زباں فہمی نمبر 81

یہ امر’’ اردو دنیا‘‘ کے تمام باشندوں کے لیے باعث صدمسرت واطمینان ہے کہ سال ۲۰۲۱ء کی آمد کے موقع پر اقوام متحدہ کے معتمدعمومی [Secretary General] کا خصوصی پیغام اردو ترجمے کے ساتھ، اقوام متحدہ پاکستان دفتر کے زیراہتمام ذرایع ابلاغ سے جاری کیا گیا۔

اس معاملے میں نہایت دل چسپ نکتہ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی زبانوں میں شامل ہونے کے باوجود، اردو، نامعلوم وجوہ سے آج تک اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں میں شامل نہیں ہوسکی، مگر اس پیغام کے اردو ترجمے کے ساتھ آن لائن شایع ہونے سے ہمیں یہ خوش فہمی ہوگئی ہے کہ اب وہ دن دور نہیں جب یہ منفرد زبان، اقوام متحدہ کی ساتویں سرکاری زبان بنے گی۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں میں انگریزی، فرینچ، ہِسپانوی، روسی، عربی اور چینی شامل تھیں۔ بعض سرکردہ شخصیات اردو/ہندی اور ترکی زبان میں بھی خطاب کرچکی ہیں، مگر ابھی اُن کی سرکاری حیثیت تسلیم نہیں کی گئی۔ بفضلہ تعالیٰ خاکسار نے اپنے کالم زباں فہمی نمبر چھتیس، مطبوعہ روزنامہ ایکسپریس (جمعۃ المبارک، ستائیس ذی الحجہ چودہ سو سینتیس ہجری مطابق تیس ستمبر دو ہزار سولہ) میں اردو کو اقوام متحدہ کی سرکاری زبان بنانے کی تحریک اپنے طور پر شروع کی۔

اسی سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھا اور کازز ڈاٹ کام [www.causes.com] میں اس بابت آواز بلند کی۔ ملاحظہ فرمائیے میرا پرانا کالم جو روزنامہ ایکسپریس کی پرانی ویب سائٹ اور میری فیس بک کی زینت بنا:

{زباں فہمی نمبر چھتیس، اردو۔ یکے از زبان ہائے اقوام متحدہ تحریر: سہیل احمد صدیقی

راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر قومیں کسی زبان کی بنیاد پر بنتی ہیں تو شاید اردوگو، دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو اپنی زبان بطورشناخت استعمال کرنے سے شرماتی ہے۔ یہ خاکسار پہلے بھی اپنی تحریروتقریر میں یہ بات بہ بانگ دُہل (ڈنکے کی چوٹ پر=ڈھول کی تھاپ پر، یعنی کھُل کر، سب کے سامنے) کہتا آیا ہے کہ ہماری شناخت کے تین ستون ہیں: اسلام ، پاکستان اور اردو۔ جب فقط اردو بولنے والوں کی بات ہوگی تو بلاامتیاز مذہب و نسل ، اردوگو برادری کی بات ہوگی کہ یہ ہماری اقوام عالم میںپہچان ہے۔ اب گزشتہ سترہ سال سے یہ بے کار بحث ہر مقام پر سنائی دے رہی ہے کہ پاکستان کی بنیاد دوقومی نظریہ تھا یا لادینیت کا فروغ تو یہ نکتہ بھی بعض بقراط اٹھارہے ہیں کہ اردو کا کوئی کردار اس تحریک میں سرے سے تھا بھی یا نہیں جو بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوا۔

مستزاد یہ کہ چونکہ اردو کسی بھی قوم کی زبان نہیں تھی ، لہٰذا قائداعظم محمد علی جناح سے بہت بڑی چُوک یا غلطی ہوئی کہ اردو کو قومی زبان قرار دیا۔ اور کہنے والے تو ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بیان نے ہی پاکستان کی شکست و ریخت (سقوط مشرقی پاکستان) کی بِناء ڈالی تھی۔ ایسا کہنے اور لکھنے والے سرے سے تاریخ سے ہی واقف نہیں……میں تو انہیں یہاں تک چیلنج دیتا ہوں کہ سب چھوڑیں، اپنے نام کے معانی بتا کر، اس کے حوالے سے دومنٹ کی تقریر کرکے دکھادیں۔ (بندہ بصد ادب عرض کرتا ہے کہ بات اگر اِدھر آئی تو مسکت، کافی و شافی جواب ملے گا)۔ یہاں رک کر ایک سوال ایسے خودساختہ دانش وروں سے کرنا چاہتا ہوں: اگر اردو کو قومی وسرکاری زبان بنانا غلط اور پاکستان میں بسنے والی اقوام میں کسی قسم کے تعصب کا باعث ہے تو پھر رابطے کی دوسری کونسی زبان ہے جو اردو کی جگہ لے سکے؟

