’’مِن جانب : اہل محلہ‘‘ کے بینر کا ایک ماجرا !

خانہ پُری
ر۔ ط۔ م

کہتے ہیں کہ اچھے کام کے لیے تعریف بالکل ایسی ہوتی ہے کہ جیسے کسی نئے پودے کے لیے کھاد اور پانی، لیکن دوسروں کی کی ہوئی، مگر ہماری سیاست میں رِِیت کچھ ایسی چل نکلی ہے کہ ہم تاج خود ہی اپنے سر پر پہن لیتے ہیں۔۔۔ شاید ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ کوئی ہماری تاج پوشی کرے گا یا پھر یہ دنیا ہے ہی اتنی ’ظالم‘ کہ کسی کو سراہنے میں بہت کنجوسی دکھاتی ہے، جب کہ تنقید کرنے اور برائیاں کرنے میں کافی آگے آگے دکھائی دیتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے اکثر و بیش تر اپنے شہر میں ’اہلیان کراچی‘ کے نام سے کچھ ستائشی بینر لگے ہوئے دیکھے ہیں، جسے سیاسی جماعتیں ’اپنی مَدح آپ‘ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ظاہر ہے وہ ’مِن جانب‘ کے بعد اپنا نام نہیں لکھتے، تو گویا وہ عوام اور اپنے ’چاہنے والوں‘ کی طرف سے ازخود یہ ذمہ بھی اٹھا لیتے ہیں۔ اب ہمارے سچ مچ کے ’عام آدمی‘ کے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ ایسے بینر بنوائے اور پھر انھیں کسی جگہ پر ٹانگتا پھرے، سو ہماری سیاسی جماعتیں ’عوام کا‘ یہ کام بھی اپنے ہی سر لے لیتی ہیں۔

کچھ دن قبل شرف آباد، کراچی سے گزرتے ہوئے ہم نے کچھ ایسا ہی منظر دیکھا۔ ویسے اس میں کوئی اچنبھے کی بات تو نہیں ہے، لیکن چند قدم کے فاصلے پر دوسری ایسی چیز دکھائی دے گئی، جسے سے صورت

حال دل چسپ، بلکہ یوں کہیے کہ کچھ ’مزے دار‘ سی ہوگئی۔

ہوا کچھ یوں، کہ پہلے ہم نے ایک بینر دیکھا ’جمال الدین افغانی پارک کھلوانے پر اہلیان شرف آباد، بہادر آباد توصیف احمد ناظم جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں (اہلیان محلہ)‘ پینا فلیکس پر بنا ہوا یہ بینر ہمارے لیے پہلے اچنبھے کا باعث یوں بنا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے ایسے توصیفی بینروں کا سلسلہ ذرا کم ہی دیکھا گیا ہے، یا شاید بالکل نہیں دیکھا گیا، البتہ کراچی میں جماعت اسلامی کی حریف ’ایم کیو ایم‘ اس حوالے سے بہت نمایاں رہی ہے۔ ان کے ’اہل محلہ‘ یا ’اہل علاقہ‘ طرز کے سفید بینر پر ان کے جماعت کے جھنڈے کے ’سبز‘ اور ’سرخ‘ رنگوں سے کی گئی لکھائی پر ’شکریہ‘ اور تعریف والے بینر اپنے آپ ہی بتا دیتے تھے کہ اس ’کاری گری‘ کے پردے میں اپنے ’ساتھی بھائی‘ ہی ہیں، یوں گویا وہ ایک ہاتھ سے کوئی اچھا کام کرتے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی ہی کمر تھپک کر خوش ہو جاتے ۔

تازہ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے محلے میں اب خیر سے ’مسلم لیگ (فنکشنل) بھی اتنی ’’پھیل‘‘ گئی ہے کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے نمائندے تحریک انصاف کے ہیں، کونسلر ’متحدہ قومی موومنٹ‘ کا اور صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کی، لیکن گلی بنوانے پر دیواروں پر ’’شکریہ‘‘ ’فنکشنل لیگ‘ کا ادا کیا جاتا ہے! کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے کہ بھائی، یہ زبردستی کا ’اظہارِ تشکر‘ کس حیثیت میں؟ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ ان دنوں کراچی میں ’متحدہ‘ کے کارکنوں کے ’حصے بخرے‘ ہونے کے بعد ’یونٹ‘ اور ’سیکٹر‘ کے لڑکوں کی لاٹ (پاک پوَتر ہونے کو) ’پی ایس پی‘ کے بعد اب ’فنکشنل‘ لیگ کے ہاتھ لگی ہے۔۔۔ اس لیے شاید ’عادتاً‘ وہ یہ سب کر رہے ہوں، یہ بھول کر کہ اب وہ کون اور کہاں ہیں۔۔۔

