عشق کو تپتے ہوئے صحرا سے تشبیہ دینے والے عشاق بھی جاڑے سے دانت بجانے لگے۔فوٹو : فائل

عشق کو تپتے ہوئے صحرا سے تشبیہ دینے والے عشاق بھی جاڑے سے دانت بجانے لگے۔فوٹو : فائل

درخت کاٹنے پر کوئی پابندی کیوں نہیں؟
خانہ پُری
ر۔ ط۔ م

’سندھ ہائی کورٹ‘ کے مرکزی دروازے کے اندر بائیں جانب، جہاں گاڑیاں کھڑی کی جاتی ہیں، وہاں ایک بہت بڑے درخت کا ٹنڈ منڈ، بہت بڑا سا مضبوط تنا دیکھ کر ہم ٹھیرے بنا نہ رہ سکے۔۔۔ یہاں ایک عرصے سے برگد کا ایک نہایت وسیع وعریض اور گھنا پیڑ ہوتا تھا، جو کہ اب کاٹ دیا گیا ہے۔۔۔ ہم نے اداس کر دینے والے اس منظر کی شبیہہ کو اپنے موبائل میں محفوظ کر لیا۔۔۔

نہ جانے اس قدیم پیڑ کو کاٹنے کی کیا وجوہات رہی ہوں گی، لیکن ہمیں ایسا لگا کہ جیسے ریاست کے اِس ’ایوانِ عدل‘ کا ایک ’باریش‘ مکین زور زور سے اپنے اقدام قتل پر دُہائی دے رہا ہو۔۔۔ اور پاس سے گزرنے والے کالے کوٹ والوں کو پکار رہا ہو اور مظلوموں کو انصاف دینے والے منصفوں کو بلا رہا ہو کہ آئو، ذرا میرا مقدمہ بھی سن لو۔۔۔! میں تو تمہاری نگاہوں کے سامنے قتل ہوا پڑا ہوں، مجھے بتائو میرا قصور کیا تھا۔۔۔؟

بتائو کیا روزانہ چلچلاتی ہوئی دھوپ میں ہزاروں سائلین، وکلا اور جج دوڑ کر میرے سائے میں پناہ گزین نہیں ہوتے تھے۔۔۔؟ جب سر پر تپتا ہوا سورج سیاہ تارکول اوڑھی ہوئی سڑک سے گرم بھپارے نکالتا، تو تمھیں میری پناہ میں راحت نہیں ملتی تھی۔۔۔؟ روزانہ اِدھر سے اُدھر دوڑتے بھاگتے انصاف کے متلاشی ہزاروں لوگ جھلسا دینے والی گرمی میں میرے سائے میں سُکھ کا سانس لیتے تو میں خود پر ناز کرتا کہ میرا وجود ملک کے کتنے اہم ادارے میں ہے اور یہاں انصاف لینے اور انصاف فراہم کرنے والے، دونوں میری چھائوں میں آتے ہیں۔۔۔ میں تو اپنا سایہ ان ظالموں اور جابروں پر بھی نہیں روکتا تھا، جن کی وجہ سے ہزاروں مظلوم افراد عدالتی راہ داریوں میں رُل رہے ہوتے۔۔۔ لیکن پھر بھی مجھے بے دردی سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔۔۔!

انتہا تو یہ ہے کہ جو تیز دھارے آلے لیے مجھ پر وار کر رہے تھے، میں تو ان کو بھی آخر تک اپنی چھائوں دیتا رہا، تاوقتے کہ انھوں نے میرا ایک ایک انگ مجھ سے جدا کر ڈالا، میری تڑپ تو خیر انھیں کیا سنائی دیتی، انھوں نے تو ان معصوم پنچھیوں کا بھی کچھ نہ سوچا، جن کا مسکن میری شاخوں میں جما ہوا تھا۔۔۔ اور وہ میری گنجان ٹہنیوں کے باعث برسات اور تیز ہوائوں میں اپنے نازک آشیانے کو بہت محفوظ امان خیال کرتے تھے۔۔۔ لیکن ان کا یہ خیال خام ثابت ہوا، انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ ’انسانوں‘ کے دوش پر ہیں، بھلا کیسے ’محفوظ‘ ہو سکتے ہیں۔۔۔