اردو کو دنیا کی بڑی زبانوں سے، خصوصاً انگریزی کے مقابل، کم تر سمجھنے والے، یہ نہیں جانتے کہ انگریزی دنیا کی سب سے بڑی زبان نہیں۔ اگر اہل زبان (Native speakers)کی تعداد کی بنیاد پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ مینڈرین /چینی (Mandarin/Chinese) بولی جاتی ہے، کم وبیش ایک اعشاریہ دو بلین افراد یہ زبان بولتے ہیں۔ تو کیا معترضین محض اس بِناء پر اردو چھوڑ کر چینی سیکھیں گے کہ یہی دنیا میں سب سے زیادہ رائج ہے؟

ویسے اگر زیادہ تعداد میں بولنے والوں کی زبان ہی اپنانی ہے تو جدید تحقیق کی رُو سے فرینچ سیکھنا زیادہ مفید ہوگا کیوں کہ سن دو ہزار پچاس تک یہ دنیا کی سب سے بڑی زبان بن جائے گی اور اس کے بولنے والوں کی تعداد ساڑھے سات سو ملین ہوگی۔

http://www.dailymail.co.uk/news/article-3367012/C-est-impossible

-French-course-world-s-commonly-spoken-language-2050.html

ہسپانوی (Spanish) بولنے والوں کی تعداد چار سو ملین سے زائد ہے گویا وہ دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے۔ تیسرے درجے پر فائز ہے آپ کی ’فادری‘ زبان انگریزی جس کے اہل زبان کی تعداد (بہ اختلاف رائے) تین سو پچاس ملین سے زائد ہے، نیز بطور رابطہ ۔یا۔دوسری زبان انگریزی بولنے والوں کی تعداد نصف بلین کے لگ بھگ ہے۔ چوتھے درجے پر براجمان ہے اردو، جسے ہندوستان کے زیراثر، اکثر مآخذ میں ہندی لکھا جاتا ہے۔ اردو/ہندی بولنے والوں کی تعداد تین سو چھہتر ملین (ہندی کے نام سے تین سو دس، اردو کے نام سے چھیاسٹھ) ہے۔

میرا نظریہ ہے کہ موجودہ ہندی، اردو کا ہی دوسرا روپ ہے جسے دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت (یا وضع کیے ہوئے، بعض جدید ہندی) الفاظ کی بدولت الگ زبان قرار دینا درست نہیں۔ میرے اس نظریے کی تائید کوئی اور کرے نا کرے، نامور نقاد ڈاکٹر شمس الرحمٰن فاروقی بہت پہلے ہی کرچکے ہیں۔

راقمِ حروف ناواقفین کی اطلاع کے لیے عرض کرتا ہے کہ اگر بہ ظاہر ہندی کی سات شاخوں میں شامل بھوج پوری کو جداگانہ زبان کی بجائے اردو کی بولی تصور کیا جائے (جو تاریخی اعتبار سے اصحح یعنی زیادہ درست ہے) تو اردو بولنے والوں کی تعداد میں چالیس ملین سے زائد کا اضافہ ہوجائے گا۔ (دیگر شاخوں بشمول ہریانوی، برج، اَوَدھی، بندھیلی، بگھیلی اور قنوجی کا معاملہ بھی مماثل ہے۔ اگر ان کے اعدادوشمار بھی بعدازبحث وتمحیص شامل کریں تو سوچیں کیا عجب اردو دنیا کی سب سے بڑی زبان ہی ثابت ہو)۔

[.http://www.infoplease.com/ipa/A0775272.html, https://www.babbel.com/en/magazine/the-

10-most-spoken-languages-in-the-world,

https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_

languages_by_number_of_native_speakers]

بھوج پوری کا نام دیکھ کر چونکنے والوں کے لیے یہ فقرے پیش کرتا ہوں (انٹرنیٹ سے ہی منقول) اور پھر سوال کرتا ہوں کہ آیا یہ اردو کی قدیم بولی نہیں؟ :

توہار (تمہارا) ناؤ/نام کا (کیا) ہے؟

ہیاں/ایہاں/ہِینے/ایہار آؤ (یہاں آؤ)

تو کا (کیا) کرت (کرتے) ہو؟

اُو مَرَد جات (جاتا) آ/ہا/با (ہے)