خیر، ہم واپس شرف آباد کی طرف آتے ہیں، ہم نے سوچا شاید اب جماعت اسلامی نے بھی وقت کی اس ’ضرورت‘ کو محسوس کر لیا۔ ہم یہ بینر دیکھ کر پہلے تو مسکرا کر آگے بڑھ گئے، لیکن صاحب، پھر جب ہم آگے بڑھتے ہوئے خالد بن ولید روڈ کے سامنے ’شہید ملت روڈ کی طرف واقع اسی جمال الدین افغانی پارک کے آگے سے گزرے اور کچھ چمکتے دمکتے دکھائی دینے والے اس پارک پر ایک اُجلی اُجلی سی تختی نے بھی ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہم فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے اس کے قریب آگئے۔۔۔

’’ارے صاحب یہ کیا؟‘‘

یہ تو جمال الدین افغانی پارک کے ازسرِنو افتتاح کی سنگِ مرمر کی ایک تختی ہے، جس پر ’ایم کیو ایم‘ کے میئر کراچی وسیم اختر، اور انھی کی جماعت کے ضلع کراچی ’شرقی‘ کے چیئرمین معید انور اور وائس چیئرمین عبدالرئوف کا نام درج ہے اور تاریخ تین جنوری 2020ء لکھی ہے۔ گویا یہاں ایک ہی پارک بنوانے یا کھلوانے پر دونوں جماعتوں کی ’’ستائش‘‘ کی گئی ہے۔ اب یہ تو وہاں کے مکین ہی بہتر جانتے ہوں گے کہ یہ پارک سدھارنے کا ’کار ہائے نمایاں‘ دونوں جماعتوں میں سے دراصل کس نے انجام دیا، ممکن ہے تختی پہلے لگی ہو یا ہو سکتا ہے بینر کے بعد لگائی گئی ہو۔ سرِ دست یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ پہلے ’دعویٰ‘ کس نے کیا اور کس نے بعد میں اسے ’رَد‘ کر کے اپنا کالر سیدھا کرنا ضروری سمجھا۔۔۔

بہر حال ہم نے جماعت اسلامی کے بینر اور متحدہ قومی موومنٹ کی تختی دونوں کو اپنے موبائل میں عکس بند کرلیا، غور کیجیے، تو بینر پر پارک کھلوانے کا دعویٰ ہے اور تختی پر از سرنو تعمیر کا، ممکن ہے دونوں ہی اپنے اپنے طور پر درست ہوں۔۔۔! لیکن جیسے ناکامی یتیم ہوتی ہے، ویسے ہی اچھائی اور کام یابی کے سبھی ’باپ‘ بنتے ہیں، یہاں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال کار فرما دکھائی دیتی ہے!۔

۔۔۔

’’کم ’ٹرن آئوٹ‘
کا ذکر نہ کریں۔۔۔!‘‘
انور سعید صدیقی

5 اگست 1993ء کو الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول جاری کر دیا، جس کے مطابق قومی اسمبلی کے انتخابات 6 اکتوبر اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات9 اکتوبر کو ہونا طے پائے۔ شیڈول کے اعلان کے بعد سارا ملک انتخابی مہم میں مصروف ہوگیا۔ ’ایم کیو ایم‘ نے قومی اسمبلی کے انتخابات سے صرف ایک ہفتے قبل اچانک انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے بہت کم نشستوں پر انتخاب لڑنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، بہرحال اس نے 7 اکتوبر کو اپنا پہلا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔

6 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے پولنگ تھی۔ ہم نے شہر کے کئی علاقوں کا دورہ کیا۔ شیرشاہ میں ہم صحافی حضرات پولنگ اسٹیشن تلاش کر رہے تھے، مگر وہاں کی اکثر آبادی کو اس سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ہم نے وہاں چار پانچ پختون بھائیوں کو اپنی روایت کے مطابق صف بندی کر کے سڑک پر ٹہلتے ہوئے دیکھا، تو ان سے نزدیکی پولنگ اسٹیشن کے بارے میں دریافت کیا تو وہ حیرت سے ہماری طرف دیکھنے لگے اور بولے کہ ’’پولنگ اسٹیشن کیا ہوتا ہے؟‘‘ ہم نے کہا ’’جہاں ووٹ پڑتے ہیں، آج انتخابات ہیں۔‘‘ وہ کہنے لگے۔ ’’ہم کو ووٹ شوٹ کا پتا نہیں ہے۔

ادھر کسی اور سے معلوم کرو۔‘‘ پندرہ، سولہ برس پہلے تک کراچی شہر میں مقیم صوبہ سرحد کے عام لوگوں کا جن میں زیادہ تر محنت کش اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کام کرنے والے شامل تھے، یہی حال تھا۔ مگر نسلی سیاست کے فروغ کے بعد اب یہ لوگ بھی بڑھ چڑھ کر انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔

دوپہر سے پہلے دفتر واپس پہنچ کر ہم نے ایک عمومی خبر اسلام آباد بھیج دی، جس میں ووٹ ڈالنے کی رفتار کم اور سست بتائی گئی تھی۔ سید نذیر بخاری اس وقت نئے نئے ڈائریکٹر آف نیوز بنے تھے۔ انھوں نے معروضیت کے اصول کی پاس داری کرتے ہوئے اسی طرح خبر دو تین بلیٹوں میں نشر کرائی۔ غالباً ایک بجے کی انگریزی خبروں کے نشر ہونے کے بعد کراچی کے اسٹیشن ڈائریکٹر صبیح محسن کے پاس اس وقت کے کور کمانڈر کا فون آیا۔

انھوں نے کہا کہ آپ کی خبر صحیح ہے کہ کراچی میں ووٹ ڈالنے کی رفتار دھیمی ہے، مگر آپ خبروں میں اس بات کا ذکر نہ کریں، تو کیا مضائقہ ہے۔ صبیح صاحب نے ہمیں بلاکر یہ بات بتائی۔ ہم نے اسلام آباد میں ’ڈائریکٹر نیوز‘ کو اس خواہش سے مطلع کیا اور پھر دوپہر کے بعد پولنگ کی روایتی خبریں نشر ہوتی رہیں، جن میں لوگوں کے نام نہاد جوش و خروش ، پولنگ کیمپوں پر گہما گہمی اور تشدد اور مار پیٹ کے اِکا دُکا واقعات کا ذکر تھا، مگر ووٹروں کے ٹرن آئوٹ کا کوئی ذکر نہ تھا۔

(کتاب ’ریڈیو پاکستان میں تیس سال‘ سے چُنا گیا)

۔۔۔

جذباتیت کے ہاتھوں ’تحریک‘ کا انجام
انتظار حسین

تقسیم کے فوراً بعد جذباتیت کا جیسا مظاہرہ حیدر آباد (دکن) کے سلسلے میں ہوا تھا، ویسا شاید ہی اور کسی مسئلے کے بارے میں ہوا ہو۔ حیدر آباد برصغیر میں سب سے بڑی مسلمان ریاست تھی۔ ذہنی طور پر یہاں لوگ اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھے کہ اس ریاست کا الحاق ہندوستان سے ہو جائے۔ اتفاق سے ان دنوں ہم ایک ہفتہ وار رسالہ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور تبادلے میں حیدر آباد کے سارے اردو اخبارات‘ روزنامے بھی اور ہفت روزے بھی ہمیں موصول ہوتے تھے اور کس انہماک سے ہم یہ ساری خبریں اور تبصرے پڑھتے تھے۔ حیدر آباد میں ایک تنظیم تھی جس کا نام ہمیں اگر غلط یاد نہیں تو وہ تھا ’مجلس اتحاد المسلمین‘، اس کے سربراہ تھے سید قاسم رضوی۔ کیسے شعلہ فشاں خطیب تھے۔