سو مجھے کاٹ دیا گیا۔۔۔ پتا نہیں کسی کو میرے لکڑی کے وجود کی کوئی حاجت تھی۔۔۔؟ یا میں یہاں کسی عمارت کے ’حُسن‘ اور کسی ’ترقیاتی‘ منصوبے میں رکاوٹ بننے لگا تھا۔۔۔ باشعور لوگ تو درخت بچانے کی خاطر اپنے دیوار ودر کی بنیاد اور اُٹھان بدل دیتے ہیں، لیکن شاید یہاں کوئی بھی منصوبہ بناتے ہوئے یہ سوچا ہی نہیں جاتا کہ اس کی زد میں کوئی پیڑ تو نہیں آرہا۔۔۔؟ مجھے اپنی جان کا غم نہیں، نقصان تو تم انسانوں نے خود اپنا کیا ہے۔۔۔! مجھے کاٹ کر کوئی بھی وقتی فائدہ اٹھا لیا، لیکن اب درجۂ حرارت کو مہمیز کرتی ہوئی اِس آلودگی کا مقابلہ کیسے کرو گے۔۔۔؟ مجھے حیرت ہے کہ ایک چھوٹے سے بچے کو بھی اسکول میں یہ بات بتا دی جاتی ہے کہ درخت ہمارے سانس لینے کے لیے آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔

اس کے باوجود بھی شہر میں نہ جانے کتنے پیڑ سرِعام کاٹ دیے جاتے ہیں اور شاید ہی کوئی احتجاج کرتا ہو کہ درخت کاٹ کاٹ کر ہماری سانس تو نہ روکو۔۔۔ تعجب کی بات ہے کہ یہاں کسی شہری کی جان لے لینا، تو قابل گردن زدنی جرم ہے، لیکن کوئی بھی ہرا بھرا اور گھنے سے گھنا درخت کاٹ دیں، آپ سے کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا۔۔۔ حالاں کہ جب پیڑ کم ہونے سے آلودگی بڑھے گی، تو کتنی بیماریوں میں اضافہ ہوگا، جو پھر نہ جانے کتنے افراد کو موت کے منہ میں لے جائے گا۔۔۔ یہ بھی تو قتل ہے، لیکن اس کے باوجود بھی ہمارے ملک میں درخت کاٹنے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔۔۔ آخر کیوں۔۔۔؟‘‘

سرد ناکیاں
امجد محمودچشتی، میاں چنوں

یقیناً اس ’زمیستاں‘ کی سرد ناک سردی نے روایتی شعرا کو سردی کی بابت اپنے شعری نظریات سے ’یوٹرن‘ لینے پر ضرور مجبور کیا ہوگا۔ ماضی میں آتشیں حسد و عشق میں جلے بُھنے شعرا سرد اور برفاب موسم کو باعث راحت مانتے تھے۔ کبھی سرد ہوا یار کو یاد کرنے کا موجب بنتی، تو کبھی سردی کی آمد پر محبوب سے ملاقات کی بِنتی کی جاتی، جب کہ گرمیوں کو کسی نے بھی لائقِ تحسین نہ جانا۔ دسمبر کے تو اتنے گُن گائے گئے کہ وہ ناز سے اِترانے لگا اور کچھ مدت کے لیے ٹھنڈا ہونا بھی چھوڑ دیا۔

