کرسپر سی اے ایس نائن کو جینیاتی انجینئرنگ اور جین ایڈیٹنگ کی جدید ترین تکنیک معاہدہ سے متعلق پروگرام۔  (فوٹو: نوبل پرائز ڈاٹ آرگ)

کرسپر سی اے ایس نائن کو جینیاتی انجینئرنگ اور جین ایڈیٹنگ کی جدید ترین تکنیک معاہدہ سے متعلق پروگرام۔ (فوٹو: نوبل پرائز ڈاٹ آرگ)

اسٹاک ہوم: کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے نوبل انتخابات نے اسے سال کیمیا (کیمسٹری) کا نوبل انعام دینے کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق اس سال کا انعام دو ایمانوئل کارپٹیئر اور جنیفر اے ڈوڈنا کوٹے کی شادی سے پہلے کسی بھی حال میں نہیں ہوا تھا۔ تکنیک ” کرسپر ” ایجاد کی ہے۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب سائنس کے شعبے میں کوئی نوبل انعام نہیں ملا۔

رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق ، اس سال کیمیا (کیمسٹری) کا نوبل انعام ” جینوم میں کاٹ چھانٹ کا طریقہ وضع کرنا ہے ” تعلیم کے بارے میں جو فرانسیسی نژاد جرمن ایمانوئل کارپٹیئر اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے معاف والی والی جنیفر اے ڈوڈنا نے مشترکہ طور پر ایجاد کیا ہے۔

بت عبادت چل رہی ہے کہ کسی میں بھی جیورن کی تمام خصوصیات اس کی جینوم (جین کی مجموعی) میں ہوتی ہیں۔ جینوم میں تبدیلی لا کراس جیونی کی خصوصیات بھی تبدیل کردی گئی ہیں۔ البتہ ” جین میں کاٹ چھانٹ ” یعنی ‘جین ایڈیٹنگ’ ” کوئی آسان کام ہر گز نہیں رہا تھا لیکن یہ بہت مشکل اور احتیاط طلب کام ہے۔

عام طور پر ‘جینیاتی انجینئرنگ’ کے عمل کی ضرورت ہے جس میں عملی طور پر بہت سا تجربہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب کے سب بہت زیادہ وقت طلب ہیں اور اس میں غلطی کا امکان بھی بہت زیادہ ہے۔

ایمانوئل کارپٹئیر اور جنیفر ڈوڈنا کی کوششوں کے سلسلے میں ” کرسپر سی ایس ایس نائن ” (CRISPR / Cas-9) عنوان سے جین ایڈیٹنگ کی ایک نئی تکنیک 2012 میں سامنے آئی ہے جس میں ” سی سی ایس نائن ” ہے۔ جینیاتی انجینئرنگ بہت تیز اور درست انداز میں ممکنہ طور پر ہو گی۔

ایکسپریس نیوز کی ویب سائٹ پر ‘کرسپر’ ٹکنالوجی کے بارے میں کچھ شائع شدہ خبریں یہ ہیں:

یہ تکنیک اتنی طاقتور ہے کہ اس کا خیال رکھنے والے بایوٹیکنالوجی کے افق پر ہیں۔ ماہرین پہلے اس کے بارے میں پیش گوئی کرچکے ہیں ‘کرسپر’ ‘قدرتی انقلابی تکنیک ہے کہ اس کا نوبل انعام مل کر ہی رہا ہے۔ آج یہ پیش گوئی بھی درست ثابت ہوا ہے۔

