روسی وی لاگر میخائل لیٹوِن نے اپنی نئی مرسڈیزکار کو آگ لگادی ہے کیونکہ وہ کمپنی کی بعدازفروخت سروس سے عاجز آچکے تھے۔ فوٹو: اسکرین شاٹ یوٹیوب ویڈیو

روسی وی لاگر میخائل لیٹوِن نے اپنی نئی مرسڈیزکار کو آگ لگادی ہے کیونکہ وہ کمپنی کی بعدازفروخت سروس سے عاجز آچکے تھے۔ فوٹو: اسکرین شاٹ یوٹیوب ویڈیو

 ماسکو: روسی وی لاگر نے اپنی بالکل نئی مرسڈیز کار کو مکمل طور پر جلاکر راکھ کردیا ہے۔ وہ کمپنی کی بعد ازفروخت سہولیات سے مطمئین نہیں تھے۔

نوجوان وی لاگر میخائل لیٹوِن نے قیمتی کار جلانے کی روداد یوٹیوب پر بھی اپ لوڈ کی ہے جسے اب تک ایک کروڑ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔ میخائل نے دسمبر 2019 کو بالکل نئی مرسڈیز اے ایم جی ، جی 63 خریدی تھی جس کے لیے انہوں نے ایک لاکھ سترہزار ڈالر ( دو کروڑ 72 لاکھ روپے) خرچ کئے تھے۔ لیکن وہ اپنی گاڑی سے مطمئین نہیں تھے اور ان کی مایوسی غصے میں بدل چکی تھی۔

میخائل کے بقول انہوں نے یہ کار صرف 15 ہزار کلومیٹر تک چلائی تھی اور اس کےبعد کار خراب ہونے لگی۔ گزشتہ دس ماہ سے وہ مختلف ورکشاپ میں آتی اور جاتی رہی۔ کچھ دنوں بعد بار بار اس کی مرمت سے میخائل لیٹوِن تنگ آچکے تھے اور انہوں نے آخرکار اسے نذرِ آتش کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے منظم انداز میں آگ لگادی۔

ذرائع کےمطابق وہ کار خریدنے کے بعد چار مرتبہ مرسڈیز کے ورکشاپ پر گئے لیکن ان کی گاڑی کی تسلی بخش مرمت نہیں ہوسکی۔ پھر چوتھی مرتبہ کمپنی کے مجاز ورکشاپ نے کار ٹھیک کرنے سے انکار کردیا ۔ اس کے بعد وہ میخائل گاڑی لے کر اپنے ایک دوست کے پاس پہنچے جو مرسڈیز کا ماہر کاریگر تھا۔ اس نے بتایا کہ گاڑی میں بعض پرزے اصل نہیں اور کسی اور دکان سے لے کر لگائے گئے ہیں۔

اس پر ان کا غصہ آخری حد کو پہنچا اور انہوں نے اپنی مرسڈیز AMG G63 کو ڈرامائی انداز میں خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسے لے کر وہ ایک سنسان جگہ پر گئے اور ایندھن چھڑک کر کار کو جلاکر بھسم کردیا۔ اس پورے منظر کو انہوں نے ڈرون اور دیگر کیمروں سے فلمبند بھی کیا ہے۔ جلتی ہوئی کار کو دکھاتے ہوئے انہوں نے ڈرامائی روسی میوزک کا استعمال بھی کیا ہے۔

تاہم اس واقعے پر عوام نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض نے اسے درست قدم قرار دیا جبکہ اکثریت نے کہا کہ وہ اپنا نقصان کم کرنے کے لیے اس کار کو فروخت کرسکتے تھے۔ سوشل میڈیا پر بعض نے اسے مشہور ہونے کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here