ہم ٹھیک ہئیں (ہیں)/بانی

[https://en.wikipedia.org/wiki/Bhojpuri_language]

مانچسٹر یونی ورسٹی کے استاد جناب شیراز علی نے اورینٹل کالج، شعبہ اردو، جامعہ پنجاب میں ’برطانیہ میں اردو کا مستقبل‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اردو تمام مشکلات سے قطع نظر، برطانیہ میں بولی جانے والی چوتھی بڑی زبان ہے (بحوالہ اردوپوائنٹ، مؤرخہ تئیس اپریل دوہزار سولہ)۔ }اردو کے معترضین کے لیے خاکسار کا مضمون ’خود بدلتے نہیں، اردوکو بدلنا چاہیں‘ مطبوعہ روزنامہ ایکسپریس، مؤرخہ تیس ستمبر سن دو ہزار گیارہ بر موقع عالمی اردوکانفرینس کا مطالعہ بہت مفید ہے۔

ایکسپریس کی ویب سائٹ پر یا میری فیس بک کے نوٹس میں ملاحظہ فرمائیں{۔ راقم یہ استفسار تمام اربا ب ِ حلّ و عَقد سے کرنا چاہتا ہے کہ جب اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہندوستان کی وزیرخارجہ سشما سوراج صاحبہ نے (باوجودیکہ ہندی اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں میں شامل نہیں) ہندی میں خطاب کیا تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم اور مستقل مندوب اردو میں تقریر نہ کرسکیں؟

اردو کی بے مثل خوبیوں کے پیش نظر میری استدعا ہے کہ اسے ناصرف پاکستان کی سرکاری و قومی زبان کی حیثیت سے نافذ کیا جائے، سارک [SAARC]کی نمایندہ زبان قراردیا جائے بلکہ اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں میں بھی شامل کیا جائے۔ تمام محبان ِ اردو زبان سے گزارش ہے کہ اس ضمن میں، خاکسار کی مہم میں دامے ، درمے، قدمے، سخنے حصہ لے کر اسے کامیابی سے ہم کنار کریں}۔

اب آئیے گزشتہ سے پیوستہ بات آگے بڑھاتے ہیں۔ اگر معاملہ اعدادوشمار کی بحث سے ہی جُڑا ہوا ہے تو یہاں ہم دو نکات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ دنیا بھر میں مَردُم شماری کے اعدادوشمار، مختلف وجوہ سے، دیگر ذرایع سے غلط ثابت ہوتے رہے ہیں اور کسی بھی ملک کی آبادی کے پندرہ یا پچیس سال پرانے اعدادوشمار، ہرگز قابل اعتبار نہیں۔ اس کے باوجود ابھی ابھی جب اس موضوع پر آن لائن تحقیق ازسرِنو کرنے کی سعی کی تو معلوم ہوا کہ وِکی پیڈیا کے اعدادوشمار قدرے مختلف ہیں۔

چینی یعنی Mandarin زبان کی شاخوں کے فرق سے، اسے بطور مادری زبان بولنے والوں کے اعدادوشمار کچھ اس طرح درج کیے گئے ہیں: معیاری چینی: ایک اعشاریہ ایک دو بلین [1.120 billion]، یوئی چینی (بشمول کانتونیCantonese/): پچاسی ملین[85 million]، وُو۔چینی [Wu Chinese] بشمول شنگھائیوی [Shanghainese]: بیاسی ملین [82 million]، مِن نان چینی [Min Nan Chinese] بشمول Hokkien: اننچاس ملین[49 million]، جِن یُو چینی[Jinyu Chinese]: سینتالیس ملین[47 million]۔ اب ذرا شُمارندہ [Calculator] کی مدد سے اِن اعدادوشمارکو جمع کریں تو جواب آئے گا: 264.12 ملین یعنی اتنے افراد فقط چینی زبان بولتے ہیں۔

مادری زبان سب سے زیادہ بولنے والے افراد کی فہرست میں دوسرے درجے پر فائز ہے ہِسپانوی[Spanish]زبان جسے بولنے والوں کی تعداد، وکی پیڈیا کے اعدادوشمار کے مطابق، پانچ سو اَڑتیس ملین[538 million] ہے (عین ممکن ہے کہ اصل تعداد کم وبیش چھے ملین سے بھی متجاوز ہو)، 463 million افراد کی مادری زبان بھی یہی ہے۔ تیسرے درجے پر براجمان ہے، ہم سب کی ’’پسندیدہ‘‘ انگریزی زبان جس کے بولنے والوں کی تعداد ایک اعشاریہ دو چھے آٹھ بلین [1.268 billion]۔ اس میں تین سو ستر ملین[370 million] کی مادری زبان انگریزی ہے۔ چوتھے درجے پر فائز ہے ہندی جسے بطور مادری زبان تین سو بیالیس ملین ] [342 millionافراد بولتے ہیں، کُل تعداد ہے: چھے سو سینتیس ملین[637 million]۔

