دریائے گنگا کے ہوٹل خردبینی پلاسٹک کے اربوں ذرات روزانہ خلیجِ بنگال میں شامل ہمورے ہیں۔  تصویر میں بہار کے مقام پر دریائے گنگا میں کچرا نمایاں ہیں۔  فوٹو: نیشنل جیوگرافک

دریائے گنگا کے ہوٹل خردبینی پلاسٹک کے اربوں ذرات روزانہ خلیجِ بنگال میں شامل ہمورے ہیں۔ تصویر میں بہار کے مقام پر دریائے گنگا میں کچرا نمایاں ہیں۔ فوٹو: نیشنل جیوگرافک

بہار: میگھنا اور برہما پترا دریا سے تشکیل پانے والے دریائے گنگا جب خلیجِ بنگال میں روزہ کے ساتھ انتہائی باریک پلاسٹک کے تین ارب سے زیادہ عرصے تک واقعات میں بھی سمندر کے قریب پہنا ہوا ہے۔

ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا آرہی ہے اور اس پلاسٹک میں 90 فیصد مقدار کا تعلق لباس ہے جس سے ایک ایرک اور ریان سرفہرست ہیں۔ یہ سارے پلاسٹک کپڑا سازی میں ہیں یا پھر اس کا اہم حصہ بھی۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کی خصوصی گنگا پروجیکٹ تحقیق کے بعد شہروں میں ماہرین نے اس کی تشخیص کا اظہار کیا تھا۔

2019 میں مون سون سے پہلے اور اس کے بعد 60 میں 60 نمونے آنے لگیں۔ دریا میں دس مقامات سے پانی کی نمونہ ہوتی ہے اور یونیورسٹی آف پلائے ماؤتھ میں ان کا تجزیہ ہوتا ہے۔ اس میں بنگلہ دیش کے دریائے بھولا کوہ بھی تھے اور مجموعی طور پر تین ارب ذرات دریا میں مل کر پہنچ جاتے تھے۔ اس تحقیق میں بھارت کے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ ، ڈھاکہ یونیورسٹی ، وائلڈ ٹیم ، یونیورسٹی آف ایکسیٹر اور دیگر افراد بھی شامل تھے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں دریاؤں سے کم ہوکر 60 ارب روپیہ پلاسٹک ہیں۔ اس تحقیق سے یہ عمل بہت اچھی طرح سے سمجھا جاتا ہے۔ اس پلاسٹک میں پانی کے 65 افراد سب سے زیادہ افراد سے ہیں۔ پانی کی نمو کے دھرنے موجود ہیں ، دیہی ، زرعی ، سیاحتی ، مذہبی اور دیگر اہم مقامات موجود ہیں۔ خیال ہے کہ یہاں پلاسٹک کا خرچہ زیادہ ہوجاتا ہے اور اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔

دوسری بار برطانیہ میں دریا اور جھیلوں کے پلاسٹک کے سمندر تک جانے سے روکنے کے لئے کوئی نظام نہیں ہے ، حال ہی میں اس میں ایک کروڑ چالیس لاکھ یورو کی رقم بھی رکھی ہوئی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here