کمپنی کی بات یہ ہے کہ کام کرنے والے چور ملازمین بار بار ٹوائلٹ میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔  (فوٹو: وکی پیڈیا)

کمپنی کی بات یہ ہے کہ کام کرنے والے چور ملازمین بار بار ٹوائلٹ میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ (فوٹو: وکی پیڈیا)

بیجنگ: میڈیا میڈیا کے بارے میں چینی کمپنی کی طرف سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ وہ اس کے دفاتر میں کام کرتا ہے اور دوسری بار ٹوائلٹ چھوڑنے والے ملازمین پر جرمانہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔

” انپو الیکٹرک سائنس اینڈ ٹکنالوجی ” نامی اس چینی کمپنی کے نوٹسوں کے ملازمین کو آگ لگا رہی ہے کہ وہ دفتر میں کام کے دوران صرف ایک بار ہی ٹوائلٹ جاسکتے ہیں ؛ اور اگر کسی ملازمت میں دن میں دوسری بار ٹوائلٹ نہ ہو تو 20 یوآن (تقریباً 500 پاکستانی شہری) جرمانہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

کمپنی کا کوئی نامعلوم ملازمت نہیں ہے ، چینی میڈیا سائٹ سائٹس پر اس کے بعد کرایہ کیا گیا تھا ، اس کے بعد کمپنی کو کوٹنگ میں پڑھنے کا موقع ملا۔

اس کے جواب میں ‘انپو’ کمپنی کا کہنا ہے کہ سست اور کاہل ملازمین اکثر اوقات کام سے بچ جاتے ہیں بار بار ٹوائلٹ میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور مزے سے سگریٹ پیتے رہتے ہیں جو ہر کام کی وجہ سے ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ جرمنی کی رقم ملازمتوں میں تنخواہ میں کسی کاٹیٹیٹی سالیٹی نہیں تھی اور شمشاہی بونس میں کٹوتی کے ذریعہ وصول کی جاتی تھی۔

کمپنی کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ملازمت نہیں ہے تو کسی دن بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ بار بار ٹوائلٹ کی سرگرمی اس پر جرم نہیں ہوگی۔

اس مؤثر واقعات کے بعد میڈیا میڈیا نے اس کمپنی کی حمایت بھی کی ہے اور یہ کام اور کام چور ملازمین انپو کمپنی کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔

بہت سارے لوگوں کو اس رائے سے اتفاق نہیں ہے۔ ہر کام کا کوہل اور کام چور سمجھنا بھی درست نہیں بلکہ مختلف بیماریوں میں بالخصوص ذیابیطس کی وجہ سے بار بار پیشاب آیا ہے اور ٹوائلٹ جانے کی فوری ضرورت ہے۔ یہ پابندی رہائش پذیر افراد کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ورزی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here