کراچی: کراچی کے شہریوں نے کورونا کے قہر سامانی سے کسی خبر نہیں جب شہر میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے احتیاطی تدابیر نظر انداز کردیے ہیں۔

کورونا وبا کے معاملات ایک بار پھر تیزی سے سامنے آرہے ہیں جب وہ معمول کی زندگی میں مگن ہوتے ہیں ، ماسک پہننا توہین سمجھوتہ کرنا ہی ہوتا ہے اور اس کا مذاق اڑایا ہوتا ہے سماجی فاصلے مکمل طور پر نظرانداز کرکے ہوتے ہیں۔

کورونا کی روک تھامس پر آنے والے معاشرتی خواتین کے رکن عمران الحق نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے 6 ماہ کی پوری دنیا میں متاثرہ افراد میں سے ایک لاکھ افراد شامل ہیں جن میں سے افراد بھی متاثر ہوئے ہیں۔

اس وبا سے عالمی سطح پر معاشی نمو متاثر ہوئی ، کاروبار بند ہونے سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور بے روزگاری ہوگئی ، کورونا سے پاکستان بھی متاثر ہوا اگرچہ وفاق اور سندھ حکومت کی کوششیں اور لاک ڈاؤن کورونا کیسز کنٹرول کرلیے آئے تھے۔

کراچی میں بتدریج سماجی اور معاشی حالات بہتر تھے اور کاروبار زندگی چل رہا تھا ، کورونا مکمل کنٹرول ہوا تھا لیکن ان اطلاعات کا کہنا ہے کہ کورونا کی لہر سے متاثر ہوا ہے ، کراچی اس وقت کورونا سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

ہندوئوں نے کورونا ایس اوپیز پر عمل کرنا کم کیا ہے اور یہ شہر عوامی اورکرکواری مراکز میں ماسک پہننا اور سماجی دوری پر عمل نہیں کرنا چاہتے ہیں ، لیکن ان لوگوں نے یہ بھی سمجھا ہے کہ وہ ایس پی اوپیز ہیں۔ عمل نہیں ہورہا۔

وفاقی حکومت نے سی سی سی کے آگاہی کوٹے کو بھی دیکھا ، کراچی میں کورونا کیسز بڑھنے پر وفاق اور سندھ حکومت کراچی میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کریں گے ، لیکن اس صورتحال کا نظارہ کیا ہے۔

گاہک ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کا مقابلہ کرنے والے لڑکے ، ریسٹورنٹ مالک

کراچی میں گنجان اور مضافاتی طور پر ریسٹورنٹس اور چائے خانوں میں بھی کورونا ایس اوپیز کے دوران رات کے وقت تک چائے خانوں کے کارکنوں کا رش نہیں ہوتا تھا لیکن اس واقعے میں چائے خانوں میں کام کرنے والے بھی شامل تھے اور ویٹر کا نام ماسک نہیں تھا۔

تاہم ، چائے پینے والے بھی ایس اوپیز پر بیٹھے ہوئے لوگ ، ریسٹورنٹس اور چائے خانوں میں سماجی فاصلے کی دوری پر عمل نہیں کرتے تھے ، مالک امان اللہ نے بتایا تھا کہ ہمیں کوئی ماسک پہننا یا معاشی فاصلہ اختیار کرنا پسند نہیں ہے۔ وہ لڑکے ہر انسان کی عزت رکھتا ہے۔

بازاروں اورمارکیوں میں ایس اوپیپرپرامل ختم شدہگیا

کراچی کی اہم مارکیٹوں میں کورونا وائرس کے ایس اوپیز کو نظر آرہی ہے کریم آباد میں پرٹننگ کے کام سے سید زبیر افتخار نے بتایا کہ شہر کا اہم کاروباری مراکز بولٹن مارکیٹ ، صدر ، قابل آباد ، کریم آباد ، حیدری ، طارق روڈ کورونا ایس اور پیز پر عمل درآمد کی ضرورت نہیں ہے۔

کائنات ماسسک کا استعمال کم آوریوں کا ہے اور وہ بھی ایس ایس اور پیز سے باخبر ہونے کی کارروائی نہیں ہے ، سماجی دوری پر عمل نہیں ہوا ، سینی ٹائزر گیٹس ، ٹیمپریچر گن ، سینی ٹائزر کا استعمال بہت کم دکانوں پر سینی ٹائزر لوشن استعمال کرتے ہیں ، بازاروں میں رش اور ایس پیز پر عمل نہیں ہونا چاہئے کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بننا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے بتایا کہ کراچی میں کورونا کے معاملات میں تشخیص ناکامی کا عمل ہے ، ہم تمام مارکیٹس اور کاروباری حضرات سے درخواست کریں گے کہ وہ فوری کاروباری مقامات پر کورونا ایس اوپیز پر عمل درآمد کرے گی۔ انتظامات کریں۔

