’’بات کرو تو بات بنے‘‘ یقینا بات کرنے سے ہی مسائل حل ہوتے ہیں۔ شعور پیدا ہوتا ہے۔ الجھنیں سلجھتی ہیں۔ نئی راہیں کھلتی ہیں۔ خدشات دور ہوتے ہیں۔ غلط فہمیوں کو رفا کیا جاتا ہے۔ توہمات کو دور اور غلط عقائد و رسومات کو رد کیا جاتاہے۔مدد کا حصول ممکن ہوتا ہے۔

بات کرنے سے ہی غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے اور سننے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ ارباب اختیار کو آگاہ اور قائل کیا جاتا ہے۔ خاموشی کی زنجیریں توڑ کر ہی مکالمہ کی فضا بنائی جاتی ہے۔ترجیحات کے تعین میں مدد ملتی ہے۔فوری اور ضروری نوعیت کے اُمور کی نشاندہی ہوتی ہے۔

یوں بات کرنے کے عمل سے معاشرہ اپنے مسائل کی نشاندہی اور اُن کے حل کے قابل ہوتا ہے۔ یعنی بات کرنے سے ہی بات بننا شروع ہوتی ہے۔لیکن اس کے باوجود آج بھی ہم بہت سے ایسے مسائل پر بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں جن پر بات کرنا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ مسائل دیمک کی طرح ہماری معاشرتی اور معاشی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ خواتین پر تشدد کے مسئلے کو ہی لے لیجیے جو خاموشی کے پردوں کو چاک کرنے میں ابھی تک ناکام ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہماری خواتین کی بڑی تعداد تشدد جیسے انسانیت سوز طرز عمل اور رویوں کا شکار ہیں۔

کیونکہ ہمارے محراب اور منبر سے اس مسئلے پر بات نہیں کی جاتی۔ مین اسٹریم میڈیا کو سیاسی موضوعات اور کوریج سے فرصت نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان حصول اقتدار کی جنگ جاری ہے انھیں عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا نصاب عورت کی تکریم اور اُن کے حقوق کی پاسداری نہیں سکھا پارہا۔ گھر کی سطح پر خواتین پر تشدد تو ہوتا ہے لیکن وہاں سے کوئی آواز نہیں اُٹھتی اس کو روکنے کی۔ دفاتر اور کام کی جگہوںکے علاوہ جامعات، کالجز اور اسکول کی سطح تک خواتین اور لڑکیوں کوہراساں کیا جاتا ہے لیکن وہاں بھی اکثرخاموشی ہی رہتی ہے۔

سب سے بڑھ کرجس خاموشی نے اس مسئلے کو سنگین نوعیت کا بنادیا ہے وہ خواتین کا تشدد کا شکار ہونے کے باوجود بھی لب سیئے رکھنے کا طرز عمل ہے۔جس کی نشاندہی پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے2017-18 کے یہ اعدادوشمار کررہے ہیںجن کے مطابق ملک میں تشدد کا شکار56 فیصد خواتین جن کی عمر15 سے49 سال کے درمیان اور وہ شادی شدہ ہیں اپنے پر ہونے والے تشدد کے بارے میں نا ہی تو کسی کو بتاتی ہیں اور نا ہی کوئی مدد حاصل کرتی ہیں۔

اس خاموشی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک میں 15سے49 سال کی عمر کی شادی شدہ خواتین کا 28 فیصد 15 سال کی عمر سے جسمانی تشدد کا شکار ہے۔ سب سے زیادہ تشدد کا شکار خواتین کے تناسب کا تعلق فاٹا سے ہے جہاں یہ شرح56 فیصد ہے۔ بلوچستان میں تشدد کا شکار خواتین کا تناسب ملک بھر میں دوسرے نمبر پر ہے صوبے میں 48 فیصد شادی شدہ خواتین جن کی عمر15 سے49 سال کے درمیان ہے جسمانی تشدد سہتی ہیں۔ 43 فیصد کے ساتھ خیبر پختونخواہ تیسرے نمبر پر ہے۔ سندھ میں ملک بھر میں تشدد کا شکار خواتین کی سب سے کم شرح ہے جو ڈی ایچ ایس 2017-18 کے مطابق 14.6 فیصد ہے۔

