آرمی ، نیوی ، فضائیہ کوہ فیول سپلائی کرنا چاہتی تھی لیکن 3 فیصد تیل ایوی ایشن میں 97 فیصد اوپن مارکیٹ میں بیچ دیا گیا (فوٹو: فائل)

آرمی ، نیوی ، فضائیہ کوہ فیول سپلائی کرنا چاہتی تھی لیکن 3 فیصد تیل ایوی ایشن میں 97 فیصد اوپن مارکیٹ میں بیچ دیا گیا (فوٹو: فائل)

کراچی: سندھ ہائی ہائیڈریشن نے دفاعی اینڈھن اور دوپہر مارکیٹ میں 2 ارب 37 سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا ہے جس سے متعلق تفتیشی افسران کو آئندہ سماعت پر ٹرائل کیس میں گواہ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کشمیری محمد اقبال کلہوڑو کی دو رکنی بینچ کی روبرو دفاعی صورتحال ایندھن اورپن مارکیٹ میں 2 ارب 37 سال کی کرپشن سے متعلق ملزمان ذیشان کریمی ، مظاہر حسین اور دیگر افراد کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کی کارکردگی پر اظہار برہمی کیا کیا؟

عدالت نے ریمارکس دیئے ہم نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کیس 2 ماہ میں ہوتا ہے۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمے میں کہا کہ آپ نے دو ماہ کے معاملے میں گوواہان کے بیان کو بھی قلم بند نہیں کیا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ اس کیس میں ایک گواہ گواہی دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر ٹرائل کمیٹی میں گواہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے گواہان کو پیش کیا۔ عدالت نے سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔

نیب کے مطابق شیل کمپنی ملزمان کی غیر رجسٹرڈ کمپنی سے تیل سپلائی کا معاہدہ کیا۔ تیل صاف آرمی ، نیوی اور ائر فورس کو سپلائی کرنا ہے۔ ملزمان صرف تین فیصد تیل ایوی ایشن میں 97 فیصد تیل اور مارکیٹ میں فروخت کررہے ہیں۔

ملزمان نے شیل کمپنی سے 13 لاکھ لیٹر جیٹ فیول خریدا۔ ملزمان نے فیول دفاعی صورتحال کا مظاہرہ کیا اور اس طرح کی مارکیٹ میں ملزمان نے قومی خزانے کو 2 ارب 37 منصوبوں کا سامنا کرنا پڑا۔



Source by [author_name]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here