ہیئرسیلون اور بیوٹی پارلرز میں بھی ایس اوپیز نظر انداز

شہر کے درمیانی اور غریب گنجان آبادی میں موجود ہیئرسیلون اور بیوٹی پارلر بھی کورونا وائرس کے ایس اوپیز کونکور انداز کے بارے میں بتائے گئے ہیں ، اس کام سے منسلک افراد اور مرد ورکرز ماسک کا استعمال نہیں کرتے ہیں ، اس مقام پر ہینڈ سینی ٹائزر ہیں۔ کورا ایس ایس اور پیز پر عمل نہ ہونے کے باوجود ہیروانا ہیئرئر سیلون اور بیوٹی پارلر بھی کافی تعداد میں ایس ایس اور پیز پراسس نہیں کرسکتے ہیں۔

بھی کورونا کے پھیلاؤکی وجہ ماسک نہیں ہے

اس میں بھی کورونا کے پھولائو کی وجہ سے ماسک نہیں ہونا چاہئے لیکن اس سے ملنا اور ہاتھ دھونا شامل نہیں ہیں۔ کراچی کے گنجان آبادی والے والدین میں کورونا ایس اور پیز پر کارروائی کرتے ہیں ، شام کے اوقات کار اور نوجوان ایس ایس اور پیز کو نظر مختلف نوعیت کے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں ، اسنوکرز اور ڈبو کلبز اس میں بھی احتیاطی تدابیر عمل نہیں ہوتا ہے ۔صرف تعلیمی صورتحال کی حد تک ماسک کا استعمال ہوتا ہے۔

کیسزبڑنگ پرلاک ڈاونس کا سندھ کابینہ ہوگا

مہندراعلی سندھ کے معاون خصوصی وقارمہدی نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے ، لیکن اس معاملے میں تشخیصی حدود میں اضافہ ہوا ہے ، تو پھر لاک ڈاونس سندھ کے بینظہ جاگ رہے ہیں۔ بہتر احتیاط جس علاقے میں کورونا کیسز ہے ، خطرناک حد میں اضافہ ہوا ہے ، لوگوں کے جان بچانے کے لئے لاک ڈا سمیتن میں سب آپشن استعمال کریں گے۔

کراچی میں کمشنر ، ڈپٹی کم کارکن اوراسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی جارہی ہے کہ کورونا ایس اور پیز کے خلاف ورزیوں کے بعد یہ واقعہ جاری ہے کہ کورونا سے بھی بچائوہ کی حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہے ، اور اس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بصورٹ حکومت کو ماس کا نہیں ہونا چاہئے۔

وفاقی حکومت کے لاک ڈاؤن لوڈ ، اینڈی سے تعلق رکھنے والی پریشانیاں

کراچی میں کورونا وائرس کے معاملات میں اضافے کی وجہ سے وفاقی حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن عندیٰ کے لوگوں کو تشخیص کرنے کے بعد ، احمد صدیقی ، سلیم خان ، حاجی تسلیم ، ترنم ناز کمال ، عائشہ جدون ، شاہ رخ اور دیگر کئی افراد نے شرکت کی۔ اس سے پہلے لاک ڈاونس نے کاروبار اور روزگار کا واقعہ پیش کیا تھا ، اگر دوبارہ رہائش پذیر ہو جائے تو وہ خود خانہ کا کوئی کام نہیں کرے گا۔

ماسک کاستعمال کم قیمت سے بھی کم قیمت والے ہیں ، دکاندار

کراچی میں کورونا کیسز میں ماسک کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے کم تعداد میں آگہی پیدا ہوگئی ، شہریوں کی چھوٹی چھوٹی چھوٹی چھوٹی چھوٹی چھوٹی چھوٹی سی صورتحال ہے۔

کائنات احمر قریشی کا کہنا ہے کہ ماسک کا ڈبہ 700 سے ایک ہزار تک تھا اب اس ڈوبی کی قیمت 250 سے 300 کے درمیان ہے جو اب ماسک اور جدید ڈائزن بھی آرہے ہیں جو 300 یا اس سے بڑی قیمت ہے۔

95 کے 95 میں ماسک ڈاکٹرز یا دفاتر میں کام کرنے والے لوگوں کو شہر کے مختلف مقامات پر ماسک بیچنے والے کام میں کمی آرہی ہے۔

نماز کی دکانیں مساجد میں بھی ایس ایس اور پیز پر عمل چھوڑ دیں

کورونا کے خطرات سے دوچار شہر کے مساجد میں بھی کورونا کی ایس ایس اور پیز پراسس درآمدی کرانا انتظامیہ اور نماز کی دکانیں چھوڑ دی گئیں ، مساجد کے مرکزی گیٹس پر سینی ٹائزر گیٹ ہٹادیے گئے ہیں ، وضو خانوں میں دھواں دھار صابن اور ہینڈ واش موجود نہیں ہے ، نماز ماسسک کا استعمال بہت کم ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ ملانہ معمول کی تحقیقات میں سماجی دوری کا خیال بھی نہیں ہے۔

