رواں ماہرین ڈارٹ ڈرون کی بدولت درختوں پر سینسر لگانے والا نظام بنا ہوا ہے۔  فوٹو: نیو اٹلس

رواں ماہرین ڈارٹ ڈرون کی بدولت درختوں پر سینسر لگانے والا نظام بنا ہوا ہے۔ فوٹو: نیو اٹلس

لندن: موسمیاتی تحقیق ، جنگلات کے جائزے اور آتشزدگی کی وجوہ کے بارے میں معلوم کرنے کے ل در درختوں پر برقی سینسر لگائے جاتے ہیں۔ اب ماہرین ڈارٹ ڈرون کے درختوں پر سینسر پھینکنے کا تجربہ کیا ہے؟

امپیرییل کالج کے سائنسدانوں کے مطابق ہر درخت پر سینسر لگانا محال ہوتے ہیں۔ اس نے ڈارٹ ڈرون تیار کیا۔ یہ ڈرون چھوٹے تیروں کی مدد سے برقی سینسر برسات ہیں جو درختوں میں چپکے جاتے ہیں۔ درختوں اور جنگلات میں جزوقتی اور مستقل بنیادوں پر وائرلیس سینسر حص کرہ سے جنگلات کا احوال اور موسمیاتی حال معلوم ہوا ہے۔

اگرچہ ڈرون ڈرون جنگلات کے فرش پر بھی ڈرون گرائے جاسکتے ہیں لیکن وہ گمشدہ ہوچکے ہیں اور ان کی اصل جگہ معلوم کرنا مشکل ہے۔ اب تیر نما ساخت ساخت پر سینسر کی جگہ پر ڈارٹ کی طرح دروازوں سے چپکایا گیا ہے۔ امیپریئل کالج کی ٹیم سب سے پہلے ایک ڈرون پر ڈارٹ پھینکنے والا نظام بنایا گیا۔ اس کے بعد نشانہ لینے کے لیزر سے مدد لی جا رہی ہے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=duPRXCyo6cY

ایک اسپرنگ کی مدد سے سینسر درخت تک رسائی ممکن ہے اور خاص شیپ میموری مٹیریل سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس طرح 650 گرام کا سینسرکاسی تیر کی مانند پرواز کر کے پیوست سرگرمی ہے۔ اگر چار میٹر میٹر دوری سے سینسر پھلکے ہو تو اس کو اپنی منزل پر 10 سینٹی میٹر کے فاصلے پر رکھا جائے گا۔ اگر فاصلہ کم ہو تو 10 سینٹی میٹر کی درستگی مزید بہتر ہوسکتی ہے۔ لیکن ابتدائی تجربات میں ڈارٹ لگے سینسر ٹکرا واپس آئے اور ضائع ہوئے۔ اگلے مرحلے پر سینسر کوختیاروں نے چپکے والے والا پورا نظام دوبارہ تیار کیا۔

اس کا ایک ڈرون ایک مرتبہ چارج پر 17 سینسر پھینک رہا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here