امریکی ماہرین نے بالسا لکڑی کو شفاف بنا کر اس سے شیشہ کا تجربہ کیا ہے۔  فوٹو: یو ایس جی اے

امریکی ماہرین نے بالسا لکڑی کے کوڑے رنگوں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ فوٹو: یو ایس جی اے

واشنگٹن: امریکیوں کی زراعت (یو ایس ڈی اے) سے ایک دلچسپ خبر آئی ہے جس میں زرعی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ہلکی پھلکی لکڑی کا کوئی نمونہ نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ ایک بہت ہی خوبصورت بنادیہ ہے اور اس کا ماحول دوست دوست بھی ہے۔ ۔

اگرچہ آپ ایس ڈی کے ماہرین کے ساتھ ایک ماہ کے ساتھ سائنسدانوں کے ساتھ ملکر ک برس برس تک اس کام پر ہیں۔ اب اس ٹیم کی طرف سے شفاف شیشہ کو مکمل طور پر درزا اجزا تیار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے بالسا درخت کا انتخاب کیا گیا ہے۔ بالسا لکڑی سے ماڈل ہوائی جہاز بھی بنائے راستے ہیں جو ہلکی ، مضبوط اور انتہائی ہموار لکڑی والے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس طرح تیار شیدے ہلکے ، ارزان اور بہت حد تک ماحول دوست ہوں گے۔ دوسری طرف وہ حرارت کے جذبات کی تپش میں رہتی ہے اور کسی بھی تندرور کی وجہ سے ٹھنڈا رکھے گی۔ دوسری روایتی شیشے کی تیاری ماحول پر بھی بوجھ بنی ہے۔ عالمی شیشہ سازی کی صنعت کی سالانہ 25000 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی خارج کی گئی ہے۔

چوبی شیشے کی تیاری میں ہلکی بالسا لکڑی سے پہلے آکسیڈائزنگ غسل دیا۔ اس کے بعد آپ کو اس طرح کی بلیچنگ کا پتہ چل رہا ہے۔ اس کے بعد پولی وینائل الکحل سے گزار کر لکڑی کو حتمی شیشہ بنا ہوا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عام شیشے کی طرح نوکردار کرچیوں میں تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔ اس کے باوجود تمام فوائد کی کم روشنی میں شیشے کوٹ کوٹ کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا اصرار یہ ہے کہ بالا لکڑی کا درخت تیزی سے بڑھتا جارہا ہے اور اس کی افزائش کے بعد شفاف شیشہ کی شناخت کی جاسکتی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here