نہیں معلوم جنوری کی شان میں کیوں نہ لکھا۔ غالباً نحیف و ناتواں شعرا کے دسمبر کے اندر ہی کام بن یا پھر تمام ہو جاتے ہوںگے۔ ایک برس تو دسمبر اور جنوری نے یوں ایکا کیا کہ سب کو ’جاڑے‘ میں سردی سے پالا پڑگیا اور خورشید کا نورِ ظہور بھی عید کا چاند ٹھیرا۔ اندھا دھند، دھند نے دھند میں تارے دکھا دیے۔ ٹمپریچر نے اس حد تک کم ظرفی دکھائی کہ اپنی اوقات سے بھی زیادہ گر گیا۔ یوں مزید درجہ حرارت گرنے کے خوف سے عشاق بے چارے سرد آہیں بھرنے سے بھی معذور ہیں۔

عشق کو تپتے ہوئے صحرا سے تشبیہ دینے والے عشاق بھی جاڑے سے دانت بجانے لگے۔ حدتِ جذبات کے دعوے دار پیکروں کے ہاں جذبات کی یخ بستگی نے عاشقی و مردانگی کو ہی مشکوک بنا دیا۔ اس حال میں کتا ب تنہائی کی ساتھی ہے، نہ وصل ہجر کا درماں ہے، بلکہ صرف رضائی ہی مطلوب و مقصود ہے۔ ٹھنڈ میں نہانا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں رہا اور مہینے مہینے بھر بعد بھی پانی سے ’مذاکرات‘ ناکام ہو جاتے ہیں۔ ہاں البتہ جلنے والوں کو سردی کا احساس ضرور کم ہوتا ہوگا، فی الحال تو گرمی کی ’جلن‘ کو سہنا ہے، تاوقتے کہ سردیاں اس دھرتی پر نہ اتر جائیں۔

’’ہم کراچی کی سڑکیں ایسی بنا دیں گے کہ ۔۔۔‘‘
حبا رحمٰن، کراچی

کراچی میں دو قسم کے لوگ ہیں، ایک وہ جو بارش کا لطف لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو بارش ہوتے ہی بارش رکنے کی دعا کرتے ہیں، لیکن گذشتہ دنوں کراچی میں جس طرح بارشیں ہوئیں، اس سے لوگوں کی پہلی قسم تو شاید خال خال ہی رہ گئی ہو۔۔۔ جیسے مجھے بارش کا موسم بہت اچھا لگتا ہے، لیکن ہوا اس کے الٹ بارش کی وجہ سے ایک کے بعد ایک مسئلہ پیدا ہوتا چلا گیا۔

دوسری طرف ٹی وی کھولتی، تو لوگوں کے گھر ڈوبنے کے مناظر نے پریشان کیا۔۔۔ بارش میں تو لوگوں کو خوشی سے جھوم اٹھنا چاہیے، لیکن اب کراچی میں شاید ایسا ممکن نہیں۔ کسی کے گھر کی چھت ٹپکتی ہے، تو کسی کے گھر کے اندر پانی آجاتا ہے، اور اگر خوش قسمتی سے ایسا نہ ہو اور لوگ چاہیں کہ ذرا باہر نکل کر لطف اٹھالیں، تو وہ ایسا بھی نہیں کر سکتے، کیوں کہ وہاں بھی تو کسی جھیل کا سا منظر ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ جو جو لوگ اپنے دفاتر وغیرہ سے گھروِِں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔

وہ بھی راستوں میں پھنس جاتے ہیں، اس کے علاوہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جس کے لیے شاید یہ بارش ’’رحمت‘‘ ہوتی ہو، ان میں زیادہ تر وہی لوگ ہیں، جنھوں نے لوگوں سے تو ان کی چھت ٹھیک کرنے کے لیے پیسے لیے تھے، لیکن چھت ایسی ٹھیک کی کہ وہ پہلی بارش میں ہی اپنے ’’ٹھیک‘‘ ہونے کا ثبوت دے دیتی ہے۔ یہ ویسے ہی لوگ ہیں، جو کہتے تھے کہ ہم کراچی کی سڑکیں ایسی کر دیں گے کہ آپ کو محسوس ہی نہیں ہوگا کہ گاڑی چل بھی رہی ہے اور واقعی ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ گاڑی چل رہی ہے، کیوں کہ گاڑی واقعی ہی چل نہیں پا رہی ہوتی۔۔۔!