اپنی تقریروں میں اخباری بیانات میں انگارے اُگلتے تھے۔ اعلان کرتے تھے کہ ہم موسی ندی کو جمنا ندی سے ملا دیں گے اور لال قلعے پر ریاست عثمانیہ کا پرچم لہرائیں گے۔ ان تقریروں نے ادھر حیدر آباد میں سخت جذباتی فضا پیدا کر دی تھی۔ ادھر پاکستان میں بھی یار لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ حیدر آباد کے محاذ پر بڑا معرکہ پڑنے والا ہے۔ ساتھ میں ہتھیاروں کے ایک ایجنٹ کا نام خبروں میں بہت آرہا تھا، خبریں یہ تھیں کہ حیدرآباد میں ہتھیار بہت بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔ بس جب معرکہ پڑے گا تو دیکھنا کیا ہوتا ہے۔ نو نیزے پانی چڑھے گا۔

نظامِ حیدر آباد ایسی جذباتی مخلوق کے نرغے میں تھے۔ اس کے باوصف درون پردہ افہام و تفہیم کی بہت کوششیں ہو رہی تھیں جس کے نتیجہ میں اسٹینڈ اِسٹل اگریمنٹ ) Agreement Still (Stand کے نام سے ایک سمجھوتا ہوا، جس کی رو سے یہ طے ہوا کہ اگلے پانچ سال تک ریاست حیدر آباد جوں کی توں رہے گی۔ پانچ سال کے بعد ٹھنڈے دل سے ریاست کے مسئلے پر سوچ بچار کیا جائے گا۔

سنا گیا کہ اس سمجھوتے کے کرانے میں ہندوستان کے بعض مسلمان زعما نے یعنی نیشنلسٹ مسلمان زعما نے بہت کردار ادا کیا تھا۔ خاص طور پر دو نام لیے جا رہے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور سر مرزا اسماعیل۔ بس ادھر پاکستان میں شور مچ گیا کہ نظام نے حیدر آباد کو بیچ ڈالا۔۔۔!

ادھر حیدر اباد میں سید قاسم رضوی کی تنظیم نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ وہ مجاہد اعظم موسی ندی کو جمنا ندی سے ملانے کے لیے پر تول رہا تھا۔ حیدر آباد سے لے کر پاکستان تک ’نظام‘ پر تُھو تُھو ہونے لگی اور اب

اس تنظیم کا احوال سن لیجیے۔ ہم نے ’بی بی سی‘ کے ایک نمایندے کی ایک رپورٹ ایک کتاب میں پڑھی تھی۔ اس نے اس تنظیم کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور سید قاسم رضوی سے ملاقات کی۔ اس کا بیان ہے کہ یہ سب رضا کار مرنے مارنے کے لیے تیار تھے، مگر تیاری ان کی یہ تھی کہ ان کے پاس ہتھیار کے نام بلم تھے۔ رائفل اس گروہ کے پاس صرف ایک تھی۔ تو جو ہونا تھا وہی ہوا۔ یعنی ؎

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

جب ہندوستان کی طرف سے فوجی کارروائی ہوئی، جسے ’پولیس ایکشن‘ کا نام دیا گیا تھا، تو چند جوشیلے رضاکار ٹینکوں کی زد میں آکر کچلے گئے کارروائی چند گھنٹوں میں مکمل ہو گئی۔

ہندی مسلمانوں کی سیاست ہمیشہ اس طرح رنگ لائی کہ سیاسی سوجھ بوجھ کم‘ جذبات کی ندی چڑھی ہوئی، جیسے دشمنوں کو بہا کر لے جائے گی، مگر آخر میں ٹائیں ٹائیں فش۔ جذباتیت کے ہاتھوں تحریک کا انجام ہوتا ہے۔ مگر الزام دیا جاتا ہے اِکا دُکا ان افراد کو جو جذبات سے ہٹ کر زمینی حقائق کو جانچتے پرکھتے ہیں اور مفاہمت کی راہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جذباتی مخلوق یہ سو لگائے بیٹھی تھی کہ حیدر آباد پاکستان سے الحاق کا یا آزاد ریاست ہونے کا اعلان کرے گا۔

