’’اپنے وطن سے ہمیشہ مخلص رہو…مگر حکومت ِوقت کا ساتھ تبھی دو جب وہ اس کی مستحق ہو۔‘‘(امریکی ادیب،مارک ٹوین)

٭٭

دور حاضر میں عوامی نمائندے المعروف بہ سیاست داں،فوج،بیوروکریسی ،عدلیہ اور میڈیا ایک ریاست کے بنیادی عناصر شمار ہوتے ہیں۔جن ملکوں میں ان عناصر کے مابین ہم آہنگی اور اشتراک ہو،وہ معاشی،سیاسی،معاشرتی اور عسکری طور پہ مضبوط ہوتے ہیں۔

جن ممالک میں ان اداروں کے درمیان ہم آہنگی مفقود ہو، وہ معاشی،سیاسی اور معاشرتی طور پر ترقی نہیں کر پاتے۔مثال کے طور پہ چین کو لیجیے۔1978ء تک چین میں سیاست دان، جرنیل اور افسر شاہی مختلف باہمی اختلافات کا شکار رہے اور ان میں ہم آہنگی جنم نہ لے سکی۔

اسی لیے مملکت بھی معاشی و سیاسی لحاظ سے مستحکم نہ ہوئی ۔1978ء کے بعد چین میں پائیدار حکومت وجود میں آئی تو ریاست کے تمام عناصر مل جل کر،تال میل کے ساتھ کام کرنے لگے۔نتیجہ یہ نکلا کہ صرف چالیس برس  میں چین معاشی وعسکری طور پر دنیا کی سپرپاور بن گیا۔

سّکے کے د و رخ

چین عددی لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی افواج رکھتا ہے۔ چین میں سول ملٹری تعلقات بڑے منفرد اور انوکھے ہیں کہ وہاں کی حکمران کمیونسٹ پارٹی اور مسلح افواج ایک ہی سّکے کے دو رخ  اور لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔وجہ یہ کہ 1927ء میں جب چین میں کمیونسٹ پارٹی اور قوم پرستوں (کومنتانگ) کے مابین خانہ جنگی شروع ہوئی تو بہت سے مزدور‘ کسان اور عام افراد جنگی تربیت پا کر اس کا حصہ بن گئے۔ گویا کمیونسٹ پارٹی کی فوج میں باقاعدہ فوجیوں کے ساتھ عوام بھی شامل تھے۔

1949ء میں جب کمیونسٹوں نے جنگ جیت کر حکومت بنائی تو اپنی فوج کو ’’پیپلز لبریشن آرمی‘‘ کا نام دے کر اسے ملکی دفاع سونپ دیا۔ مگر اس فوج کا پہلا مشن یہ ہے کہ چین میں کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار کو مستحکم و مضبوط کرنے میں سیاست دانوں کی مد د کرے۔ چین میں آئینی و قانونی طور پر افواج ملک و قوم نہیں کمیونسٹ پارٹی کی ماتحت ہیں۔

چین میں سول ملٹری تعلقات کے اصول و قوانین پہلے چینی حکمران ماؤزے تنگ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ترتیب دیئے تھے۔ پہلا اصول یہ کہ پیپلز لبریشن آرمی کے تمام جرنیل سول حکومت کے احکامات تسلیم کریں گے۔ پچھلے چالیس برس سے اس اصول پر سختی سے عمل ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے‘ چین میں اب شاذو نادر ہی کسی پالیسی پر ادارہ جاتی اختلافات پیدا ہوتا ہے۔ پیپلز لبریشن آرمی کے معاملات ایک ادارہ ’’سنٹرل ملٹری کمیشن‘‘ دیکھتا ہے۔ یہ کمیونسٹ پارٹی کے سب سے طاقتور ادارے‘ سنٹرل کمیٹی کا اہم ترین ادارہ ہے۔