صورت حال یہ ہوگئی تھی کہ اسپتالوں تک میں پانی آگیا۔۔۔ جس سے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا، ہماری حکومت کیوں ان تمام چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتی، ذمہ داران کو کچھ نظر نہیں آتا یا وہ خود کچھ دیکھنا ہی نہیں چاہتے، لیکن بات یہ بھی ہے کہ بارش کے بعد جتنی گندگی سڑکوں پر جمع ہونے والے پانی میں نظر آئی، اس کی ایک وجہ وہ لوگ بھی تو ہیں، جو باہر گلیوں میں کچرا پھینک دیتے ہیں۔ ساتھ کچرا کنڈیوں سے بھی گندگی بارش کے پانی میں بہہ گئی اور نکاسی میں رکاوٹ بن گئی، اس لیے تیز بارشوں میں بہت سے گٹر بھی الٹا ابلنا شروع ہوگئے۔

موسلا دھار بارش کے بعد سڑکوں پر پانی اتنا جمع ہوگیا تھا کہ لوگوں نے حقیقت میں اس میں کشتیوں میں سفر کیا۔ کچھ شوق میں تھے تو کچھ واقعی مجبور تھے۔ ایسا لگنے لگا کہ شاید حکومت میں موجود سب لوگ یہ بھول ہی گئے تھے کہ کراچی بھی پاکستان کا حصہ ہے۔۔۔ مجھے تو یہ شہر کہانی کا وہ کردار لگتا ہے، جو سب کی مدد کرتا ہے، مگر جب اس کو مدد کی ضرورت پڑتی تھی، تو کوئی پاس دکھائی بھی نہیں دیتا ۔ ملک کے دیگر شہروں میں ٹرانسپورٹ اور سڑکوں سے لے کر صفائی اور نکاسی آب تک کا بہترین نہ سہی، مگر کراچی سے کئی گنا اچھا نظام موجود ہے۔

اِدھر کراچی قومی خزانے کو 70 فی صد کما کر بھی دیتا ہے اور پھر بھی پانی، بجلی اور صفائی جیسے بنیادی مسائل کے لیے رُلتا رہے، مجھے نہیں پتا کہ میں اس رویے کو کیا نام دوں۔۔۔؟ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے عوام بھی انھی کو ووٹ دینے پہنچ جاتے ہیں، ان کے زبانی وعدوں پر ایمان لے آتے ہیںکہ بس اب پاکستان کا نظام چٹکی بجاتے ہی بدل جائے گا۔ شاید عوام ان کی باتوں سے بے وقوف بن جاتی ہے۔ پھر ’سوشل میڈیا‘ پر دل کی بھڑاس نکالنے کے علاوہ کیا کام باقی رہ جاتا ہے ، اس لیے ہم کراچی والے نہ جانے کب تک بارش ہونے کے بہ جائے بارش جلدی رکنے کی دعائیں کرتے رہیں گے؟

ہم گرمیوں کی چھٹیاں نینی تال میں گزارتے۔۔۔
مرسلہ: سارہ یحییٰ، کلفٹن

میں 14 سال کی تھی کہ ابا جان (حکیم محمد سعید) نے مجھے پارٹیز میں لے جانا شروع کر دیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلی پارٹی جس میں وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر گئے، چینی سفارت خانے میں تھی۔ چینی سفارت خانہ ان دنوں ہمارے گھر کے قریب تھا۔ ابا جان کے ساتھ پہلی بار میں 1963ء میں ملک سے باہر گئی، یہ ملک بھی چین تھا ۔ ہندوستان تو ہم شروع میں برابر جاتے رہتے تھے۔ اکثر گرمیوں کی چھٹیاں بڑے ابا حکیم عبدالحمید صاحب کے ساتھ دہلی اور ’نینی تال‘ میں گزارتے۔۔۔ بعد میں بڑے ابا بھی کراچی آنے لگے۔ ابا جان اپنے بڑے بھائی سے بہت محبت کرتے تھے، بہت احترام کرتے تھے۔