اب اردو کے اعدادوشمار نقل کرکے ہم اس پیاری زبان کے درست اعداد کی بات کریں گے۔ وکی کے بیان کے مطابق اردو بولنے والوں کی تعداد ایک سو اکہتر ملین[171 million] بشمول اُنہتر ملین[171 million] مادری زبان بولنے والے۔ یہاں اسی بنیاد پر اردو کو بیسواں درجہ ملا، جو ابھی کے ابھی اس خاکسار کے ہاتھوں غلط ثابت ہوجائے گا۔ بھوج پوری بولنے والوں کی تعداد، باون ملین[52 million] درج کی گئی ہے، حالانکہ مادری زبان کے طور پر بولنے والوں کی تعداد ہی باون اعشاریہ دو ملین ہے اور بطور رابطے کی زبان اسے اپنانے والوں کی تعداد، اعشاریہ ایک چھے صفر ملین [0.160 million] بیان کی گئی ہے، لہٰذا بھوج پوری بولنے والوں کی تعداد 52.36 ملین ہوئی۔

اب ذرا جگر تھام کے بیٹھیں کہ اردو کی دیگر بولیوں کی باری بھی آتی ہے۔ ہریانوی درحقیقت وہی کھڑی بولی ہے جسے اردو کے مآخذ کے طور پر سب سے زیادہ ماہرین لسانیات تسلیم کرتے ہیں۔ سن انیس سوچورانوے کے ایک جائزے کے مطابق ، ہندوستانی ریاست (صوبے) ہریانہ کے 13,000,000 افراد یہی بولی۔یا۔ زبان بولتے ہیں۔ پورے ہندوستان اور پوری دنیا میں کتنے؟ یہ ابھی تحقیق طلب ہے۔ ایک اور قدیم وزندہ بولی، برج یا برج بھاشا بولنے والوں کی تعداد، 2011ء کی مردم شماری کے مطابق1,600,000 ہے۔

اَوَدھی بھی اردو کی قدیم وزندہ بولی ہے جسے بولنے والوں کی تعداد، اڑتیس ملین [38 million] بتائی جاتی ہے۔ بندھیلی بولی کے اعدادوشمار آن لائن دستیاب نہیں۔ بگھیلی بولی (بطور مادری زبان) بولنے والوں کی تعدادآٹھ اعشاریہ دوملین[ 8.2 million] درج کی گئی ہے، جبکہ 9.5 million افراد کی مادری زبان، قَنوجی ہے جو اردو کی بولی ہے۔ (2001ء کے اعدادوشمار کے مطابق)۔ اب ان تمام اعدادوشمار کو جمع کریں تو جواب آئے گا632.96 ملین یعنی اتنی بڑی تعداد، اردو ہی بولتی ہے۔ اردو میں خطاب کے ضمن میں جنرل محمد ضیاء الحق (مرحوم)، شاہ محمودقریشی (وزیر خارجہ) اور ایک لحاظ سے ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی کا نام بھی شامل ہے ، کیونکہ وہ جس زبان میں خطاب کرچکے ہیں، وہ رسم الخط اور مخصوص ذخیرہ الفاظ کے فرق کے باوجود، اردو ہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو ہم ایسے ہیچ مدآں کا مشورہ صائب لگتا تو وہ اپنی کشمیر والی مشہورِزمانہ تقریر اردو میں کرتے، مگر خیر ……اب اگلی باری پر، دیکھیں کون آتا ہے اور یہ کام کون کرتا ہے۔

راقم کا خیال ہے کہ یا تو موصوف اپنے سرکاری ونجی ٹوئیٹر پر اَزخود نظر شاذ ہی ڈالتے ہیں یا یہ کام بھی دیگر کے ذمے ہے۔ اسی پر بس نہیں، موجودہ حکومت میں صدر، وزیراعظم، گورنر، وزرائے اعلیٰ ، وفاقی وصوبائی وزراء اور مشیران کے پاس اتنا وقت نہیں کہ کسی کتاب کا ہدیہ وصول کرکے، اپنے ماتحت عملے کے ذریعے اِس کی رسید مُرسل کو ارسال کرسکیں۔ اس ضمن میں سابق گورنر سندھ میاں محمد سومرو کا ذکر ِ خیر ایک بار پھر بطور قندِمکرر کرنا چاہتا ہوں، جنھوں نے ایک تقریب میں خاکسار کے ہاتھوں ہدیہ کتب وصول کرنے کے بعد، اپنے سرکاری لیٹر ہیڈ پر Typed مکتوب میں شکریہ ادا کرتے ہوئے، اپنے قلم سے لکھا تھا: My dear Siddiqui saheb۔ دوسری مثال سابق آمرمطلق جنرل (ر) پرویز مشرف کی ہے جنھوں نے ایسے ہدیے کی وصولی کی رسید اپنے ماتحت افسر کے ذریعے ارسال کی۔