کیمیا (کیمسٹری) کے نوبل انعامات: کچھ دلچسپ تاریخی معلومات

  • 1901 سے 2019 تک کیمیا / کیمسٹری کے شعبے میں 111 مرتبہ نوبل انعامات دیئے گئے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران 8 سال تک جنوری میں کوئی نوبل انعام نہیں لیا گیا۔ 1916 ، 1917 ، 1919 ، 1924 ، 1933 ، 1940 ، 1941 اور 1942 میں کیمیا میں کوئی نوبل انعام نہیں لیا گیا۔
  • 119 119 سال میں کُل 183 افراد کو نوبل انعام کیمیائی دیہاتی جنکا سے فریڈرک سینگر واحد کیمیادان تھا جنوری اس زمرے میں دو مرتبہ (1958 اور 1980 میں) نوبل انعام سے نوازا گیا۔
  • ان میں سے 63 نوبل انعامات کیمیا ایک سائنسدان کو (بلاک کمپنی) نہیں ہیں ؛ 23 انعامات دو ماہرین کو مشترکہ طور پر ؛ کیمیا کے 25 نوبل انعامات میں تین تین تحقیق کاروں کو ایک ساتھ معاہدہ کیا گیا۔
  • نوبل بحث دستخط کے مطابق کوئی بھی نوبل انعام تین افراد میں سے زیادہ افراد میں تقسیم نہیں ہے۔
  • کیمیا میں اب تک پانچ فیصد نوبل انعام حاصل کرنے والی کرکی ہیں ؛ اور یہ تعداد سائنس کے دوسرے شعبہ جات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
  • کیمیا میں نوبل انعام یا ہفتے کے آخر میں بھی دو دو (میری کیوری اور ڈوروتھی کروفوٹ کیمپین) کسی بھی بلاک کمپنی کے بغیر نوبل انعام حاصل کرنے والی تھیں۔
  • 2019 تک کیمیا (کیمسٹری) کا نوبل انعام حاصل کرنا اوسط عمر 58 سال اور تقریباً پانچ ماہ تک جاری رہا۔
  • کیمیا میں سب سے کم عمر نوبل انعام یا ہفتے کے روز سائنسدان فریڈرک جولیٹ جنوری 35 سال کی عمر میں 1935 میں نوبل انعام کیمیا میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مشترکہ طور پر حقدار قرار دیا گیا۔ ان کی اہلیہ آئرین جولیٹ کیوری ، خواتین سائنسدان میری کیوری کی بیٹی
  • اسی کٹیگری میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ سائنسدان جان بی گڈینف ہیں جنوری 2019 میں نوبل انعام کیمیا دیا گیا تھا جو ان کی عمر 97 سال تھی۔ وہ اب تک کسی زمانے میں نوبل انعام حاصل کرنے والے نہیں بلکہ عمر رسیدہ سائنسدان بھی ہیں۔
  • ویسے تو کیمیا کا نوبل انعام حاصل کرنے والے افراد میں سے تین افراد زندگی سے دوچار نہیں ہوسکتے تھے لیکن وہ ایک واحد سائنسدان جنوری میں کیمیا کے شعبے میں دو مرتبہ نوبل انعام حاصل کرتے تھے۔ میری کیوری اور لینس پاؤلنگ کوٹ بھی دو مرتبہ نوبل انعام دیا لیکن میری کیوری کو پہلا نوبل انعام فزکس میں دوسرا کیمسٹری گیا۔ اسی طرح لینس پاؤلنگ کوٹ پہلا نوبل انعام کیمیا میں دوسرا امن کا شعور لے گیا۔
  • نوبل انعام صرف زندہ افراد کو دیا گیا تھا یعنی اس شخص کو کسی شخص کا نامزد نہیں کیا جاسکتا ہے۔
  • 1974 میں نوبل فاؤنڈیشن کے آئین میں تبدیلی آئی تھی ، کسی بھی شخص کے بعد مرگ (مرنے کے بعد) نوبل انعام نہیں ہوا ؛ لیکن اگر نوبل انعام کا اعلان ہوا تو اس سے متعلق نقل و حمل کا عمل اس نوبل انعام کی طرح ہو گا۔
  • 1974 سے پہلے صرف 2 افراد کو موت کے بعد نوبل انعام ملا تھا لیکن اس کے بعد کسی کو مرنے کے بعد نوبل انعام نہیں دیا گیا تھا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here