نہ جانے وہ انھیں چھوڑ کر کیسے چلے آئے۔ کہیں انہوں نے ضرور لکھا ہوگا۔ یہ پاکستان کا جذبہ تھا اور مسلم لیگ سے ان کی وابستگی، جس نے انھیں پاکستان چلے آنے پر مجبور کر دیا۔ انھیں اپنے بھائی سے بہت محبت تھی اور انھیں چھوڑ کر آنا ان کے لیے یقیناً ایک کٹھن کام تھا۔ میں سمجھتی ہوں یہ اﷲ تعالیٰ کی مشیت تھی۔ اﷲ کو ان سے اچھے کام کرانے تھے۔ انہوں نے دل و جان سے پاکستان کی خدمت کی لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کیا۔
(سعدیہ راشد کی گفتگو سے ایک اقتباس)

’اولڈ ہوم‘ تو بے گھر لوگوں کے لیے ہونا چاہیے۔۔۔!

نمیرہ نعیم
اللہ تعالیٰنے ماں باپ کا رشتہ ایسا بنایا ہے کہ اس میں پیار ہی پیار ہے، والدین اپنی اولاد کی پرورش اور ان کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے لیے ہر جتن کرتے ہیں، لیکن بعض اولادیں ان کی خدمات کو رد کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتیں۔ اور انھیں اپنے والدین سے ہی ’اکتاہٹ‘ ہونے لگتی ہے، ان کی باتیں، عادت واطوار اور روک ٹوک کو برا تصور کرنے لگتی ہے، ان کی خدمت کو بوجھ کہنے تک میں بھی عار محسوس نہیں کرتی، جس کی وجہ سے مغرب سے شروع ہونے والا ’اولڈ ایج ہوم‘ کا تصور اب ہمارے ہاں بھی رائج ہونے لگا ہے۔

اگرچہ ایسے بہت سے اداروں میں بزرگوں کی صحت اور ضرورتوں کا بہترین خیال بھی رکھا جاتا ہے، تب بھی وہاں اپنی اولاد سے دوری کے باعث وہ خوش نہیں ہوتے۔ ہمارے والدین یقیناً اس قسم کی زندگی کی خواہش نہیں کرتے ہوں گے۔ ہمارے سماج میں ’اولڈ ایج ہوم‘ اچھا تصور نہیں کیا جاتا، لیکن اس کے باوجود بوڑھے والدین کو گھر کے ایک کونے میں چھوڑ دینے اور انتہائی صورتوں میں گھر سے باہر کر دینے کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں، ایسے میں ’اولڈ ایج ہوم‘ ان کا واحد سہارا ہوتا ہے۔ جہاں انھیں ان کی عمر کے لوگوں کا ماحول ملتا ہے، اور تمام سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ ہمارے دین میں اس بات کو واضح کر دیا ہے، والدین کی نافرمانی ہماری دنیا و آخرت خراب کر سکتی ہے، اس واضح حکم کے باوجود اولاد اپنے والدین کو بوجھ سمجھتی ہے! وہ باپ جو تنہا اپنے سارے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، وہ سارے بچے مل کر ایک باپ کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے اور وہ ماں جو خود بھوکی رہتی ہے، لیکن پہلے اولاد کا پیٹ بھرتی ہے، پھر وہی اولاد ’صاحبِ حیثیت‘ ہو کر ماں کو آنکھیں دکھانے لگتی ہے۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارے والدین ایک نعمت اور برکت کا باعث ہیں، انھیں ’زحمت‘ کہہ کر ’اولڈ ایج ہوم‘ کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ ان فلاحی اداروں کا قیام بے سہارا اور بے گھر لوگوں کے لیے ہونا چاہیے، صاحب اولاد لوگوں کے لیے نہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے، ہم آج جو بوئیں گے، وہی کاٹیں گے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here