ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری حکمت و خطابت دونوں اعتبار سے ممتاز ہے۔ کلامِ اقبال میں خطیبانہ رنگ کی قوی تر نمود ان کے عسکری آہنگ کی وساطت سے ہوئی ہے۔ یہ بات مُسلّم ہے کہ علامہ کے پیغام و کلام کی معنویت تک رسائی کے لیے ان کے فکری ارتقا کو سمجھنا ضروری ہے۔

’’بانگِ درا‘‘ سے ’’ارمغانِ حجاز‘‘ تک اقبال جن ارتقائی مدارج سے گزرے ان کی تفہیم کے بغیر شعرِ اقبال کی کامل تفہیم نہیں ہو سکتی۔ اقبال کے تمام تر تصورات و نظریات یعنی خودی و بے خودی، عشق و عقل، تصور انسانِ کامل ، تصورِ فقر و قلندریت اور جہد و حرکت پر مبنی تصورات اس امر کا بخوبی اطلاق ہوتا ہے۔ اقبال کے عسکری آہنگ کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی اس تدریجی ارتقا کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہاں مبارزت کے عناصر بتدریج نکھرتے ہیں اور اقبال نے جا بجا منفرد فضائیں ترتیب دی ہیں۔ ’’بانگِ درا‘‘ میں ۱۹۰۵ء تک اس ضمن میں وطنیت و قومیت پسندی کی فضائیں ملتی ہیں اور ’’ترانۂ ہندی‘‘ اور اس قبیل کی دیگر منظومات میں اس لحن کی اولین نمود ہوتی ہے جہاں وہ ہندوستان کو سارے جہاں سے اچھا گردانتے ہوئے اس کی پاسبانی پر تفاخر کرتے ہیں۔

تاہم ۱۹۰۸ء میں جب یورپ سے لوٹتے ہیں تو ان کے خیالات یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’’یورپ کی آب و ہوا نے مجھے مسلمان کر دیا۔‘‘ اب ان کے کلام کا رنگ نئے عسکری پیکر میں ڈھل گیا اور وہ وطنیت کے بجائے ملتِ واحدہ کا پیغام دینے لگے جو حدود و تغور سے ماورا ہے۔ رنگ، نسل، زبان اور خطے کی پابند نہیں بلکہ کلمۂ طیبہ لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ پر استوار ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔انھیں خود اس امر کا احساس ہے، چناں چہ فرماتے ہیں:

اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے

عشق کے دردمند کا طرزِ کلام اور ہے

وہ اس حقیقت سے باخبر کرتے ہیں کہ ترکِ وطن سنتِ محبوبِ الٰہی ہے اور ارشادِ نبوت پر گواہی دینا یہی ہے کہ اس مِلّی احساس سے خود کو ہم کنار کیا جائے۔ فارسی میں بھی فرمایا:

عقدۂ قومیتِ مسلم کشود

از وطن آقائے ما ہجرت نمود

چناں چہ اب ’’ترانۂ ہندی‘‘ ان کے ہاں ’’ترانۂ ملّی‘‘ میں بدل جاتا ہے اور مقامیت سے بلند تر ہونے کے نتیجے میں ان کے عسکری لہجے کی جھنکار اور للکار بھی شکوہ کی حامل ہو جاتی ہے۔

’’بانگِ درا‘‘ میں اقبال عسکری عناصر کی مدد سے ایسی فضائیں ترتیب دیتے ہیں کہ پڑھنے والے کے دل میں ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے وہ اپنے محبوب انداز یعنی ماضی کے کرداروں کے ذریعے عسکریت کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔

اس کی نمایاں ترین صورت مکالماتی رنگ و آہنگ میں مرقوم نظمیں ’’شکوہ‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ ہیں جہاں اقبال مسلمانوں کو ان کے شان دار ماضی کی جھلک دکھاتے ہیں اور قوت و شوکت کے سبھی عسکری تلازمے متحرک تمثالوں کی صورت یہاں جلوہ گر ہیں، مثلا:

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں

خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں

دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

____

کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی

کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے

پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے

تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بِگڑ جاتے تھے

تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے

زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

’’بانگِ درا‘‘ میں عسکریت کا یہ رنگ فی الحقیقت تہذیب و تاریخ مسلم سے ایک مکالمہ ہے۔ اس مجموعے میں جہد واستقلال پر مبنی اسلامی تاریخ کی روشن شخصیات کا تذکرہ متحرک کرداروں کی صورت میں ملتا ہے اور اکثر اوقات اقبال گرج دار اسلوب میں تاریخ کے مبارزین و مجاہدین کا تذکرہ کرتے ہوئے اس جذبے کا اظہار کرتے ہیں:

اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دُوں

مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا

’’بانگِ درا‘‘ میں اقبال کا رجزیہ آہنگ تلواروں اور شمشیروں کی وساطت ’ازخوابِ گراں خیز‘‘ کا سبق دیتا ہے۔ انہوں نے جنگجویانہ جذبوں کے حامل اسلامی تاریخ کے کرداروں سے متعارف کرایا ہے اور بعض اوقات پوری پوری نظمیں تاریخی اشخاص و واقعات پر رقم کی ہیں۔