خواتین پر تشدد دراصل بچیوں اور خواتین کے انسانی حقوق کی نفی کا عکاس ہے جوکسی خاص معاشرے یا تہذیب تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں اس کی نمائندگی موجود ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر کوئی بھی ملک اس شرمناک فعل کے ارتکاب سے مبرا نہیںاور ہر جگہ خواتین پر تشدد جسمانی، نفسیاتی،جنسی ،معاشی اور جذباتی کسی ایک یا زائد صورتوں میں موجود ہے۔

جوبچپن سے بڑھاپے تک خواتین پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کے مضمرات سماج سے معاش تک پھیلے ہوئے ہیں ۔  اِ ن اثرات سے معاشروں کو آگاہ کرنے اور اس قبیح فعل کو روکنے کی کوششوں کو تقویت دینے کی غرض سے ہر سال 25 نومبر کو اقوام متحدہ کے تحت دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ اور اس کے ساتھ ہی 25  نومبر سے10 دسمبر تک صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ عالمی مہم کا بھی آغاز ہو جاتا ہے۔

خواتین پر ہونے والا کسی بھی قسم کا تشدد اْن کی جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی صحت کو ناصرف متاثرکرتا ہے۔بلکہ عوامی زندگی میں حصہ لینے کے لئے اْن کی صلاحیت کو ختم کردیتاہے۔اور اس تشدد کے اثرات آنے والی نسل تک منتقل ہوتے ہیں۔ خصوصاً بچوں کی نفسیات، تر بیت اور نشوونما پر خواتین کے تشدد کا بہت منفی اثر پڑتا ہے۔خواتین پر تشدد خاندانوں اور کمیونٹیز کو نسل در نسل نقصان پہنچاتا ہے اور معاشرہ میں پائے جانے والے دیگر تشدد کی تقویت کا باعث بنتا ہے۔

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر طرح سے تشدد کا خاتمہ اخلاقی اور انسانی حقوق کی ترجیح ہے۔ اس تشدد کے نمایاں اخراجات بھی ہوتے ہیں جو ترقی کو روکتے ہیں اور غربت کو کم کرنے اور ترقی کو تیز کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یعنی معاشروں کو خواتین پر تشدد کی costs بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں جو بہت زیادہ ہے جس کی جانب بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس میں متاثرہ خواتین کے علاج اْن کی اور اْنکے بچوں کی معاونت اور گنہگاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے حوالے سے خدمات پر آنے والے اخراجات کی مالیت بھی شامل ہے جوبراہ راست اخراجات کی مد میں آتے ہیں۔جبکہ بالواسطہ اخراجات میں روزگار سے محرومی اور پیداواری عمل سے کٹ جانا اور انسانی درد اور مصائب شامل ہیں۔ جس کی وضاحت سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر (ایس پی ڈی سی) ، این یو آئی گال وے ، اِپسوس موری اور خواتین کے بارے میں بین الاقوامی مرکز برائے تحقیق (آئی سی آر ڈبلیو)کی2019  میں جاری کردہ رپورٹ ’’پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے معاشی اور معاشرتی اخراجات‘‘ (اکنامک اینڈ سوشل کاسٹس آف وائیلنس اگینسٹ وومن اِن پاکستان)یوں کرتی ہے کہ پاکستان میں خواتین اور بچیوں پر تشدد کی براہ راستcosts پاکستانی کرنسی میں دو ارب 27 کروڑ27 لاکھ 64 ہزارروپے سالانہ ہے ۔ امریکی کرنسی میں یہ مالیت ایک کروڑ89 لاکھ39 ہزار ڈالر ہے۔

جبکہ خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میںسالانہ ہونیوالے قومی نقصان کی مالیت صرف اکیلے کام سے غیرحاضری کے دنوںکے حوالے سے 146 ملین امریکی ڈالر ہے کیونکہ غیر حاضری کے دن آمدن میں براہ راست نقصان کی عکاسی کرتے ہیں۔پیداواری نقصان کی ایک اور جہت دیکھ بھال کے کام پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ تشدد کی وجہ سے خواتین ایک سال میں تقریبا 11 ملین دن کے برابر کی دیکھ بھال کے کام میں مشغول ہونے سے قاصر ہوجاتی ہیں۔

