچ 2018 کو گلوکارہ میشا شفیع اور اداکارہ صباء قمر نے بھی علی ظفر کو حراساں کرنے کے لئے قید کی فراہمی کا مطالبہ کیا ، درخواست گزار نے اس کی اپنی بہن اور گھر کو بھی آگاہ کیا جب علی ظفر نے 20 دسمبر کو درخواست دی۔ 2020 کا ریجنٹ اور 22 دسمبر کا جلسہ جھوٹ پر مبنی ہے لہذا علی ظفر کی جماعتیں کو بد نیتی پر مبنی معاہدہ کیا۔

درخواست گزار نے اس منصب کے بارے میں دعویٰ کیا تھا اور علی ظفر کی مہم میں لینا غنی کا ہاتھ تھا ، دونوں خطوط لینا غنی کی ساکھ کو کوٹھے پہنچ گئیں اور ان کی نظروں میں نیچا کی تلاش کا معاملہ پیش آیا۔ کسی بھی آن لائن مہم کا حصہ نہیں ہے۔

درخواست دے رہے ہیں کہ علی ظفر کو میڈیا میڈیا میڈیا آن لائن ، ٹی وی چینلز کے مواد اور خبروں سے چھپانے سے روکا ، خدشہ ہے اور مجھ سے متعلق خبروں کی اطلاع ہے۔ کا میشا شفیع سے کوئی رشتہ نہیں ہے ، علی ظفر سے 50 منٹوں میں معاوضہ دلوایا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ سیسن جج لاہور کے علی ظفر کوٹ 25 جنوری کو نوٹس جاری ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here