مودی سرکار کے زرعی قوانین کے خلاف ایک ماہ سے جاری احتجاج (فوٹو ، فائل)

مودی سرکار کے زرعی قوانین کے خلاف ایک ماہ سے جاری احتجاج (فوٹو ، فائل)

نئی دہلی: برسوں کے دوران معاشی تنگی اور قرضوں سے خود کُشیاں کرنے والے کسانوں کی بائیوین بھی مودی سرکار کی لڑائی جاری رہی۔

غیر ملکی خبر رساں والوں کا کہنا ہے کہ بدھ کوڈ مودی سرکار کا مقابلہ ایک ماہ تک جاری رہا ، بارش میں معاشی تنگی اور قرضوں کی وجہ سے خود کُشی کرنے والے لوگوں کے بیوائین بھی احتجاج میں رہتے ہیں۔

دہلیوں کے مضافات میں دھرنے پر بیٹھے ایک کسان کی بیوہ ہرشدیپ کور نے خبر دی ہے کہ اس قانون کو کالعدم قرار نہیں دیا جائے گا۔ مزید مائیں اور بہنیں بیوہ ہوں گی۔

واضح رہے کہ دوسرے دہائیوں سے معاشی بدحالی اور قرضوں والے آدم ایڈائیگی نوجوانوں کی خود کُشیاں بھارت کا مستقل مسئلہ بن گیا ہے۔ بھارت کی قومی کریڈیم ریکارڈ کی فہرست 2018 میں 10 ہزار 350 افراد اور زرعی مزدوروں نے خود کشی کی ہے جس میں بھارت میں خود کشی کی 8 فی صد بنٹی ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: کسانوں کا مودی سرکار سامنے آگیا ، احتجاج میں شدید لانے کا اعلان

حکومت کے ساتھ پندرہ دور کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کسانوں کے مودی سرکار سامنے آ چکے ہیں اور کسان مخالف قوانین کی واپسی تک احتجاج ختم نہیں کیا جا رہا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here