اسی طرح بچے اپنی ماؤں کے خلاف ہونے والے تشدد سے بھی شدید متاثر ہوتے ہیں نتیجتاً وہ اسکول جانے سے قاصر رہ جاتے ہیں اوراسکول سے غیر حاضری بچوں کی تعلیم کو متاثر کرتی ہے۔جس کا مطلب طویل مدت کے لیے کم صلاحیتوں کا حامل ہونا یعنی ہماری اگلی نسل کی صورت میںموجود انسانی وسائل پر اسکول سے غیر حاضری کا طویل مدتی اثر پڑتا ہے۔رپورٹ کے مطابق والدہ پر کسی بھی طرح کے تشدد کے سبب بچے سالانہ اسکول کے 25 لاکھ دن سے محروم ہوجاتے ہیں۔

غرض خاندانوں پر خواتین اور لڑکیوں پر تشدد جہاں براہ راست اخراجات کا بوجھ کاباعث بنتا ہے وہیں تشدد کا شکار خاتون معاشرے میں اپنی حیثیت کھودیتی ہے اور اُن کے کام کا معیار اور مقدار اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ آمدن میں مسلسل کمی سے مزید مالی دباؤ پڑتا ہے جو فرد ، خاندان اور معاشرتی بہبود پر اثر انداز ہوتا ہے۔

روایتی طور پرہمارے معاشرے میں بڑے پیمانے پر پدرسری ذہنیت کا راج ہے جو پاکستان میں خواتین اور بچوں کے خلاف طرح طرح کے تشدد کا جواز پیش کرتا ہے۔ ملک میں صنفی تشددکے معاملے کو ایک نجی اور گھریلو معاملہ سمجھا جاتا ہے اوراسے کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کو رپورٹ کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

خواتین پر تشدد کی اطلاع دینا اہل خانہ کی عزت کو بدنام کرنے کی کوشش کے طور پر لیا جاتا ہے اور ایسی کوئی کوشش کرنے والوں کے ساتھ جارحانہ سلوک کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں تشدد کا شکار وہ خواتین جو کسی مدد کے لیے کوشش کرتی ہیں اُن کا صرف 1.3 فیصد پولیس کورپورٹ کرتی ہیں۔ 1.1 فیصد سماجی بہبود کی تنظیموں سے رابطہ کرتی ہیں اور صفر عشاریہ پانچ فیصد(0.5)وکلاء تک اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے مسئلہ کو لیکر جاتی ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کا برملا اظہار کررہے ہیں کہ ہمارے ہاں خواتین اور بچیوں پر تشدد کے کیسز کی رپورٹنگ کس قدر کم ہے۔

ملک میں خواتین پر تشدد کے جو اعداوشمار اکٹھے کیے جاتے ہیں وہ زیادہ تراخبارات میں شائع ہونے والی خبروں پر مبنی ہوتے ہیں۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے ملک میں امن وامان کی صورتحال، غیر یقینی سیاسی فضاء ، حادثات ، قدرتی آفات ،کورونا، بین الاقوامی حالات اور سرحدوں پر بھارتی جارحیت پر میڈیا ( اخبارات )کی زیادہ توجہ مرکوزہے۔اس کے علاوہ صحافیوںکو لاحق اپنے روزگار کی غیر یقینی صورتحال کیاان حالات میں خواتین پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی پوری طرح رپورٹنگ ہوتی ہوگی؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ ویسے بھی یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے زیادہ تر واقعات میڈیا میں بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔ پاکستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات کے اعدادوشمار کا ایک اورذریعہ پولیس ریکارڈ بھی ہے۔ جس تک آسان رسائی ایک اہم ایشو ہے۔

لیکن یہ ذریعہ بھی مکمل طور پر قابل بھروسہ( Reliable )نہیں۔کیونکہ ہمارے پولیس نظام کی امیج، پولیس اہلکاروں کا رویہ اور حساسیت کا فقدان ،تھانوں کا ماحول خواتین کے گھریلو تشدد کے واقعات کی اطلاع دہندگی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔جب خواتین پر تشدد کے واقعات درج نہیں ہوں گے تو پھر کیسے اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے قانون کا سہارا لیا جا سکے گا؟۔ماہرین اس کا حل ملک میں موجود قانون اور عدل کے نظام خصوصاً پولیس میں خواتین کی شرکت کو قرار دیتے ہیں۔

کیونکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ امر ہے کہ پولیس میں خواتین اسٹاف کی موجودگی اور عصمت دری کے واقعات کی رپورٹنگ اور موثر تفتیش کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔لیکن اس کے باوجود صورتحال یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں 2017 تک پولیس نفری کا صرف 2.7 فیصد خواتین اسٹاف پر مشتمل تھا۔ اسی طرح نظام عدل میں خواتین کی موجودگی بھی خواتین پر تشدد کے کیسز کے مثبت فیصلوںاور تشدد کی شکار خواتین کو اپنے کیسز عدالت تک لانے اور اُن کی پیروی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

اس حوالے سے پنجاب کے کمشن برائے وقارِنسواں کی پنجاب صنفی برابری رپورٹ2018  (PUNJAB GENDER PARITY REPORT 2018) کے مطابق 2017 میں پنجاب میں ججز کی کل تعداد کا 15 فیصد خواتین ججز پر مشتمل تھا۔ جبکہ مذکورہ سال پنجاب بار کونسل سے رجسٹرڈ وکیلوں کا 11 فیصد خواتین وکلاء پر مشتمل تھا۔اسی طرح صوبہ میں استغاثہ وکیلوں کا 14 فیصد خواتین وکیلوں پر مبنی تھا۔ عدالتوں میں خواتین پر تشدد اور خصوصاً عصمت دری کے کیسز میں ہونے والی جرح اس بات کی متقاضی ہے کہ ایسے کیسزمیںصرف خواتین وکلاء کو پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔ تاکہ متاثرین خواتین کی عزتِ نفس کو مزید مجروح ہونے سے بچایا جاسکے۔

اس تمام تشنگی کا حاصل یہ ہے کہ 2017 میںپنجاب بھر کی عدالتوں نے خواتین کے 7219 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ جن میں سے 315 سزا پر منتج ہوئے اور 6904 مقدمات میں ملزمان بری ہوئے ۔جس کی بنیادی وجہ فارنسک ثبوتوں کی کمی یا پھر گواہوں کی عدم دستیابی تھی۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کم سزا یاب ہونے کے پیچھے ایک اہم وجہ خواتین کے مقدمے کی سماعت کے لئے تیارنا ہونابھی ہے ۔

کیونکہ عدالت کے کمرے میں بار بار اپنی کہانی سنانے سے انھیں دوبارہ صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کمرہ عدالت میں موجود مرد حضرات کے سامنے اپنی آپ بیتی بیان کرنا کوئی اتنا آسان کام نہیں۔اس کے علاوہ ملزم افراد کی انتقامی کارروائی سے تحفظ کا فقدان عدالت سے باہر “سمجھوتہ” کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یوں مذکورہ سال پنجاب میں خواتین پر تشدد کے کورٹ کیسز میں سزا پانے والے کیسز کا تناسب4.36 فیصد رہا۔

ملک میں خواتین پر تشدد کے منظر عام پر آنے والے واقعات کے علاوہ اَن گنت کیسز سامنے ہی نہیں آتے اور گھروں کی چاردیواری کے اندر ہی دباء دیئے جاتے ہیں۔ چاہے وہ خواتین پر جسمانی تشدد ہو،نفسیاتی یا پھر معاشی۔خواتین خود بھی اس کے بارے میں کم ہی زبان کھولتی ہیں۔جو کیسز سامنے آتے ہیں اُن کے اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ ملک میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔

ملک کے تین اردو اور تین انگلش اخبارات سے مرتب کردہ اسسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے اعدادوشمار کے مطابق اِمسال یعنی 2020 کی جنوری تا مارچ کی سہ ماہی اور اپریل تا جون کی سہ ماہی کے دوران ملک میں خواتین پر تشدد کے مجموعی واقعات میں244 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جن کی مجموعی تعداد اول سہ ماہی میں 440 اور دوم سہ ماہی میں1515 رہی۔ ایس ایس ڈی او کے معلومات تک رسائی کے قانون کی مدد سے پولیس سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں موجودہ سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران خواتین پر تشدد کے مجموعی طور پر13362 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔اس کے علاوہ خواتین اور لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پنجاب میں 2015 سے2017 کے دوران خواتین پر تشدد کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جن کی تعدادپنجاب کے کمشن برائے وقارِنسواں کی پنجاب صنفی برابری رپورٹ2018کے مطابق 2015 میں 6505 تھی جو 2017 میں بڑھ کر7678 ہوئی۔ یہاں ایک سوال ذہن میں اُبھرتا ہے کہ آیا ملک میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے یا پھر ان واقعات کی رپورٹنگ بہتر ہونے سے یہ تعداد بڑھی ہے؟یہ سوال جب کراچی سے تعلق رکھنے والی واراگینسٹ ریپ نامی تنظیم کے پروگرام آفیسر شہراز احمد کے سامنے رکھا تو اُنھوں نے اس کا جواب میں کہا کہ ’’ملک میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔

لیکن اُس کی رپورٹنگ اُس طریقے سے نہیں بڑھی۔ مثال کے طور پر گھریلو تشدد یا جنسی تشدد کی بات کی جائے اورخصوصاً بچوں کے ساتھ زیادتی کی تو فیملی کے بڑے اس بات کو دبا دیتے ہیںجس کی وجہ سے یہ بات منظر عام پر نہیں آتی اور کیسز رپورٹ نہیں ہوتے۔دیہی علاقوں میں تو کیسزرپورٹ ہونے کی تعداد شہری علاقوں کے مقابلے میں بہت زیادہ کم ہے‘‘۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے ملک بھر میں خواتین کے تحفظ کے لئے متعدد قوانین منظور کیے ہیں۔ لیکن اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تحفظ کے متعدد ترقی پسند قوانین کی موجودگی کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواتین پر تشدد کے کیسز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جبکہ ہوناتو یہ چاہیئے تھا کہ اِن میں کمی آئے ایسا کیوں ہے؟ شہراز احمد کہتے ہیں کہ ’’اس کی سب سے بڑی وجہ جو قوانین بنائے گئے ہیں اِن پر موثر عملدرآمد کی کمی ہے۔دوسرا سزاؤں کو یقینی نہیں بنایا گیا۔

اس کے علاوہ انصاف کے نظام کے تمام اراکین کی استعدادِکار میں اضافہ کی ضرورت ہے تاکہ اِن قوانین پر صحیح طرح سے عملدرآمد ہوسکے اور سزاؤں کو یقینی بنایا جاسکے جس سے کیسز کی تعداد میں کمی ہوسکے گی‘‘۔پاکستان میں جنسی تشدد کے کیسز کا سزا تک پہنچنے کے تناسب کے بارے میں بتاتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ’’ جنسی تشدد کے کیسز میں سزاؤں کی شرح صرف3 فیصد ہے‘‘ ۔ اُن عوامل کی نشاندہی کرتے ہوئے اُن کا کہناتھا جو کیسز کے درج کرانے اور عدالت سے انصاف لینے تک کے مراحل میں خاتون یا اُس کے گھر والوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتے ہیں۔کہ ’’ اس میں سب پہلا پولیس کا جانبدارانہ اور حوصلہ شکن رویہ ہے۔

جب ایک خاتون تھانہ جاتی ہے تو ڈیوٹی آفیسر کے کمرے میں موجود مرد پولیس اہلکار خاتون سے غیر ضروری سوالات کرتے ہیں۔ جس سے وہ Secondary Victimization  کی طرف چلی جاتی ہے۔ جب میڈیکو لیگل سیکشن میں جاتی ہے تو وہاں لیڈی ڈاکٹرز کی تعداد بہت کم ہے اور وہ اکثر ڈیوٹی پربھی نہیں ہوتیں اور آن کال دستیاب ہوتی ہیں۔

