ملزمان کی غلطی 15 نمبر ، ڈی آئی جی کی خراب کارکردگی پر متعلقہ ڈی ایس پی کو تبدیل شدہ (فوٹو: فائل)

ملزمان کی غلطی 15 نمبر ، ڈی آئی جی کی خراب کارکردگی پر متعلقہ ڈی ایس پی کو تبدیل شدہ (فوٹو: فائل)

چارسدہ: ڈھائی سالہ زینب سے رگڑتی اور قتل کی ڈی این اے رپورٹ تین دن کے بعد بھی نہیں پولیس نے مزید 7 افراد کو حراست میں لیا جس کے ساتھ ملزمان کی 15 نمبر کی غلطی ہوئی ہے ، ڈی آئی جی اس کی خراب کارکردگی سے متعلق ہیں۔

ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق تین دن گزرنے کے بعد ڈھائی سالہ بچی زینب قاتل تاحال پکڑے نہیں جاسکے اور کوئی رپورٹ نہیں ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کریں

بچی کی ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ میں جنسی زیادتی کی دفعات شامل نہیں ہوسکی ، خیبر کالج سے متعلق کالج کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد جنسی استحکام کے مضامین شامل تھے۔

یہ پڑھیں: ایک اور ننھی زینب بھدتی کے بعد قتل

خراب کارکردگی ، متعلقہ ڈی ایس پی تبدیلیاں

اس کیس میں خراب کارکردگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں ڈی ایس پی اقبال کو ہٹا دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ سے متعلق حساس معاملات میں مہارت سے بچ والےے ڈی ایس پی بشیر خان کو تعینات کرتے تھے۔

غلط ملزمان میں بچی کے رشتہ دار دار بھی شامل تھے ، ڈی پی پی

ڈی پی اور محمد شعیب نے پولیس سے مزید 7 افراد کو زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بارے میں پتہ چل گیا ، 7 افراد ملوث تھے جن میں مقتولہ زینب کے صدر بھی شامل تھے ، جن میں تفتیش جاری ہے ، مردان ، نوشہرہ اور صوابی پولیس ماہر پولیس افسران کو بھی انکوائری ٹیم شامل ہوگئی جب وہ فنگر پرنٹ اور جیو فٹنسنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

بچی کی والدہ پر ہوشی کے دورے پڑھیں ، والد

زینب کی رسم قلعے میں پیشہ ور افراد کے مختلف طبقہ فکر والے لوگوں کا کمپنی ہے۔ زینب کے والد نے بتایا کہ بچی کی والدہ پر ہوشی کے دورے پڑھیں۔

سرکاری ارکان زینب کے گھر پہنچتے ہیں ، والد سے اظہار افسوس ہوتا ہے

مہاجراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی اداروں اور اعلی تعلیم کامران بنگش ، وزیر قانون سلطان محمد اور معاون معدنیات عارف احمد زئی مقتولہ زینب کے گھر پہنچے۔ بچیوں کے والدین نے صوبائی حکومت اور پولیس کارروائیوں پر اطالین کا اظہار کیا تھا۔ کامران بنگش نے بتایا کہ زینب قوم کی بیٹی ہے ، ماہرین زدہ پل پل کی خبر ہے ، پولیس کی تمام ٹیکنیکل ٹیم چارسدہ پولیس کے ساتھ کارروائی میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کاش ننھی زینب کا خون چیچ چیخ کردرندوں کوہمیشہ تکلیف دے ، عدنان صدیقی

کامراع بنگلہ

کامران بنگش نے مزید کہا کہ مجرمان کو کوئی معاملہ نہیں چھوڑنے دیا جائے گا ، پولیس نے تفتیشی کارروائی تیز کر دی ہے ، مہاجراعلی خیبرپختونخوا معاملہ خود مانیٹرنگ ہے ، واقعہ کی اطلاع میڈیا سے حاصل کی گئی ہے۔ دے دینا ، قانونی سقم بہت جلد دور کرنا ہے ، مجرم جلد قانون کی کٹ میں ہوگا ، آپ لوگوں کو جعلی خبروں سے دوری کی اکثریت اور قانون کے ساتھ دے دیں گے۔

بھگتی بل کے مخالف وزرا کے خلاف کارروائی کی جائے ، پریس کلب پر احتجاج کیا جائے

زینب بچی کے حق میں پشاور پریس کلب کے باہر پاک یوتھ پالیمنٹ کا احتجاج ہوا جس میں انھوں نے پلے کارڈز حاصل کرکے نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے اس سے بچ زیای کو روکنے اور پھر قتل کرنے کی انتہائی ناکامی کی ہے جس پر ملزمان کی عدم گرفتاری ہے۔

قاتلوں کو سرعام تختہ دار لٹکایا نہیں ، مظاہرین

اس نے ملزم کو جلدی سے سرعام تختہ دار لٹکایا دیا ، ملک میں روزانہ کھانے کی دکانوں پر جنسی زیادتی اور پھر قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ، کابینہ موجود تھی جس میں وزراء کا ایک طویل عرصہ تھا۔ جنگ کی کارروائی کی وجہ سے زینب الرٹ بل پاس آئے جس کی وجہ سے اس کیس میں کمی نہیں آسکی۔



Source by [author_name]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here