برطانیہ زمینی خلائی مدار میں کچرا جمعہ والا پنجہ نما سیٹلائٹ 2025 میں روہانہ ہو گا۔  فوٹو: ایلنور ڈائموسس

برطانیہ زمینی خلائی مدار میں کچرا جمعہ والا پنجہ نما سیٹلائٹ 2025 میں روہانہ ہو گا۔ فوٹو: ایلنور ڈائموسس

لندن: چلوی کمپنی نے ‘دی کلا’ یعنی پنجہ نامی ایک سیٹلائٹ کا منصوبہ پیش کیا ہے جو زمینی مدار میں زیر گردش لاکھوں افراد کو متاثرہ اجسام کو کوئ ‘سکری’ کی طرح جمع کراتے ہیں۔

ہم ہر ماہ نہیں کوئی راکٹ یا سیٹلائٹ زمینی مدار میں بھیجتے ہیں اور یہ سلسلہ دہائیاں جاری ہیں۔ یہ اشیا ناکارہ سرگرمی ہے ، راکٹ کے پھولوں سے زمین کی تکمیل نہیں ہوسکتی ہے اور اس طرح مسلسل زمین کے گردچکر کاٹنے والا رہتا ہے۔ اب ایک انداز یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے بڑے چھوٹے چھوٹے چھوٹے چھوٹے چھوٹے چھوٹے چھوٹے چھوٹے چھوٹے چھوٹے بڑے دار دار جن علاقوں میں مختلف مداروں میں ہیں جنھیں صاف کرنے کے ل درد درد سے زیادہ بڑھتی ہوئ ہے۔ اگر یہ صاف نہیں ہے تو سرجری گردش اس اجسام مستقبل کے خلائی منصوبوں بالخصوص خلائی اسٹیشن کی موت کے پیغام کو یقینی بنائے گی۔

دی کلا نامی سیٹلائٹ 2025 میں مدار کی جو بات ہو رہی ہے اس کا نام ‘کلیئر اسپیس ون’ بھی ہے۔ اس نوعیت کا پہلا خلائی جھارڈو مشکل مقابلہ کرسکتا ہے جس سے خلائی کوڑا کرکٹ صاف رہتا ہے ۔برطانیہ کی ایئرواسپیس اینڈ ڈیفینس کمپنی ایلکنور ڈیموس کے ڈیزائنرز نے اس کی دیگر سسٹم بنائے گی۔ اس میں بجلی کے جنریٹر ، چھوٹے راکٹ تھرسٹر اور اینٹینا نصب ہوں گے۔ اب تک ہم خلا میں 10 ہزار مہمانوں کی سیٹلائٹ بھیج رہے ہیں جن کی جماعت نسبت ہوکر تھی تھی۔ پھر خلائی کچرا ہر طرح کی اور جسامت کی بھی شامل ہے جس میں نٹ بولٹ سے لے کر کران خلانورد بھی شامل تھے۔

پنجوں سے لے کر خلائی کوڑے کے اندر جا رہے ہیں اور زمین پر واپس جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ سیٹلائٹ کود مدار میں بھیجاجائے جہاں کوڑا کرکٹ ہے۔ اس زمین سے اس کچرے کو ٹریک کیا ہو گا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here