سنٹرل ملٹری کمیشن کا سربراہ چین میں طاقتور شخصیت مانا جاتا ہے۔ ادارے کے موجودہ سربراہ چینی صدر ‘ زی جن پنگ ہیں جبکہ بقیہ سبھی ارکان بری فوج‘ فضائیہ اور بحریہ کے جرنیل۔ چینی صدر ان جرنیلوں کے صلاح مشورے سے قومی عسکری پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ خارجہ امور میں بھی جرنیلوں سے مشورہ کیا جاتاہو۔درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ چین میں سول ملٹری تعلقات پیچیدہ نہیں کیونکہ انہیں برتنے کے اصول کئی سال پہلے وضع ہو چکے ۔ مزید براں چین میں ریاست کے سبھی عناصر  کا مطمع نظر یہ ہے کہ کمیونسٹ حکومت کو معاشی و سیاسی طور پر مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے۔اسی لیے ان کے مابین سنگین اختلافات جنم نہیں لیتے۔ اگر کوئی پالیسی اختلاف پیدا ہو بھی تو وہ عموماً نمایاں نہیں ہوتا کیونکہ چین میں میڈیا پر حکومت کا کنٹرول ہے۔

2014ء میں جب صدر جن پنگ برسراقتدار آئے تو انہوں نے حکومت میں پائی جانے والی کرپشن کے خلاف زبردست مہم کا آغاز کیا۔ان کا نعرہ تھا: ’’مکھیوں سے لے کر  شیروں تک کو دبوچ لو۔‘‘پیپلز لبریشن آرمی بھی اس مہم کی زد میں آ ئی۔ چینی افواج میں ملازمتوں اور عہدوں کی خرید وفروخت کرپشن کا  بڑا ذریعہ تھی۔ دیہات اور قصبوں میں مقیم نوجوان خصوصاً فوج میں ملازم ہونے کی خاطر ہزار ہا ین بطور رشوت دے ڈالتے تھے۔ صدر جن پنگ نے اسی چلن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دیا۔

2014ء سے تاحال جاری رہنے والی اس کرپشن مخالف مہم کے ذریعے فوج، افسرشاہی، عدلیہ، سیاست اور کاروبار کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی ہائی پروفائل شخصیات گرفتار ہو چکیں۔ ان میں سے اکثر افراد جیلوں میں قید سزا بھگت رہے ہیں۔ 2014ء میں انہی بے ضابطگیوں کے الزامات پر سنٹرل ملٹری کمشن کے دو وائس چیئرمین گرفتار کر لئے گئے۔ جنرل گوبوکسی اونگ اور جنرل زوکاہو پر رشوت لے کر عہدے دینے کا الزام تھا جو تحقیقات سے درست ثابت ہوا۔دونوں جنرلوں پر مقدمہ چلا۔ جنرل زوکاہو تو کینسر کے باعث جلد چل بسا، جنرل گوبوعمر قید کی سزا بھگت رہا ہے۔ ان دونوں کے علاوہ مزید دس اعلیٰ فوجی افسر کرپشن کے الزام میں حوالۂ زنداں کیے جا چکے۔ کرپشن مخالف مہم کے باعث چین کی افواج میں زیادہ شفافیت آئی ہے اور اب وہاں کم ازکم اعلیٰ سطح پر رشوت کا چلن موجود نہیں رہا۔

 ریاست کے نگران ومحافظ

زمانہ قدیم سے دنیا کے ہر ملک میں جرنیل حکومت سازی میں شریک رہے ہیں۔ ماضی میں تو اکثر حکمران خود جرنیل تھے مثلاً حمورابی، سائرس اعظم، اسکندر اعظم،دارا اول، جولیس سیزر وغیرہ۔   نبی کریم ﷺ بھی کفار مکہ سے نبردآزما رہے اور اسلامی لشکر کی قیادت فرمائی۔ایک ریاست میں افواج کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ وہ ہی دفاع و تحفظ،سلامتی اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے،جمہوریت کا بول بالا ہونے کے باوجود آج بھی افواج کی اہمیت کسی بھی ملک میں کم نہ ہو سکی۔دور جدید میں یہ نظریہ سکہ رائج الوقت بن چکا کہ ہر ملک میں عوام کے نمائندوں (سیاسی رہنماؤں)کو حکومت میں زیادہ اختیارات اور طاقت حاصل ہونی چاہیے جو الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچتے ہیں۔