ان نظموں میں ’’فاطمہ بنتِ عبداللہ‘‘، ’’محاصرۂ ادرنہ‘‘، ’’دریوزۂ خلافت‘‘، ’’جنگِ یرموک کا ایک واقعہ‘‘، ’’حضورِ رسالت مآبؐ میں‘‘ اور ’’شکوہ‘‘ و ’’جوابِ شکوہ‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ جب کہ جزوی طور پر ’’بانگِ درا‘‘ میں ان کے پیش کردہ تصورات عشق و خرد، خودی و بے خودی اور مردمومن و فقر کے حوالے سے رقم کیے گئے اشعار میں عسکری رنگ و آہنگ ملتا ہے، مثلاً:

وہ چشم پاک میں کیوں زینتِ برگستواں دیکھے

نظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابی

____

اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

____

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

____

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں

____

مصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر

شبستانِ محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا

’’بالِ جبریل‘‘ میں حرب و ضرب پر مبنی عسکری عناصر اقبال کے شعریت پر مبنی رنگ کی آمیزش سے جداگانہ لطف دیتے ہیں۔ یہاں غزلیات و رباعیات کے ساتھ ساتھ ان کی منظومات میں بھی مبارزت پر مبنی الفاظ و پیکر ملتے ہیں۔

یہ کہا جا سکتاہے کہ ’’بانگِ درا‘‘ میں مرقوم عسکریت پر مبنی تاریخی رنگ یہاں رمزیت و علامت کے پیکر میں ڈھل گیا ہے اور اقبال اپنے شعرپاروں میں طنز کی کاٹ پیدا کرتے ہوئے عسکری عناصر سے فکری جہتیں ابھارتے ہیں۔ ایسے اشعار علامتی معنویت کے حامل ہیں اور ان میں اقبال کی شاعرانہ لے تیز تر ہے:

دلوں کو مرکزِ مہر و وفا کر

حریمِ کبریا سے آشنا کر

جسے نانِ جویں بخشی ہے تُو نے

اسے بازوئے حیدرؓ بھی عطا کر

____

مرے خاک و خوں سے تونے یہ جہاں کیا ہے پیدا

صلۂ شہید کیا ہے، تب و تابِ جاودانہ

____

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا

یہ سپہ کی تیغ بازی، وہ نگہ کی تیغ بازی

____

کوہ شگاف تری ضرب تجھ سے کُشادِ شرق و غرب

تیغِ ہلال کی طرح عیشِ نیام سے گزر

اسی طرح ’’ضربِ کلیم‘‘ کا جائزہ لیں تو اس کا عنوان ہی شاہد ہے کہ اقبال نے اپنے تمام تصورات و نظریات کو سادہ اور دو ٹوک اسلوب میں ایک خلاصے کی صورت میں پیش کر دیا ہے۔ آغاز میں مرقوم شعر ان کی فکریات کا نچوڑ ہے جس کی رُو سے وہ کہتے ہیں کہ فرد کو ضربِ کلیمی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے درکار ہے:

یہ زورِ دست و ضربتِ کاری کا ہے مقام

میدانِ جنگ میں طلب نہ کر نوائے چنگ

خونِ دل و جگر سے ہے سرمایۂ حیات

فطرت لہو ترنگ ہے غافل نہ جلترنگ

چناں چہ اس مجموعے میں اقبال کے نمایندہ تصوراتِ زیست کے ساتھ عسکری عناصر کی ہم آہنگی سے عجیب و غریب شعر پارے رقم ہوئے ہیںجو ایک فوجی کی زندگی کی سی سادگی و بے نیازی او رپُرکاری و پُراسراری رکھتے ہیں۔

اس ضمن میں ان کا قطعہ ’’آزادی شمشیر کے اعلان پر‘‘ بہت اہم ہے جہاں فقر کو توحید کے اسرار پر مبنی ایک تلوار گردانتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تجھے فقر کی یہ تلوار عطا کر دے جو فولاد کی شمشیرِ جگردار کی طرح ہے کیوں کہ :

قبضے میں یہ تلوار بھی آ جائے تو مومن

یا خالدِ جانباز ہے یا حیدرِ کرارؓ

اسی طرح اقبال نے اپنے بنیادی موضوعات یعنی توحید، خودی، حرکت و حرارت، تقدیر اور انسانِ کامل اور عشق و عمل کے بیان میں عسکری رمزوں کے استعمال سے بڑی مہارت سے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

خودی کا سرِّ نہاں لاالہ الااللہ

خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ

____

جس بندۂ حق بیں کی خودی ہو گئی بیدار

شمشیر کے مانند ہے بُرنّدہ و بُرّاق

____

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا

شباب جس کا ہے بے داغ ضرب ہے کاری

____

میں نے اے میرِ سپہ! تیرے سپہ دیکھی ہے

قل ھواللہ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام

____

ایسی کوئی دنیا نہیں افلاک کے نیچے

بے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تختِ جم  و کے

دل چسپ امر یہ ہے کہ بہ طور ایک شاعر اور فن کار وہ عسکری رمزوں کی وساطت سے فنونِ لطیفہ کے حوالے سے بھی ایک حقیقی، لافانی اور زندگی سے بھرپور تصور دیتے ہیں۔ وہ تن کے رقص کے بجائے روح کے رقص کی بات کرتے ہیں کہ تن کا رقص عریانی و مدہوشی و بے کاری پیدا کرتا ہے جب کہ روح کے رقص میں ضربِ کلیم اللّٰھی پوشیدہ ہے۔ شمشیرِ خودی اسی سے تیز ہوتی ہے؛چناں چہ فرماتے ہیں:

بے معجزہ دُنیا میں اُبھرتی نہیں قومیں

جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here