انڈونیشیا کے بیوٹن قبیلے کے افراد میں جینیاتی کیفیت نے ان کی آنکھوں کو شوخ اور گہرا نیلا رنگ دیدیا ہے۔ فوٹو: کورشنوئی پسریبو انسٹا گرام

انڈونیشیا کے بیوٹن قبیلے کے افراد میں جینیاتی کیفیت نے ان کی آنکھوں کو شوخ اور گہرا نیلا رنگ دیدیا ہے۔ فوٹو: کورشنوئی پسریبو انسٹا گرام

انڈونیشیا: انڈونیشیا میں نیلی آنکھوں والے لوگوں کی شدید قلت ہے۔ یہاں کے لوگوں کے بال گہرے اور آنکھوں کا رنگ بھی سیاہ ہی ہوتا ہے۔ تاہم دوردراز جنگلات میں ایک مقامی قبیلہ ایسا بھی ہے جو نایاب جینیاتی کیفیت میں مبتلا ہے اور اسی بنا پر ان کی آنکھیں شوخ نیلا رنگ اختیار کرچکی ہیں جبکہ بعض افراد کی ایک آنکھ ہی نیلی دیکھی گئی ہیں۔

اس جینیاتی کیفیت کو وارڈنبرگ سنڈروم کا نام دیا گیا ہے جو 42000 میں سے ایک فرد کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری میں اگرچہ جلد اور آنکھوں کی رنگت بدل سکتی ہے لیکن سماعت پر بھی فرق پڑتا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک آنکھ معمول کی رنگ والی ہواور دوسری گہری نیلی جھیل کی طرح حیران کن رنگت اختیار کرجائے۔

انڈونیشیا کے بیوٹن قبیلے کے اکثر افراد اس جینیاتی کیفیت کے شکار ہیں۔ انڈونیشیا کے ماہرِ ارضیات اور شوقیہ فوٹوگرافر کورشنوئی پسریبو نے اس قبیلے کے افراد کو اپنے کیمرے میں مقید کیا ہے۔ یہ لوگ سینکڑوں برس سے اسی جزیرے پر رہائش پذیر ہیں اور جدید زندگی سے دور ہیں۔ ان کی اکثریت وارڈنبرگ سنڈروم کی شکار ہے جس کے بعد ایک یا دونوں آنکھیں ہی نیلی ہوچکی ہیں۔

سب سے پہلے یہ تصاویر انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئیں اور اب یہ دنیا بھر میں مقبول ہورہی ہیں۔ ان تصاویر میں بچوں کی خوبصورت نیلی آنکھیں دیکھ کر ایک دنیا حیران رہ گئی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here