“TOI-561b کا نام لیا گیا ہے ، یعنی یہ TOI-561 نامی ستارے کے گرد چکر لگانے والا سب سے قریبی سیارہ ہے۔ (تصویر بحوالہ ایڈم میکرنکو ، ڈبلیو ایم کیک آبزرویٹری)

ہوائی: امریکی ماہرین فلکیات نے 280 نوری سالی کے دن ایک سیارہ دریافت کے بارے میں بتایا جو زمین جیسا پتھریلا کے قریب تقریبا ارب 10 ارب سال قدیم ہے ، یعنی سورج سے بھی 5 ارب سال پہلے وجود میں آگیا تھا۔

یہ سیارہ نو ناسا کی ‘ٹی ای ایس ایس’ ‘(ٹرانزٹنگ ایگزوپلینٹ سروے اسٹائلائٹ) نامی خلائی دوربین سے دریافت کیا ہوئی ہے ، جس کی زندگی میں 50 فیصد بڑا حصہ ہے ، اس کی زمین کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہیں ہے۔

TO TO TOIIIIIbbb TObbbbbbb کا کا کا نام نام کا کا کا گرد گرد جس جس جس جس جس جس جس جس جس جس جس جس جس TO TO TO TO TO TO TO TO TO TO TO TO TO TO TO 56 56 56 56 56 56 56 56111 نام 56 56 نام نام1 نام نام نام نام نام نام نام نام ست نام ست ست ست ست 56 ست ست ست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ستارہ برج اسد قریب قریب ایک چھوٹے سے آسمانی جھرمٹ ” سیکسٹینس ” (سیکسٹنس) میں واقع ہے۔

مزید تحقیقات کے مطابق ، اس سیارہ یعنی ‘ٹی اور آئی 561 بی’ کے مرکزی ستارے کے حلقے میں صرف 12 گھنٹے میں ایک چکر مکمل کرلیتا ہے ؛ جہاں وہاں جتنی دیر میں دو سال گزرتے ہیں ، اس وقت تک صرف ایک دن گزرتا ہے جو 24 گھنٹے رہتا ہے۔

ٹی او آئی 1 56 اپنے بی بی اسٹار (اپنے ‘سورج’) کی وجہ سے اس کی سطح کا درجہ حرارت بھی 1،726 درجے کی سینٹی گریڈ (2000 ڈگری کیلون) پر لگا ہوا ہے۔

پتھریلا سیارہ کے سامنا ‘ٹی اور آئی 561 بی’ ‘کی کثافت قریبً زمین جتنی ہے جو ایک ماہ کی امید تھی تھی اس کی کثافت ، زمین سے زیادہ لمبی تھی۔

ماہرینِ فلکیات کی بات یہ ہے کہ اس فرق کی وجہ سے ہی انسانوں کو سمجھ آتی ہے۔ یعنی اس کی کثافت بہت کم ہے۔

جب صرف سیرہ ہی ممکن ہوسکتی ہے تو سورج بہت پہلے سے ہی وجود میں آسکتا تھا ، لیکن اس وقت اس کی کائنات میں بھاری اور دھاتی نوعیت کی کوئی حد نہیں تھی ، جن کی وجہ سے کوئی سیارے کی کثافت میں نہیں تھا۔ اضافہ ہوا ہے۔

اس پہلو کو مدنظر آگئے ، محتاط تخمینہ لگنے لگے اس کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تقریبا 10 ارب سال قدیم قدیم لباس ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم ترین پتھریلا سیارہ ” بھی مشکل ہے۔

اگرچہ اب تک دریافت کے لوگ قدیم ترین ستارے کا اعزاز ” پی ایس ایس آر بی 12620-26 بی ” (PSR B12620-26 b) کہ لوگ سیارے پاس ہیں جو تقریبا 13 ارب سال قدیم ہے لیکن وہ ہمارے نظام شمسی کے سیارہ ہیں مشتری (جیوپیٹر) سے بھی بڑا اور گیس پر تیار ہے۔

فلکیات کی زبان میں سیریں کو ‘گیسی دیوار’ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن وہ سیارے جنی بیرونی سطح پر ٹھوس یعنی پتھریلی ہوسکتی ہے ، ” چٹانی بوبیا ” اس کے مقابلے میں خاص طور پر اس کے مقابلے میں ہے۔ کم تر کمیت اور جسامت والے ہیں۔

نوٹ: اس دریافت کی تفصیل ” دی ایسٹرونومیکل جرنل ” تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here