مگر جب یہ عوامی نمائندے کرپٹ ہو جائیں،ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دیں یا نااہل ہوں تو قدرتاً صحیح طرح حکومت نہیں کر پاتے۔تب گڈ گورنس نہ ہونے سے مملکت سیاسی،معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار رہتی ہے۔ایسی صورت میں اکثر فوج اور حکومت کے درمیان کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ دفاعی ادارے مملکت کو زوال پذیر ہوتا دیکھ کر خاموش نہیں رہ پاتے۔عوامی نمائندوں کی کرپشن یا نااہلی کے سبب ماضی میں جرمنی،برطانیہ،فرانس،اسپین اور کئی ایسے ملکوں میں بھی فوجی حکومتیں رہیں جہاں آج مضبوط جمہوری حکومت قائم ہے۔مثلاً برطانیہ میں 1653ء تا 1658ء دو جرنیل،اولیور کرامویل اور رچرڈ کرامویل حکومت کرتے رہے۔فرانس میں 1797ء تا 1814ء فوجی لیڈر،نپولین بونا پارٹ برسراقتدار رہا۔جرمنی میں فوج نے 1916ء تا 1918ء مارشل لالگائے رکھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ اور شمالی امریکا میں جمہوریت نے جڑ پکڑ لی اور  اصول وقوانین پہ مشتمل ایسا نظام سامنے آیا جس نے ریاست کے ہر عنصر کے اختیارات اور فرائض متعین کر دئیے۔یوں یورپی و امریکی ملکوں میں خصوصاً سول ملٹری تعلقات لگے بندھے سانچے کے مطابق انجام پانے لگے۔اس نظام نے ان ممالک کو معاشی و سیاسی طور پہ طاقتور بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔لیکن کئی ایشیائی ،افریقی اور لاطینی امریکا کے ممالک میں سول ملٹری اختیارات متعین نہ ہو سکے۔

اسی لیے ان ملکوں میں سیاست دانوں،جرنیلوں،سرکاری افسروں اور ججوں کے مابین زیادہ سے زیادہ  اختیارت  پانے کی کشمکش نے جنم لیا۔خاص طور پر جب کسی ملک میں عوامی نمائندے کرپٹ یا نااہل ہوتے اور درست طریقے سے حکومت نہ کر پاتے تو آخرکار جرنیل ان کا تختہ الٹ دیتے۔تب عموماً عوام اپنے نمائندوں کی کرپٹ حکمرانی سے اتنے تنگ آئے ہوتے کہ وہ جرنیلوں کی پذیرائی اور خوشی خوشی ان کا استقبال کرتے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد کئی ملکوں میں ایسے واقعات پیش آئے جب عوامی نمائندوں اور جرنیلوں کے مابین حکومت چلانے کے طریق کار پر زبردست کشمکش رہی۔ان میں مصر، ترکی، پاکستان، شام، عراق، نائیجیریا، سوڈان،تھائی لینڈ،پیرو،بولیویا اور وسطی افریقا نمایاں ہیں۔

ریاست میں افواج کی بنیادی ذمے داری مگر دفاع کرنا ہے۔ حکومت چلانا ملکی دفاعی ذمہ داریوں سے بالکل مختلف کام ہے۔اسی لیے تقریباً سبھی درج بالا ملکوں میں جرنیل صحیح طرح حکومت نہیں کر سکے اور فوجی حکومتوں سے نئے مسائل نے جنم لیا۔بعض فوجی افسر کُلی اختیارات پا کر آمر بن گئے اور اپنی خودساختہ پالیسیوں سے الٹا ملک وقوم کو نقصان پہنچا بیٹھے۔

یہی وجہ ہے،اکیسویں صدی میں یہ چلن ہو چکا کہ خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں جرنیل خود اقتدار سنبھالنے کے بجائے پس پردہ رہتے ہوئے کرپٹ اور نااہل عوامی نمائندوں کو راہ ِراست پہ لانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر کوئی سیاسی حکمران خود کو عقل ِکل سمجھنے لگے اور جرنیلوں کی تجاویز ومشورے خاطر میں نہ لائے تو پھر وہاں سول ملٹری تعلقات خراب ہی ہو تے ہیں۔اسی عجوبے کی ایک مثال  سپرپاور امریکا میں سامنے آچکی ہے۔