{بات خارج از موضوع ہے، مگر دُہرائے بغیر چارہ نہیں کہ عموماً اخبارات کے خصوصی ضمیموں میں مقتدر شخصیات کے نام سے کسی خاص موقع پر کوئی نہ کوئی پیغام شامل اشاعت ہوتا ہے جسے لکھنے والا، درحقیقت کسی تشہیری ادارے کا ملازم، Creative Copywriter ہوتا ہے جسے اردو میں اس خاکسار نے کچھ عرصہ قبل، ’’اختراع نگار‘‘ کا نام دیا ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایسے ہی ایک موقع پر اس راقم (ایک تشہیری ادارے میں ملازم ) کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ایک رسمی پیغام برائے اشاعت (دَرضمیمہ اخبارات) بزبان انگریزی میں اَزخود، دل چسپی لیتے ہوئے، کچھ ترامیم لکھواکر، اپنے معتمد(Secretary)کے توسط سے بھیجیں جنھیں راقم نے حسب منشاء شامل کرکے منظوری حاصل کی اور پھر یہ پیغام اخبارات کے ضمیمے میں جنرل صاحب کے نام سے شایع ہوا۔ بعض دیگر مواقع پر، سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے نجی طور پر دل چسپی لینے کی بابت بھی اسی کالم میں ماقبل ذکر کرچکا ہوں۔

جس کا جتنا کام اچھا ہو اور قابل تقلید ولائق تحسین ہو، نقل کرنے میں ہرگز کوئی حرج نہیں!}۔ سال دو ہزار اکیس کے آغاز پر موجودہ سیکریٹری جنرل کا پیغام چھَے سرکاری زبانوں کے علاوہ، اردو میں جاری کرکے گویا یک طرفہ طور پر یہ مطالبہ تسلیم کرلیا گیا ہے، گو ایسا براہ راست صدردفتر کی بجائے پاکستان میں موجود مقامی دفتر کی جانب سے کیا گیا ہے۔ اردو دنیا میں کوئی تنظیم بھی اس مدعا میں دل چسپی نہیں لے رہی، ماسوائے پاکستان قومی زبان تحریک کے۔ {خاکسار مختلف شعبہ جات میں عملی تجربے اور مہارت کے حصول کے باوصف، یہ بات کہنے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ ہمارے یہاں ہر جگہ نیم خواندہ، کم خواندہ، غیرمہذب اور درحقیقت جاہل افراد کا راج ہے، جن کی اکثریت کے پاس اسناد کے نام پر کچھ کاغذات تو ہیں، مگر اُنھیں اپنے ہی شعبے کی مبادیات کا پتا نہیں۔

یہاں لفظ جاہل بہت سوچ سمجھ کر استعمال کیا گیا ہے۔ ہر وہ شخص جاہل ہے جو اپنی کم علمی یا لاعلمی پر شرمسار ہونے اور اس کا اعتراف کرکے، سیکھنے کی بجائے اپنی خودساختہ عظمت کے مؤقف پر سختی سے قایم رہے، ڈٹ جائے اور یہ کہے کہ ہم چو منے دیگرے نیست۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اکمل الکاملین (یعنی کاملوں کے کاملThe Perfect of all the Perfects=) نبی کریم (ﷺ)، تمام انبیاء و رُسُل (علیہم السلام) اور اَولیائے کرام (رحمہم اللہ) تمام انسانوں سے ہر لحاظ سے بلند و بالا، افضل واعلیٰ ہوتے ہوئے بھی ، کسی بھی مسئلے میں سوال سے گریز نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنی شان کے خلاف نہیں سمجھتے تھے کہ کبھی کوئی بات کسی سے بھی پوچھ لیں۔ مشہور ترین واقعہ ہے کہ غزوہ احزاب میں حضوراکرم (ﷺ) نے سیدنا سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) کے مشورے پر خندق کھُدوائی، حالانکہ وہ کسی کے مشورے کے پابند نہ تھے}۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here