ذہانت سے ذہانت سے اس کا مستقبل تیار نہیں ہوا ، 50 اوورز کی بیٹنگ کا نتیجہ 6 اضافی گیندوں کی بنیاد پر نکلنا تھا۔  فوٹو: فائل

ذہانت سے ذہانت سے اس کا مستقبل تیار نہیں ہوا ، 50 اوورز کی بیٹنگ کا نتیجہ 6 اضافی گیندوں کی بنیاد پر نکلنا تھا۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور زمبابوے کی ون ڈوئٹی جب اس کی ٹیم کو آسانی سے جیتنے کا موقع مل رہی تھی ، لیکن تیسرے میچ میں وہ تاریخ کا حصہ بن گیا تھا ، گوکہ ہارجیت کرکٹ کا حصہ ضرور تھا۔ ٹیم اس میچ میں بہت غلطیاں کرتی ہے۔

پہلے سب سے پہلے سپر اوور کی باتیں کرنی تھیں ، 50 اورورز کی بیٹنگ کا نتیجہ 6 اضافی بولیوں کی بنیاد پر نکلنا تھا ، عموماً ٹیموں میں سپر اوور میں اپنے کھلاڑیوں کو بیٹنگ بھیجنا ہے۔ یہاں پر پاکستانی ٹیم چوک ہو رہی ہے ، افتخار احمد اب تک بیٹنگ میں جانکاری نہیں دے رہے تھے ، منوا پائے نہیں تھے لیکن انھیں بھیجا گیا ، خوشی شاہ موجود تھا ، ان لوگوں کے پاس کوئی شک نہیں تھا ، پی ایس ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ کھیلوں کی پیش کش کرتا ہے لیکن اس کے علاوہ بین الاقوامی میچ کا الگ دباؤ ہوتا ہے۔

خوشگوار کا ڈیبیو ہوا اس موقع پر پورا اترنے والا تھا ، افتتاحی بالٹ پر آؤٹ ہوتا تھا ، دوسری بار خوشی بھی ہوتی تھی ، چاچا کھیل بھی ہوتا تھا ، زمبابوے سکندر رضا کی کوشش ہوتی تھی ، اس کی کوئی مشکل نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح اننگز صفر پر ختم ہوگئی اور زمبابوے کو فتح کا ایک رن درکار ہوگیا ، جیسے 2 رنز بنا کر حریف ٹیم کو 3 رنز کا ہدف دیا گیا تھا ، اس نے باآسانی حاصل کیا تھا ، بابر اعظم سنچری بنا ہوا تھا ، اس نے ریاض کو بھی فافٹی نہیں بنایا تھا۔ بنائی تھیم ، اگر وہ دونوں بیٹنگ پر آئے ہوئے تھے ، تو کچھ عرصہ پہلے مختلف مقامات پر یا بابر کے ساتھ حیدرعلی کو بھیجا جاتا تھا۔

اگر پاکستان نے 8 رنز بھی بنائے ہوئے تھے ، لیکن شاہین شاہ آفریدی فتح جیتنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ، لیکن زمبابوے کی جیت جیتنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ، لیکن ہم ورلڈکپ سپرلیگ میں نمبر ون پوزیشن پر بھی نہیں آئے ، اور 10 قیمتی پوائٹس ضائع ہوئیں ، مجھے یقین ہے۔ “اس شکست سے ٹیم مینجمنٹ نے سبق کو چھوڑ دیا ہے اور مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ حصہ لے لیا ہے ، لیکن اس میں بابر اعظم کی کارکردگی میں ایک بار پھر اچھی بات ہے ، اس کا بہت زیادہ جلدی ہونا خود کو شامل کرنا ہے۔ ہر دن گزرنے کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں حیرت کا اظہار ہوتا ہے۔

نوجوان بیٹسمین حیدر علی کو دیکھتے ہو وہ وہ بھی بہت آگے جاسکتے ہیں ، گوکا زمبابوے نے اس سے زیادہ رنز نہیں بنائے لیکن اس نے بتایا کہ شاہین شاہ آفریدی نے بھی ان کو متاثر نہیں کیا۔ وہ بھی تینوں طرز کی کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے ، زمبابوے سے تیسرے میچ میں محمد حسنین کو موقع ملا تو انھیں بھی 5 وکٹیں لے گئیں ، لوہا منوا لیا ، یہ نوجوان پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہے ، قومی ٹی 20 کپ میں بھی۔ کچھ نوجوان کھلاڑیوں نے اس کھیل کو ظاہر کیا ہے جو ملک میں ٹیلنٹ میں کمی کی امید نہیں ہے سلیکٹرز باصلاحیت کریکٹرز کو مواقع بھی امید نہیں رکھتے۔

اسی طرح سے منعقدہ قومی انڈر 19 ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ میں سندھ کی کارکردگی بھی اچھی طرح سے چل رہی ہے اور اس نے ٹائٹل جیت لیا ہے ، صوبائی انتخابات کراچی میں بھی اس سے بڑا ٹیلنٹ موجود ہے اور ان کی نظروں سے بھی وہ لوگ رہ سکتے ہیں جو ہمارا شہر ہے۔ یہ قائد اعظم ٹرافی کے میچز بائیو سیکیور ماحول میں جاری ہے ، اس کے بعد پی ایس ایل کے پلے آف اور فائنل بھی جاسکتے ہیں ، گوکہ ایک کھلاڑی کا مثبت کورونا امتحان تھا جس کا مجموعی طور پر ایونٹ آنے والا انتظام تھا۔ عالمی وبا نجانے کب ختم ہوگئی ، کبھی کبھی کرکٹ شروع نہیں کرنی تھی ، اس کے بورڈ کو مثبت قدم اٹھانا پڑا ہے ، امید نہیں ہے کہ تمام میچزکا انعقاد کی سرگرمیاں ہیں۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ اب پاکستان کی سلامتی سے متعلق غیرملکی ٹیموں کے اعتماد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، زمبابوے کی ٹیم یہاں آئی آئی ، جنوبی افریقی وفد کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار خیال کرتی ہے ، امید ہے کہ آئندہ سال کی ٹیم بھی ان کا مقابلہ کرتی ہے۔ گیڈ ، انگلینڈ کا کوئی مثبت اشارہ نہیں ہے ، پی ایس ایس ایل بقیہ میچز میں بھی غیرملکی اسٹارکز ہیں ، ان میں سب سے اہم فاف ڈوپلیسی کا کہنا ہے ، ملکی علاقوں کو دوبارہ آبادی دیکھنا بہت خوشی کی بات ہے ، سیکیورٹی ایجنسیوں نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ ملک میں امن اور امان کے لئے جانے والے بڑے قربانیوں کو دیں۔

کھیلوں کے نوجوانوں کو منفی سرگرمی کی دکانوں سے بچانے کی مشقیں ، اپنی سرزمین پر غیرملکی اور مقامی اسٹارز کو ایک دن میں دیکھتے رہنا تھا کہ کرکٹ بھی نئی نسل کے ساتھ چل رہی ہے ، گوکہ ابھی کورونا کی وجہ سے شائقین کو اسٹیٹیمز کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اس وقت جب یہ عالمی وبا سے دنیا کے نجات کے حصے اور حالات نارمل ہوں گے ، تو کرکٹ سے محبت کرنے والوں کو شائقین اسٹیٹیم جاکر نے بھی کھیل سے لطف اندوز کیا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here