ٹرمپ اور امریکی جرنیل

الیکشن 2016ء میں کامیاب ہوکر نئے حکمران‘ ڈونالڈ ٹرمپ نے کئی سابقہ  جرنیلوں کو اپنے گرد اکٹھا کر لیا ۔ٹرمپ  کاروباری تھے مگر سیاست کے میدان میں بھی داخل ہوئے اور خلاف توقع اپنے معاصرین کو پچھاڑ کر صدر بننے میں کامیاب رہے۔اب وہ جرنیلوں  کی رہنمائی و مشوروں سے بھی کار ِمملکت چلانا چاہتے تھے۔ وجہ یہ کہ امریکا میں سبھی شہری اپنی افواج کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ  ملک و قوم کا دفاع کرتے ہوئے جرنیل سے لے کر سپاہی تک اپنی جان بھی دے سکتا ہے تاکہ شہری آرام و سکون کی زندگی گزار سکیں۔

ہر سال امریکی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ افواج اور دیگر دفاعی وعسکری معاملات کے لیے ہی مختص کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے‘ خصوصاً جب بھی امریکا میں صدارتی الیکشن منعقد ہوں تو امیدوار جوانوں اور جرنیلوں کی حمایت پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً حالیہ انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے قرار دیا کہ اگر نتائج ان کی خواہش کے برعکس ہوئے تو وہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اس پر معاصر امیدوار‘ جوبائیڈن نے کہا: ’’ اگر ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے نہ نکلے تو فوج انہیں  نکال باہر کرے گی۔‘‘

ٹرمپ حکومت کے پہلے سال کئی وزیر اور مشیر سابقہ فوجی افسر تھے‘ لیکن رفتہ رفتہ صدر کے  افواج سے تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔پچھلے چند ماہ کے دوران تو وہ انتہائی کمتر سطح پر پہنچ چکے۔ وجہ صدر ٹرمپ کے متنازع اور ملٹری مخالف بیان ہیں۔حالیہ ماہ ستمبر میں امریکی میڈیا  نے خبر دی کہ 2017ء میں فرانس کا دورہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پہلی جنگ عظیم لڑنے والے امریکی فوجیوں کو ’’جونکوں‘‘ (Sukers) اور ’’شکست خوردہ‘‘ (Losers) سے تشبیہ دی تھی۔ اس انکشاف پر امریکا میں ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا اور عوام نے ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کو قسم کھا کر کہنا پڑا کہ یہ جھوٹ ہے‘ انہوں نے یہ الفاظ نہیں کہے۔

بعدازاں وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وہ اپنی افواج پر برس پڑے۔ پہلے انہوں نے جو بائیڈن کو جنگجو قرار دیا جو بیرون ملک نت نئی جنگیں چھیڑنا چاہتا ہے۔ پھر ان کی توپوں کا رخ اپنے جرنیلوں کی سمت ہو گیا۔ ٹرمپ نے کہا:’’یہ کہنا غلط ہے کہ فوج مجھ سے پیار نہیں کرتی، عام فوجی مجھے بہت چاہتے ہیں۔ لیکن پینٹا گون میں بیٹھے جرنیل مجھے پسند نہیں کرتے۔ وجہ یہ کہ  وہ صرف جنگیں چھیڑنا چاہتے ہیں۔ مقصد یہ  کہ جو کمپنیاں بم‘ ہوائی جہاز اور سارا اسلحہ  بناتی ہیں‘ وہ خوش رہ سکیں۔ لیکن میں بے نتیجہ جنگیں ختم کرنا چاہتا ہوں۔ بعض لوگ (جرنیل) مگر یہ جنگیں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں گھر آنا پسند نہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ حکومت (جنگوں پر) پیسا خرچ کرتی رہے۔‘‘

