عالمی ادارہ برائے موسمیات کی رپورٹ کے مطابق انسانی تاریخ کا تیسرا گرم ترین سال 2020 گزرا ہے ، لیکن اس سال بارش ، طوفان ، جنگلات کی آگ اور دیگر دفاتر بھی موجود ہیں۔  فوٹو: فائل

عالمی ادارہ برائے موسمیات کی رپورٹ کے مطابق انسانی تاریخ کا تیسرا گرم ترین سال 2020 گزرا ہے ، لیکن اس سال بارش ، طوفان ، جنگلات کی آگ اور دیگر دفاتر بھی موجود ہیں۔ فوٹو: فائل

نیویارک: پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ ہوا اور کراچی کے ملکوں کی تاریخ میں بارشوں کی ریکارڈ ٹوپی ہوئی۔ آسٹریلیا اور کیلیفورنیا کی جنگلات میں آگ بھڑکتی رہی اور آرکٹک مستقل برف کم ترین سطح پرآگئی ، ایک سیلاب ، طوفان اور گرمی کی حدود میں بھی ریکارڈ کی گئیں جن میں سال 2020 کی قدرتی نوعیت کا کارنامہ شامل تھا۔

یہ تمام احوال عالمی موسمیاتی تنظیم (تقویم اور) سالگرہ کے اختتام پر اپنی ایک رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں دنیا کے سینکٹر ماہرینِ موسمیات اور دیگر مشاہدات اور تحقیقات پیش کرتے ہیں۔ 2016 اور 2019 کے بعد کا سال 2020 انسانی تاریخ تاریخی گرم ترین سال بھی ٹھیکیدیا گیا ہے۔ یعنی اب قبل ازیں صنعتی انقلاب کے مقابلے میں عالمی اوسط درجہ حرارت 1.2 درجے کی سینٹی گریڈ تک بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ مرتب والی والی ٹیموں نے پیٹیری تالابوں کو بتایا کہ اس سال لا نینا کا عالمی درجہ حرارت حرارت کم ہوا اور ہم نے گرمی کی غیرمعمولی واقعات نوٹ کیا۔ یہاں تک کہ ناروے کے علاقوں سے متعلق سوالات ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سن 2020 سے لے کر 2020 ء تک پوری تاریخ عشرہ تاریخ سے کہیں زیادہ گرمی تھی ، جو اس رپورٹ کی خلاصہ بھی ہے۔ اگرچہ لاک ڈاؤن ڈاڑن گاڑیاں اور کارخانے بند ہو گ لیکن لیکن فضا میں گرین ہاؤس گیس کی مقدار ایک نیا ریکارڈ بھی ہوگئی۔ خدشہ یہ ہے کہ 2024 قبل ازیں صنعتی دورے سے اوسط درجہ حرارت 1.5 درجے کی سینٹی گریڈ تک جاپہنیکی گئی تھی۔

محتاط انداز کے مطابق اس سال کا موسمیاتی تنازعہ اور سینکڑوں افراد سے تعلق رکھنے والے افراد ہمیشہ ہی رہتے ہیں اور لاکھوں افراد کوٹ کو عیاں کرتے ہیں یا مستقل طور پر اپنا مکان پڑھتے ہیں۔ آسٹریلیا کے آگ سے 33 افراد اور ایک ارب جانوروں کے کوٹ کے رہائشی علاقے میں رہائش پذیر لوگوں کے سینکڑوں افراد نے دھوکے اور گھٹنوں سے جانبر نہیں ہوسکے۔

اکتوبر میں کیلیفورنیا کی آگ سے 43 افراد جاہ بحق گئے اور جنوبی افریقہ کے سبھی جھیل پینٹینل میں پندرہ ماہ تک آگ بھڑکتی رہے۔ پھر ہوا میں عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر سائیکلون اور طوفانوں کا پتہ چلتا ہے اور امریکہ میں لارا نامی ہری کین سے 27 افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔ نومبر میں دس دن وقفے سے دو سمندری طوفان نمودار ہوئے اور افراد ہمیشہ رہیں۔

پاکستان میں ماہِ اگست نمی سے بھرپور ترین مہینہ گزرا ہے۔ 28 اگست کو کراچی میں 231 ملی میٹر بارش ہے جو ایک دن میں برسات والی ریکارڈ بارش ہے۔ اسی طرح کے ساتھ سندھ اور بلوچستان میڈی کے دلوں والے فصلوں کوغیرمعمولی کم بھیچایا۔

تاہم اس کی رپورٹ کے بعد ماہرین نے بتایا کہ ان ماہرین کے بارے میں مزید خطرناک صورتحال ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here