اس حوالے سے تشدد کی شکار خاتون کو اضافی وقت انتظار کرنا پڑتا ہے۔جسکی وجہ سے بھی وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہے۔ اور جب وہ عدالت میں جاتی ہے تو عدالتی کاروائی بہت سست رفتار ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں استغاثہ کے وکیل زیادہ تر مرد ہیں تو خواتین زیادہ سہولت اور آسانی کے ساتھ اُنھیں واقعہ کی تفصیل نہیں بتا پاتیں۔ اس کے علاوہ سوسائٹی کا پریشر بھی تشدد کی شکار خاتون پر ڈالا جاتا ہے ۔اور اکثر خاتون کو ہی موردالزام ٹھرایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے خواتین اور اُن کی فیملی آگے نہیں آتی اور وہ اپنے آپ کو کریمنل جسٹس سسٹم میں Engage نہیں کرتے‘‘۔

نئے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ نے جہاںخواتین پر تشدد کے کیسز کی رپورٹنگ کی حوصلہ افزائی کی ہے وہیں یہ خواتین پر تشدد کی ایک نئی جہت سائبر وائلنس کا بھی باعث بنے ہیں۔یہ کہنا ہے یونیورسٹی آف گجرات کے سینٹر فار میڈیا اسٹیڈیز کے استاد ڈاکٹر ارشد علی کا ۔ ڈاکٹر صاحب پاکستانی فلموں میں خواتین کے Portrayal کے موضوع پر پی ایچ ڈی کرچکے ہیںکہتے ہیں کہ ’’ ہمارے ہاں بد قسمتی سے مین اسٹریم میڈیا کے مندرجات کی اکثریت صرف سیاسی موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔اسی صورت میںسوشل میڈیا نے لوگوں کوخصوصاً تشدد کی شکار خواتین کو بات کرنے کی ہمت اور طاقت دی ہے ۔ جس کی وجہ سے کیسز کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن کسی بھی ٹیکنالوجی کے اچھے اور برے استعمال کی دونوں صورتیں موجود ہیں۔

سوشل میڈیا کے استعمال کا ایک تاریک پہلو خواتین کو بدنام کرنے، انھیں بلیک میل اور ہراساں کرنے کے واقعات سے بھی بھرا پڑا ہے۔لہذا سوشل میڈیا کی اس دو دھاری تلوار کا استعمال دانشمندی سے کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ پسماندگی کی وجہ سے ابھی خواتین کی اکثریت ڈیجیٹل میڈیا  کے ذرائع تک رسائی نہیں رکھتی ہیںاور اُن کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا کے پوری طرح سے استعمال اور فائدہ اٹھانے کے حوالے سے ابھی خواندہ بھی نہیں ہے۔لہذا فوک میڈیا اور ماس میڈیا کے ذرائع کا استعمال معاشرے میں خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خاتمے کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے‘‘۔اس تمام صورت حال میں امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فاروومن، پیس اینڈ سیکورٹی کے وومن، پیس اینڈ سیکورٹی انڈکس 2019/20  میں پاکستان کودنیا کے167 ممالک کی درجہ بندی میں  164 ویںنمبرپر رکھا گیا ہے۔

دنیا کاشاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں خواتین کبھی نا کبھی مارپیٹ، دھونس دھمکیوں ، تذلیل اور محرومی کے مراحل سے نا گزری ہوں۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میںگزشہ ایک سال کے دوران 243 ملین خواتین اور لڑکیاں جن کی عمر15 سے49 سال کے درمیان ہے اپنے مرد ساتھی کی جانب سے جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنیں۔یعنی دنیا کی مذکورہ عمر کے گروپ کی18 فیصدخواتین گزشتہ12 ماہ کے دوران جسمانی اور جنسی تشدد کے تلخ تجربے سے گزری۔لیکن اب اس تعداد میں اضافے کا امکان ہے کیونکہCOAVID-19 کے تناظر میں خواتین اور بچیوں پر تشدد کا موجودہ بحران مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔

ابھرتے ہوئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا کے پھوٹ پڑنے کے بعد سے متعدد ممالک میں خواتین کے خلاف تشدد اور خاص طور پر گھریلو تشدد کی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سیکیورٹی ، صحت اور پیسوں کی پریشانیوں نے معاشرے اور گھر کی سطح پرتناؤ کو پیدا کردیا ہے اور لاک ڈاون کی وجہ سے زندگی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ فرانس میں17 مارچ سے لاک ڈاؤن کے بعد گھریلو تشدد کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ارجنٹائن میں 20 مارچ سے لاک ڈاؤن کے بعدگھریلو تشدد کی ایمرجنسی کالز کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ قبرص اور سنگاپور میں ہیلپ لائنز پر کالز کی تعداد میں بالترتیب 30 اور 35 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ گھریلو تشدد اور ہنگامی پناہ گاہوں کے مطالبہ کے بڑھتے ہوئے واقعات کینیڈا ، جرمنی ، اسپین ، برطانیہ اور امریکہ میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کاوبائی مرض خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے میں اب تک حاصل ہونے والی پیشرفت کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور یہ خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق پائیدار ترقیاتی اہداف پر ہونے والی پیشرفت کو سست کردے گا۔ حالیہ برسوں میںجس کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔نئی سماجی تحریکیں ابھری ہیں اور عوامی اور نجی دونوں شعبوں میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہونے والے تشدد پر توجہ دی جارہی ہے۔

خواتین پر تشدد کے خطرے کے متعددعوامل میں کوویڈ19 کے دوران معاشی عدم تحفظ تشدد کو فروغ دے رہا ہے۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ تشدد کو روکنے کے لئے خواتین کو باقاعدہ ، محفوظ اور طویل مدتی آمدنی تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔ لیکن اگر خواتین کی کمائی بے قاعدہ یا غیر محفوظ ہے تو ان کی معاشی صورتحال کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ متشدد شریک حیات کو چھوڑنے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ مرد کی یا عورت کی آمدنی میں مزید تبدیلیاں بھی خواتین کے خلاف تشدد کو بڑھا سکتی ہیں۔ خاص طور پر اگرروٹی فراہم کرنے والی مرد کی شناخت پر سوال اٹھائے جائیں۔

کوویڈ19کے نتیجے میں وسیع و عریض بے روزگاری تشدد کے خطرات کے عوامل کو بڑھاتی ہے۔اس کے علاوہ تشدد کی صورت میں معاون خدمات تک رسائی ممکن نہیں رہتی۔چونکہ گھر میں رہنے کے احکامات وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے لاگو کیے جاتے ہیںجس کی وجہ سے خواتین متشدد شریک حیات یا مرد ساتھیوں کے ساتھ زیادہ وقت رہنے پر مجبور ہیں اور وہ خود کواُن لوگوں اور وسائل سے الگ تھلگ پاتی ہیں جو اُن کی مدد کرسکتے ہیںکیونکہ نقل و حرکت پر پابندی اور معاشرتی تنہائی کے اقدامات لاگو ہوتے ہیں ۔

لاک ڈاؤن پالیسیوں کی وجہ سے خواتین اور لڑکیوں کو تشدد کے واقعات کی فوری طور پر اطلاع دینے اور عدالتی و دیگر قسم کے تحفظ کے حصول کے لئے تھانوں تک رسائی میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہیں تشدد کی اطلاع دینے یا ہاٹ لائنوں تک رسائی کے لیے فون کالز کرنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے کیونکہ اُن کے متشدد مرد 24 گھنٹے اُن کے ساتھ ہوتے ہیں اور ایسی صورت میں وہ آسانی سے فون کال نہیں کرپاتیں۔

پاکستان میں بھیCOVID-19 کے دوران خواتین پر تشدد کی کیفیت دنیا سے مختلف نہیں۔مطالعات سے یہ پتہ چلا ہے کہ بے روزگاری مردوں میں افسردگی ، جارحیت اور متشدد واقعات کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ ملک میں معاشی سرگرمیوں میں کمی ، معاشی غیر یقینی صورتحال اور لاک ڈاؤن کے پیش نظر روزگار کے مواقعوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جس سے خواتین کو تشدد کے زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

COVID-19  کے دوران ملک میں خواتین پر تشدد خصوصاً گھریلو تشدد میں کی صورتحال جاننے کے لیے فی الحال کوئی باقاعدہ اعدادوشمار دستیاب نہیں ۔لیکن اس کی ایک جھلک ہمیں اسسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ملک کے تین اردو اور تین انگلش اخبارات سے مرتب کردہ اعدادوشمار سے ملتی ہے جس کے مطابق اِمسال یعنی 2020 کی جنوری تا مارچ کی سہ ماہی اور اپریل تا جون کی سہ ماہی کے دوران ملک میں خواتین پر تشدد کے مجموعی واقعات میں244 فیصد اضافہ ہوا ہے۔جبکہ گھریلو تشدد کے انفرادی واقعات کی تعداد میں294 فیصد اضافہ ہوا۔