ماضی قریب میں کسی امریکی صدر نے اپنی افواج کو ایسی شدید تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ اسی باعث امریکی میڈیا نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ اور اعلیٰ جرنیلوں کے مابین گہرے اختلافات جنم لے چکے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بیان دیا کہ صدر ٹرمپ نے جرنیلوں نہیں ’’ ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس‘‘ پر تنقید کی ہے۔ ادھر امریکی بری فوج کے سربراہ‘ جنرل جیمز میکنویل کا بیان آیا: ’’ فوج سیاست سے دور رہنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ لیکن میں امریکی قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ملٹری لیڈر شپ صرف اسی وقت کوئی جنگ چھیڑنے کی منظوری دیتی ہے جب ملک و قوم کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے۔تب آخری چارہ کار کے طور پر ہمیں ہتھیار اٹھانے پڑتے ہیں۔ ہم نہایت غور وفکر کے بعد ہی یہ قدم اٹھاتے ہیں۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ امریکی افواج کھلے عام سیاست میں حصہ لینے سے پرہیز کرتی ہیں۔ ماہ جون میں امریکی سیاہ فام‘ جارج لائڈ کے قتل پر احتجاجی مظاہرہ کرنے والے امریکی شہریوں نے وائٹ ہاؤس کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ تب سکیورٹی فورسز نے زبردستی انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ کچھ دیر بعد صدر ٹرمپ امریکی افواج کے جوائنٹس چیف آف سٹاف ‘ جنرل مارک ملی کے ساتھ ایک چرچ کی جانب جاتے دیکھے گئے۔ جنرل ملٹری وردی میں ملبوس تھے۔ اس موقع کی شائع ہونے والی تصاویر سے یہ تاثر ابھرا آیا کہ جاری تنازع میں افواج صدر ٹرمپ کا ساتھ دے رہی ہیں۔

لیجیے جناب ‘ امریکا میں سابق جرنیلوں اور ارکان سول سوسائٹی  نے جنرل مارک ملی پر شدید تنقید کر ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل صاحب کو ایک سویلین تقریب میں یونیفارم پہن کر شرکت نہیں کرنا چاہیے تھی۔ ان کے اس اقدام سے یہ خطرہ جنم لے چکا کہ افواج قومی سیاست میں دخل دینے لگی ہیں۔ جنرل مارک ملی پر تابڑ توڑ اتنے حملے ہوئے کہ انہیں صدر ٹرمپ کے ساتھ چلتے ہوئے تصویر کھینچوانے پر اپنی قوم سے باقاعدہ معذرت کرنا پڑی۔

امریکا میں رواج ہے کہ افواج کے حاضر جرنیل عموماً سیاسی و خارجہ امور پر بیان نہیں دیتے مگر سابق جرنیلوں کے بیانات آتے رہتے ہیں۔ امریکی عوام ان سابق جرنیلوں کے بیان کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہ جرنیل اگر کسی معاملے کی مخالفت کر دیں‘ تو امریکی عوام کی اکثریت بھی اس کی مخالف بن جاتی ہے۔ اسی طرح سابقہ جرنیل کسی معاملے کے حمایتی ہوں‘ تو عوام میں بھی اسے قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اسی باعث خصوصاً صدارتی الیکشن کے دوران امریکی سیاست داں اپنے سابق و حاضر جرنیلوں کے بیانات کو سنجیدگی سے لیتے اور اور اہمیت دیتے ہیں۔یہ مگر سچ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح سپر پاور امریکا میں بھی سیاست دانوں اور جرنیلوں کے تعلقات میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ امریکی جرنیل بیرون ممالک امریکا کا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

جب کوئی غیر امریکی مفادات کو نقصان پہنچائے تو وہ اس پر حملہ بھی کر ڈالتے ہیں۔ تاہم بعض سیاست داں مثلاً ٹرمپ اندھا دھند جنگیں چھیڑنے کو پسند نہیں کرتے۔ ایک بڑی وجہ یہ  کہ جنگی اخراجات نے امریکا کو کھربوں ڈالروں کا مقروض بنا دیا ہے۔ امریکی عوام اب ٹیکسوں کی اپنی رقم  جنگ کی بھٹی میں نہیں جھونکنا چاہتے۔ ٹرمپ عوام کی حمایت پانے کے لیے ہی خود کو بطور امن پسند اور جنگ مخالف رہنما  اجاگر کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ پچھلے چار سال میں سول ملٹری تعلقات کے پل صراط پر چلتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کردار متناقص اور انوکھا رہا ۔ ایک طرف وہ افغانستان‘ شام اور عراق سے امریکی فوج واپس بلانے کے اعلانات کرتے رہے۔ دوسری سمت انہوں نے ہر سال جنگی بجٹ میں اضافہ کیا اور پینٹاگون کو اربوں ڈالر سے نوازا۔ گویا افواج کے سلسلے میں صدر ٹرمپ کا رویہ گرگٹ کی طرح بدلتا رہا۔ وہ کبھی جرنیلوں پر مہربان ہوتے تو کبھی انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالتے۔صدر ٹرمپ کا نظریہ ہے کہ امریکا  غیروں کی جنگ میں نہ کودے۔ حتیٰ کہ وہ ملک و قوم کی خاطر جانیں دینے والے جوانوں کی بھی تضحیک کرتے ہیں۔ تاہم موصوف چمکتے دمکتے ملٹری  تمغوں‘ فوجی پریڈوں اور خطرناک ہتھیاروں کے دلداہ ہیں۔

