سٹی یونیورسٹٰی ، ہانگ کانگ کے سائنسدانوں نے چند ملی میٹر روبوٹ پر اسپرے کی جگہ حرکت پذیر مقناروبوٹ میں تبدیلی کا اہم کام کیا ہے۔  فوٹو: نیواٹلس

سٹی یونیورسٹٰی ، ہانگ کانگ کے سائنسدانوں نے چند ملی میٹر روبوٹ پر اسپرے کی جگہ حرکت پذیر مقناروبوٹ میں تبدیلی کا اہم کام کیا ہے۔ فوٹو: نیواٹلس

ہانگ کانگ: اب ایک مقناطیسی پھوار سے عام اشارہ بہت آسانی سے لڑائی جھگڑا ہوا ، چل رہا ہے ، اور پھر بھاگ جانا ہے روبوٹ میں بدلا جا دستاویز ہے۔

سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے سائنسدانوں نے ایک خاص اسپرے تیار کیا تھا جس کا تہوار دھاتی اشیا نے چارجنگ کے بعد عجیب اور غریب روبوٹ میں تبدیلی کی عبادت کی۔ اس میں مختلف حرکات کو دلچسپ انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جنوری میں طبی استعمال اور انسانی جسم کے اندر دوائی پہنچنے میں مشکل ہوتی ہے۔

یہ تحقیق کچھ ملی میٹر نمایاں روبوٹ پر مشتمل ہے جو انسانی جسم میں رینگ سکتی ہے۔ سٹی یونیورسٹٰی کی ٹیم سال 2018 سے ان کے کام کی جگہ ہے۔ اب ربڑنما سلیکون سے بنے روبوٹ پر خردبینی مقناطسی ذرات کی بوچھاڑ اچھلنے ، کوڈنے اور رینگنے والے روبوٹ میں تبدیل شدہ ہیں۔ لیکن اس کے بیرونی طور پر مقناطیسی فیلڈ فراہم کرنا ہے۔

اس کے بڑے سرے سے مقناطیسی روبوٹ کی کیسٹ ماہرین کچھ ملی میٹر ‘ملی روبوٹس’ بنائے۔ مقناطیسی اسپرے کو ایم اسپرے کا نام نہیں لیا گیا ، وہ پولی وینائل الکحل ، گلوٹین اور لوہے کے باریک چورے سے تیار ہوئی ہے۔ کسی بھی سطح پر اسپرے کی بات نہیں ہے کہ ہم باریک چادر سی چڑھا ہو اور اس کو کو مقناطیسی کراتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے ڈاکٹر ڈاکٹر شین یا ویزانگ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ایم ایس اسپرے کسی کے بارے میں نہیں ہے لیکن اس کے بعد مقناطیسی فیلڈ (میگنیٹک فیلڈ) حرکت میں قابل بنادیتا ہے۔ اس تہوار کی موٹائی میں ایک ملی میٹر کی ایک چوتھائی کی اصل چیز شیعہ روبوٹ کی جسامت کی رہائش ہے۔ سب سے پہلے دھاگوں ، بارک پلاسٹک اور پلاسٹک کے تسلط پر اسپرے کیا ہوا؟ اس کے تحت سب چھوٹے چھوٹے روبوٹ بنوں چلتے پھرتے ہیں۔ لیکن پتھریلی چیزوں پر یہ تجربہ ہوتا ہے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=bT-z2zYz1Hc

لیکن روبوٹ کو اپنی مرضی کے مطابق چل رہا ہے اور اس کی کمی بیشی کی جاسکتی ہے اور دوسری جگہ مقناطیسی کے میدان میں بھی حسبِ مقام سے حاصل شدہ نتائج حاصل کرتی ہے۔ اسی طرح مقناطیسی ذرات کی ترتیب میں بھی روبوٹ پر اثر پڑھنے کے دستاویزات ہیں۔

اب جو روبوٹ کسی سنیڈی (کیٹرلر) کی طرح چل رہا ہے ، ایک روبوٹ تیزی سے گھوم رہی ہے اور مستقبل میں اس کے جسمانی جسم میں دوا لی جاتی ہے۔ یہ روبوٹ محز کی بات نہیں ہے لیکن ماہرین مختلف جانوروں پر بھی آزمائش کرتے ہیں۔

ایک تجربے میں کسی کو بھی بے ہوش ہو گیا تھا اور اس کے اندر ایم اسپرے بنائے جاتے ہو کچھ ملی میٹر روبوٹ داخل ہوتے ہیں۔ اس طرح کوٹنگ اترنے سے پہلے پہلے کیپسول خرگوش کے جسم میں اپنے مقام تک پہنچنے تک پہنچ گئی تھی۔ اس کی ایک اہم کاوش ہے۔

پروفیسر شین کے مطابق اگر اسپرے اجزا انسانی جسم میں چلی جاو یا پھر وہ بے ضرر انداز میں جسمانی طور پر جذباتی طور پر چلیں یا پھر فضلے سے خارج ہوجائیں۔ لیکن مقناطیسی مِلی روبوٹ کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوسکتی ہے اور نقل و حرکت کا مظاہرہ کرنے والے سینسر ، حادثاتی تحقیق اور دیگر شعبوں کا استعمال کرتے ہیں۔

یہ تحقیق سائنس روبوٹکس نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here