لبنانی نژاد مسلم ڈاکٹر نے اس کی تعلیم مکمل نہیں کی تھی اور وہ ملازمت نہیں کر سکتے تھے ، فوٹو: فائل

لبنانی نژاد مسلم ڈاکٹر نے اس کی تعلیم مکمل نہیں کی تھی اور وہ ملازمت نہیں کر سکتے تھے ، فوٹو: فائل

برلن: جرمنی کی صوبائی عدالت بھی ایک نامحرم عورت سے نہیں ملتی پر مسلمان ڈاکٹر کو جرمنی کی شہادت نہیں دے رہی ہے۔

عالمی نشریاتی تحقیق کے مطابق لبنانی نژاد 40 سالہ مسلمان ڈاکٹر نے شہادت کے معاملے پر پہلے اشٹ گارٹ کی عدالت سے رجوع کیا تھا ، عدالت سے کوئی محرم عورت نہیں تھی ، جس کی بنیاد پر تنازعہ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ماسوسی کے بعد کے ڈاکٹر ڈاکٹر انصاف کے حصول کی بات کرتے ہوئے جرائم کے صوبے بارٹن ورٹمبرگ کی صوبائی عدالت میں مقدمہ دائر نے کیا اس کے بارے میں بھی کہا تھا ، لبنانی نژاد 40 سال ڈاکٹروں کی درخواست غیر متوقع طور پر مسترد کردی گئی تھی۔

بارٹن ورٹمبرگ کی عدالت نے اس فیصلے پر لکھا ہے کہ شہادت کے حصول کی درخواست گزار کوٹ عورت سے ملنے والی عورت شہید نہیں ہے۔ مسلمان ڈاکٹر شہادت 2015 سے جرمنی کی مختلف عدالتوں کے چکر کاٹ ہیں۔

مذکورہ شخص نے عدالت میں اپنے بیانات کے بارے میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ایک شریعت پر عمل کرتی ہے ، غیر محرم عورت سے کوئی رشتہ نہیں لیا جاتا تھا اور وہ کسی عورت سے بھی نہیں ہوتی تھی ، جو کسی دوسری عورت سے ملنے کا وعدہ نہیں کرتی تھی۔

واضح رہے کہ مذکورہ ڈاکٹر نے جرمنی میں اس جرم کی تعلیم حاصل کی تھی جس کے بعد ملازمت شروع کی گئی تھی اور 2012 میں جرمن شہریت کی درخواست پیش کی گئی تھی جس میں 2015 میں ایک خاتون شہری شہید سرٹیفیکٹ ہونے کا انکشاف ہوا تھا جس میں کسی مسلمان ڈاکٹر کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ہاتھ سے ملنے والی



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here