اپریل تا جون2020 وہ وقت ہے جب ملک میں کوروناکی شدت تھی۔اس کے علاوہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی (پی ایس سی اے) اور پنجاب یونیفائیڈکمیونیکشن اینڈ رسپانس (پکار 15) کے جاری کردہ اعدادوشمار کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد میںنمایاںاضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ اعدادوشمار دو ہنگامی ہیلپ لائنوں پر موصول شدہ کالوں پر مبنی ہیں۔ پکار15 ایمرجنسی لائن میں لاہور کے علاوہ پورے صوبے کا ڈیٹا موجود ہے اور پی ایس سی اے 15 ہیلپ لائن نے لاہور کا الگ الگ ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔اعدادوشمار یہ بتاتے ہیں کہ لاہور میں 15 کی ہیلپ لائنوں پر جنوری تا مئی2020 کے دوران گھریلو تشدد کی 13478 کالز موصول ہوئیں۔ جنوری میں2096 کالز، فروری میں2360 اورمارچ میں2853 کالز موصول ہوئیں۔

ہیلپ لائن کو اپریل میں گھریلو تشدد کی 3079 اور مئی میں3090 کالیں موصول ہوئیں۔ یہ اعدادوشمار واضح طور پر کوویڈ 19 وبائی بیماری کے دوران لاہور میں گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔جبکہ پکار 15 کے اعدادوشمار میں صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کی اطلاعات میں 25 فیصد اضافہ ظاہر کر رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے پہلے (22 فروری سے 22 مارچ) پہلے مہینے میں گھریلو تشدد کے 2581 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد(23 مارچ اور 23 اپریل کے درمیان) رپورٹ شدہ واقعات کی تعداد بڑھ کر3217  ہوگئی جبکہ جزوی لاک ڈاؤن (24 اپریل سے 23 مئی تک)کے دوران شکایات میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ تعداد 2889 کالز پر آگئی۔

یواین وومن اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق اعداد و شماریہ جاننے کا ایک اہم ذریعہ ہیںکہ کس طرح اور کیوں COVID-19  جیسے وبائی امراض کے نتیجے میں خواتین اور بچیوں پر تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ان سے خطرے کے عوامل کی نشاندہی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ اعداد و شمار شواہد پر مبنی پالیسی اور پروگراموں کو ڈیزائن کرنے کے لئے اہم ہیں جو خواتین کی ضروریات کا جواب دیتے ہیں۔خطرات کو کم کرتے ہیں۔ وبائی امراض کے دوران اور اس کے بعد منفی اثرات کو کم کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایسی حکمت عملیوں کی تیاری اور ترقی کے بارے میں اہم بصیرت فراہم کرسکتے ہیں جو مستقبل میں ہنگامی صورتحال اور صحت عامہ کے بحرانوں کے دوران خواتین اور بچیوں پر تشدد کی روک تھام کے لئے خاص طور پر موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

پاکستان میں کویڈ 19 کے دوران پاکستان کی انسانی حقوق کی وزارت نے ایک ہیلپ لائن نمبر 1099 اور واٹس ایپ نمبر 03339085709 کا اجرا کیا ہے جس پر لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ کیے جاسکتے ہیں۔

لیکن اس کے علاوہ کویڈ19 سے بچاؤ اور تیاری کے سلسلے میں پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان میں وبائی امراض کے پھیلنے کے دوران خواتین پر تشددکے حوالے سے فی الحال کوئی بندوبست نہیںکیا گیا ہے۔اور اب ملک کورونا کی دوسری لہرسے متاثر ہونا شروع ہوگیا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پہلو کی جانب بھی توجہ دی جائے۔اس کے علاوہ قومی پالیسیوں ، وفاقی اور صوبائی بجٹ میں خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کی روک تھام اور خواتین کی معاشرتی و معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے مختص فنڈز کو بڑھایا جائے۔ تاکہ پر امن اور خوشحال پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here