پھر انہوں نے عوام کے سامنے خود کو بطور سخت‘ دلیر اور ایسا جارحانہ مزاج لیڈر پیش کیا جو عسکری معاملات جرنیلوں سے بہتر سمجھتا ہے… حالانکہ وہ وقتاً فوقتاً جنگ مخالف بیان بھی دیتے رہے۔صدر ٹرمپ کا نعرہ ہے:’’امریکا سب سے پہلے‘‘ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب مادر وطن کو ان کی ضرورت پڑی تو ٹرمپ دھوکے بازی اور جھوٹ بولنے پر اتر آئے۔ ویت نام جنگ جاری تھی تو انہیں بھی امریکی افواج کی جانب سے بلاوا آیا ۔ مقصد یہ تھا کہ وہ جنگی سرگرمیوں میں شریک ہو کر افواج کی مدد کر سکیں۔ لیکن صدر ٹرمپ نے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کر دیا اور جنگ کا حصہ نہیں بنے۔ یہ عمل ان کے دامن پر ایک اور دھبہ ہے ۔ ٹرمپ کے دادا بھی لازمی فوجی تربیت سے بچنے کے لیے جرمنی سے امریکا بھاگ آئے تھے۔

امریکا میں 4 نومبر کو صدارتی الیکشن منعقد ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے چند ماہ سے افواج کے خلاف بیانات دینے پر بہت سے امریکی فوجی صدر ٹرمپ سے ناراض ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ الیکشن میں انہیں ووٹ نہ دیں اور جوبائیڈن کو منتخب کرلیں۔ یاد رہے الیکشن 2016ء میں امریکی فوجیوں کی اکثریت نے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔دنیا کی اکلوتی سپر پاور میں آئینی طور پر مسلح افواج امریکی صدر کے ماتحت ہیں۔ امریکا میں صدرعوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے اور الیکشن کا طریق کار بھی صاف ستھرا ہے۔ اسی لیے امریکی صدر ایک طاقتور عہدہ ہے۔

تاہم یہ ممکن ہے کہ پس پردہ جرنیل ہی عسکری وجنگی پالیسیاں ترتیب دیتے ہوں ۔ بظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں سول حکومت  نے تشکیل دیا۔ یہ بہرحال طے ہے کہ امریکی حکومت کے ڈھانچے میں فوجی جرنیل بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ خصوصاً خارجہ امور انہی کے مشوروں اور تجاویز سے طے پاتے ہیں۔ گو صدر ٹرمپ جیسا غیر روایتی سیاست داں اپنے جرنیلوں کے فیصلے ویٹو بھی کر سکتا ہے۔ ٹرمپ تو اختلافات کے باعث اپنی حکومت میں شامل جرنیلوں کو گھر بھی بھجوا چکے۔

روس میں تعلقات خاصے خوشگوار

عسکری و معاشی لحاظ سے دنیا کی تیسری بڑی طاقت میں سول اور ملٹری تعلقات کی نوعیت چین سے ملتی جلتی ہے۔ ماضی میں روسی کمیونسٹ پارٹی جرنیلوں، سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کا مجموعہ  تھی لہٰذا یہ تینوں عناصر مل جل کر حکومت کرتے۔ جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوا تو چند سال افواج اور سیاست دانوں کے مابین تناؤ کی کیفیت رہی۔ ستمبر 1993ء میں جب روسی صدر بورس یلسن اور حزب اختلاف کے مابین تنازع اٹھ کھڑا ہوا تو فوج نے صدر کا ساتھ دیا تھا۔

