روسی افواج ہوا بھرے راکٹ ، میزائل اور جنگی ٹینک کا باقاعدہ استعمال ہوا۔  فوٹو: فائل

روسی افواج ہوا بھرے راکٹ ، میزائل اور جنگی ٹینک کا باقاعدہ استعمال ہوا۔ فوٹو: فائل

ماسکو: جنگ اور محبت میں اگر سبھی جائزے ہیں تو ، جعلی ٹینکوں ، ٹولوں ، عسکری گاڑیوں اور میزائل بیٹریوں کا استعمال روسی فوج کا مرغوب مشغلہ ہے۔

روسی افواج ایک لمبے عرصے سے ہوا بھرتی ٹینک اور دیگر بڑے پیمانے پر دشمن کو دھوکا دیتی آرہی اور آج کے دور میں بھی ان کو بچانے کے لئے جلدی ہوچکی ہے۔ یہ سارے ہیٹھیار گرم ہوا میں بھر آتے ہیں اور راہداری والے گھروں میں اور جمپنگ کاسل کی طرح جنوری میں رہتے ہیں۔

بچوں کی تفریح ​​کا سامان والی والی روسی کمپنیاں ہی جعلی ہیلی کاپٹر اور میزائل بنارہی ہیں۔ ایک ٹینک کا وزن ٹنکس میں صرف 90 90 کلوگرام ہی ہوتا ہے جو اصل میں جنگی مشین سے ہزاروں گناہ سستا اور دور سے ہوتی ہے۔

روسی افواج سب سے پہلے کا معاہدہ دیتی ہے اور اس سے دوسری جگہ بہت آسانی سے رہ جاتی ہے۔ خدارا وجہ ہے کہ ماسکو ہے اسلحہ خانے کا اہم جزو معاہدہ ہے۔ کئی کئی لڑ لڑ لڑ ان ان ان ان ان ان ان ان کئی کئی کئی کئی کئی کئی کئی کئی کئی

روس بیل نامی کمپنیوں کی انجینیئر الیکسائی اے کیماروف ایک دوسرے سے متلاشی ہے کہ ‘عسکری تاریخ میں جعل سازی اور دھوکے کو کوٹ بہت اہمیت حاصل ہے۔ یہ کمپنی اصل جسامت کے لڑکے طیارے ، راکٹ لانچر ، میزائل ، فوجی خیمے اور ریڈار اسٹیشن تک بناتی ہے۔ دور سے یہ بالکل درست حقیقت ہے۔ ملازمین کی وجہ سے یہ کھیل ہے اور گرم غبارے والی کمپنی آج روسی افواج کو خدمات مہیا کرتی ہے جو بڑی کمپنی کی کمپنی کو فراہم کرتی ہے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=5Uszb89aqTo

مہارت کا انداز یہ ہے کہ آج تھرمل ریڈار اور جدید رہائش گاہ سے دھوکا کھاجا عبادت بھی ہیں۔ لیکن 80 ٹینک کی قیمت 16 ہزار ڈالر (25 لاکھ پاکستانی ڈالر) برابر ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ اور اتحادیوں کی بھی جعلی ہٹیوں کی جماعتیں دھوکا کھچکے ہیں۔ کوسوو کی جنگ میں سرب افواج نے بھی ان کی مخالف فوج سے کوئی جنگ نہیں کی۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here