ادھر اور ہی گُل کھلا۔ ہندوستان سے مفاہمت اور مولانا ابوالکلام آزاد کے واسطے سے۔ بھلا یہ واقعہ کیسے ہضم ہو جاتا۔ یاروں کو اس واقعے سے سازش کی بو آنے لگی۔ حیدر آباد کے لوگوں کو جو پانچ سال کی مہلت ملی تھی وہ ہم میں سے کسی کو گوارا نہ ہوئی۔ جو شور پڑا اس میں سید قاسم رضوی خوب چمکے دمکے۔ نظام حیدر آباد سمجھوتا کر کے چور بن گئے۔ اس کے بعد وہی ہوا کہ کتنی خلقت حیدر آباد سے اُکھڑ کر پاکستان کے لیے نکل کھڑی ہوئی اور کراچی کی مہاجر کالونیوں میں ایک کالونی کا اور اضافہ ہو گیا۔ حیدر آباد کالونی۔

(کالم ’زوال حیدرآباد کی کہانی‘ سے ماخوذ)

۔۔۔

’’آج راجا کا بیٹا راجا نہیں بنتا بلکہ راجا وہ بنتا ہے جو اس کا حق دار ہوتا ہے۔۔۔!‘‘
ایمان منیر،کراچی
گذشتہ برس ایک ہندوستانی فلم ’سپر 30‘ جاری ہوئی ۔ اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرح غربت میں پیدا ہونے والے ذہین بچوں کے خوابوں کو ڈھیر کر دیتا ہے اور کس طرح برصغیر نے پوسٹ کلونیل (post colonial) نظریہ اب تک نہیں بھلایا۔ ہمارا معاشرہ آج بھی ’گورا کمپلیکس‘ اور احساسِ کم تری کا شکار ہے۔ آزادی کے کئی سال بعد بھی ہم مغرب کی غلامی کرنے والوں کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔

فلم میں یہ 30 غریب بچوں پر مشتمل گروہ مقبول ترین ادارے میں پڑھنے والے بچّوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس مقابلے میں انھیں شکست ہوتی ہے، جو کم ذہین ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ نفسیاتی دبائو کی وجہ سے ہوتی ہے، جو کہ معاشرتی جانب داری کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے۔ فلم کا سب سے خوب صورت پہلو کہانی کا مرکزی کردار، اُن کا استاد ہے، جو ان کی ذہانت کو پَرکھتا ہے، اور ان تمام طالب علموں کو مفت تعلیم فراہم کرتا ہے۔ بچوں میں یقین اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں کے بنائے ہوئے آئینوں میں دیکھنا چھوڑ دیں۔ یہ خود اعتمادی ہی ان کی کام یابی کا سبب بنتی ہے۔ اس فلم کا ایک جملہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ’’آج راجا کا بیٹا راجا نہیں بنتا بلکہ راجا وہ بنتا ہے جو اس کا حق دار ہوتا ہے۔۔۔!‘‘ مشرقی نوجوانوں کو اپنی پہچان سے نفرت کروائی جاتی ہے، سب کو ایک ہی پیمانے سے ناپا جاتا ہے۔ اس ہی ناپ تول میں جو ’مغرب‘ کی سب سے اچھی فوٹو کاپی ہوتا ہے، اس پر کام یابی کی مُہر لگائی جاتی ہے۔ جس طرح سب رنگ ایک جیسے نہیں ہوتے اور اگر دوسرے رنگوں میں ملا دیے جائیں، تو ان کی اپنی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔ اس ہی طرح ہر انسان تو اپنا ہی تھمب پرنٹ رکھتا ہے۔

اکثر ناکامی کا مرکز وہ نظریات ہوتے ہیں، جنھیں ہم عام طور پر تسلیم کیے ہوئے ہوتے۔ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں، اس نے ’حبیب جالب، فیض احمد فیض اور سعادت حسن منٹو‘ جیسے روایت شکنوں کو پیدا کیا ۔ یہ کسی سے کم ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر دنیا کا ایک ستون ’مغرب‘ ہے، تو ایک ’مشرق‘ بھی تو ہے اور پھر سوچ اور فلسفہ تو دنیا کی زینت ہے۔ یہ کیسے اور کب ایک قسم کی تقلید کا محتاج ہوگیا؟ دنیا کو ہمیشہ کچھ نیا انداز چاہیے ہوتا ہے، اور جتنے بھی نئے انداز آجائیں، یہ دنیا کبھی ’اوورلوڈ‘ نہیں ہوگی۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here