وزیر دفاع ،پاول گراچف کی عملی مدد سے صدر بورس اپنی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔روسی افواج آئینی وقانونی طور پر روسی صدر کے ماتحت ہیں۔ چونکہ موجودہ روسی صدر پیوٹن خود بھی فوجی افسر رہ چکے ، اس لیے وہاں سول ملٹری تعلقات خاصے خوشگوار ہیں۔ پیوٹن ہر سال قومی بجٹ کا کثیر حصہ اپنی فوج کے اخراجات کی خاطر مختص کرتے ہیں۔ ان کی زیرقیادت روسی افواج نت نئے ہتھیار بنانے میں مصروف ہے۔ پچھلے ایک عشرے میں روس کی افواج ماضی کی مانند امریکی فورسز کے ہم پلہ ہو چکیں۔

بھارت:انوکھے سول وملٹری تعلقات

جب ہمارا پڑوسی ملک وجود میں آیا تو وہاں کئی نمایاں سیاسی شخصیات مثلاً گاندھی، نہرو، ابوالکلام آزاد، امبیدکر، راج گوپال اچاریہ وغیرہ موجود تھیں۔ انہی کی جدوجہد ہی سے بھارت کو آزادی ملی۔ ان طاقتور سیاسی شخصیات کے ہوتے ہوئے  مسلح افواج نہ صرف جمہوری حکومت کے ماتحت بن گئیں بلکہ بھارت میں انوکھے سول وملٹری تعلقات نے جنم لیا… یہ کہ بیشتر عسکری پالیسیاں سیاست دان اور سرکاری افسر تشکیل دینے لگے۔ عسکری معاملات میں سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کا عمل دخل زیادہ تھا۔

پنڈت نہرو سترہ سال وزیراعظم رہے۔ اسی دوران کسی  جرنیل کو ان کے احکامات سے سرتابی کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ البتہ 1962ء میں چین سے شکست کھا کر پنڈت نہرو کی خوداعتمادی بری طرح مجروح ہوئی۔ انہوں نے پھر نئی ملٹری پالیسی تشکیل دی۔ اسی پالیسی کے تحت خالص عسکری معاملات  جرنیلوں کے سپرد کر دئے گئے۔

بھارت میں افواج رسمی طور پر صدر مگر عملی طور پر وزیراعظم کی زیرکمان ہیں تاہم وفتاً فوقتاً جرنیلوں اور وزرائے اعظم کے مابین تناؤ اور گرماگرمی ہوتی رہی ۔مثلاً 1951ء میں جب پہلے بھارتی آرمی چیف جنرل کری آپا نے کچھ سیاسی بیانات دیئے تو پنڈت نہرو شدید ناراض ہو گئے۔ یہی وجہ ہے جب کری آپا 1953ء میں ریٹائر ہوئے تو نہرو نے سفیر بنا کر انہیں آسٹریلیا بھجوا دیا۔

نہرو نہیں چاہتے تھے کہ جنرل سیاست میں حصہ لیں۔1959ء میں وزیر دفاع کرشنا مینن اور آرمی چیف جنرل تھمایا کے مابین زبردست اختلافات نے جنم لیا ۔حتیٰ کہ آرمی چیف نے استعفیٰ دے دیا۔ نہرو نے سمجھابجھا کر جنرل تھمایا کو استعفیٰ لینے پر مجبور کر دیا تاہم پارلیمنٹ میں یہ اعلان ضرور کیا : ’’افواج کو ہر قیمت پر حکومت کے ماتحت رہنا چاہیے۔‘‘

جنگ 1962ء سے نہرو حکومت پسپا ہوئی تو آزادی پا کر جرنیل آپے سے باہر ہو گئے۔ اگست 1965ء میں پاکستان پر حملے کی خبر ایک دن پہلے کسی صحافی نے لیک کر دی۔ تحقیقات ہوئیں تو انکشاف ہوا کہ خود آرمی چیف جنرل چودھری نے یہ خبر افشا کی تھی۔ نہرو حکومت اپنے آرمی چیف پر سرعام تنقید کرنے کی بھی جرأت نہ کر سکی کیونکہ اس نے جرنیلوں کے معاملات میں داخل اندازی کرنا ترک کر رکھا تھا۔جرنیلوں کو حد سے زیادہ آزادی دے کر مگر نہرو حکومت نقصان میں رہی۔ جب جنگ 1965ء کے آخر میں جنگ بندی پر گفت وشنید ہوئی تو پنڈت نہرو اور وزیر دفاع نے جنرل چودھری سے بھی مشورہ کیا۔