اس واقعہ سے مقامی مسجد تعلیم کے رکن آصف اقبال کا کہنا درست ہے کہ معاشرے کے ہر شعبہ میں کورونا وبا کی روک تھام کے بارے میں احتیاطی تدابیر عمل نہیں تھا ، شام میں کسی مساجد میں بھی عمل کم تھا ، لیکن نماز کی دکان تھی۔ ماسک لازمی استعمال کریں۔

کورونامس کی اضافی وجہ سیاسی سرگرمیاں ہیں

کراچی میں ایک کورونا کیسز میں اضافے کی وجہ حالیہ سیاسی سرگرمیاں بھی بہت کم ہیں جبکہ مختلف سیاسی اور دینی جماعت جلسے ، جلوس اور ریلیاں تنظیموں میں کورونا ایس اور پیز کا خیال نہیں ہے جس میں ایک چھوٹا سا واقعہ ہے۔ اور دوسری سیاسی سرگرمیوں کی دکانوں کو تحفظ فراہم کرنے والے حلقوں کو تحفظ فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہے ، اگر کوئی مسئلہ بڑھتا ہے تو حکومت میں عوامی اجتماعی پاپندی نہیں ہوتی۔؟

حکومت ایس اوپیپرپرومین برائے قانون سازی کریں ، قیصرجاد

حکومت سندھ کو ماسک لازمی طور پر استعمال کرنے کی ہدایات کو آذریعہ آڑادیا نے سمجھا ہے کہ یہ کسی بڑی سزا کا سبب نہیں ہے لیکن کسی بھی سزا یا جرم کا کوئی فائدہ نہیں ہونا ضروری ہے جو پاکستان کے سائیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی جنرل سیکریٹری پروفیسر ہیں۔ قیصر سجاد نے بتایا کہ کورونا کا دوسرا لہر خطرناک ہے جب ہم ان کی طاقت کے بارے میں جانکاری نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ بار بار صابن کے ہاتھ سے دھوکا جاننے والا ، تھوڑی سی احتیاط سے کورونا سے بچ جاسکتا ہے ، کورونا سے بچنے کی ویکیسن ابھی صرف ماسک ہی نہیں ہے۔

شادی بیاہ کی ترتیب میں ایس ایس اور پیز پر عمل ختم ہو رہا ہے

کراچی میں شادی کے بعد کورنا ایس اور پیز پر عمل درآمد کم آمدنی والی شادی ہوئی ہے اور پھر سماجی مقامات کی ہال اور لان انتظامیہ کی طرف سے کورونا ایس اور پیز پروسیس پر آنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود کو سنجیدہ بنا رہے ہیں۔ کبھی نہیں ، کمپنیوں میں شرکت کے لئے اکثر لوگ بن سنگھ کی وجہ سے ماسک نہیں آتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملانہ اور گلے ملنا معمول بن جاتے ہیں۔

علاقائی سطح پر شادی کی تقریبات میں کورونا کے احتیاطی تدابیر پر کوئی عمل نہیں ہوا ، لیکن اس کے بعد صدر ہانا یونین کے صدر رانا رئیس کا کہنا تھا کہ ہم ایس ایس اور پیز پر عمل درآمد کرائے کے کاروبار میں بھی شریک ہوسکتے ہیں۔ سے بھی محفوظ رہائش سکیں۔

خریداری کرنے والی والی کوئی عورت نہیں

کراچی کے گنجان مقامات میں گھریلو خریداری کرنے والی خواتین اس گھر کے قریب ہی رہتی ہیں اور اس نے اشیا کی خریداری کا اشارہ کیا تھا ، عام لوگوں کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا ، گنجان آباد کی دکانوں میں چھوٹے بازاروں میں سبزی ، پھلوں ، گوشت ، دودھ اور کریانہ کی دکانوں پر بھی کورونا ایس اوپیز پر کارروائی نہیں ہوتی۔

مقامی کائنات عدنان نے بتایا کہ کورونا کا خطرہ موجود ہے لیکن وہ سارا دن ماسک لگانے سے رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ، لوگ مہنگائی سے ویسے ہی پریشان ہیں ، آٹا اور پینے کے اشارے مہنگا ہورہی ہیں جب ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ پیز پر عمل کون ہے؟

دکان پر سودے بازی والی عورت شہناز خان نے بتایا کہ جن لوگوں نے عام طور پر توقع کی ہے اور نقاب استعمال کرنے کی ضرورت ہے ، اس کو ماسک لگانے کی ضرورت نہیں ہے ، باقی لوگوں کو بھی اس کا استعمال کرنا ہے۔



Source by [author_name]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here