بھارتی آرمی چیف نے بتایا کہ ہماری افواج بیشتر اسلحہ پھونک چکیں۔ بڑی تعداد میں ٹینک بھی تباہ ہو چکے لہٰذا جنگ بندی قبول کر لینی چاہیے۔ نہرو نے زیادہ چھان بین نہیں کی اور آرمی چیف کا مشورہ قبول کر لیا۔ بعدازاں سرکاری تحقیق سے انکشاف ہوا کہ بھارتی فوج کا 86 فیصد اسلحہ محفوظ تھا جبکہ بھارت پاکستان سے دگنے ٹینک رکھتا تھا۔ گویا عملی طور پر تب پاکستان کی پوزیشن  نازک تھی۔

بھارت کی تاریخ میں جرنیلوں کو سب سے زیادہ آزادی مگر مودی سرکار کے دور میں ملی۔وجہ یہ کہ نریندر مودی جنگجو لیڈر ہے۔اقتدار میں آتے ہی اس نے جنگی بجٹ میں اضافہ کر دیا۔اپنے جنرلوں کو تھپکی دی کہ وہ پاکستان اور چین کے خلاف تیزوتند بیان دیں۔نیز ان کے خلاف خفیہ وعیاں کارروائیاں کریں۔

اس پالیسی کے باعث بھارتی افواج کے سربراہ مودی حکومت کے حق میں بیانات دینے لگے اور انھوں نے خاصی حد تک خود کو جانبدار بنا لیا۔اب حالت یہ ہے کہ آئے دن بھارتی جرنیل سیاسی بیان دینے لگے ہیں۔مودی سرکار میں ان کا عمل دخل بھی بڑھ چکا۔اگر حالات یہی رہے تو ممکن ہے،مستقبل میں اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر بھارتی جرنیل اقتدار پر قبضہ کرنے کا سوچ لیں۔مودی نے ان کی توقعات اور خواہشات میں اضافہ کر دیا ہے۔وہ افواج کو اربوں ڈالر دے رہا ہے۔بعض بھارتی ماہرین کا دعوی ہے، اس حکمت عملی کی وجہ سے حکومت خود اپنے لئے مشکلات کھڑی کر رہی ہے۔

حرف آخر

وطن عزیز میں ازروئے آئین وقانون مسلح افواج حکومت کے ماتحت ہیں۔دفاع ِوطن ان کی بنیادی ذمے داری ہے۔مگر سیاست دانوں اور بیوروکریسی کی کوتاہیوں کے سبب جرنیلوں کو وقتا فوقتاً اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونا پڑا۔کتب ِتاریخ کا مطالعہ کیجیے،ہمارا قومی المیّہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ریاست کے عناصر میں ہم آہنگی جنم نہ لے سکی۔اس خرابی کی بنیادی وجہ یہ کہ وطن آزاد ہوتے ہی اقتدار اور اختیارات پانے کے لیے سیاسی رہنماؤں میں رسّہ کشہ شروع ہو گئی۔

وہ ذاتی مفادات پورے کرنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ان کے اختلافات دور کرتے کرتے قائداعظمؒ بستر سے جا لگے جبکہ لیاقت علی خانؒ گولیاں کھا کر شہید ہوئے۔سیاسی  نظام جب عوامی امنگوں پر پورا اترنے میں ناکام رہا اور ملک زوال پذیر و افراتفری کا شکار ہوا تو ناچار فوج کو حکومت اپنے ہاتھ میں لینا پڑی۔پچھلے تہتر برس کے تلخ تجربات سے مگر عیاں ہے کہ اگر پاکستانی قوم نے مملکت کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانا ہے تو سبھی ریاستی عناصر کو خلوص ِنیت،دیانت داری اور جذبہ حب الوطنی سے مل کر کام کرنا ہو گا۔

اسی اشتراک عمل سے مضبوط ومستحکم پاکستان وجود میں آئے گا۔لیکن ریاستی عناصر بدستور باہم دست وگریباں رہے تو ارض ِپاک کو طاقتور وتوانا بنانے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔قدیم افریقی روایت ہے:’’چیونٹیوں میں اتحاد ویک جہتی ہو تو وہ ہاتھی کو بھی شکست دے سکتی ہیں۔‘‘



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here