جرمنی میں کورونا کیسز میں ہوشربا اضافی چیزوں پر سخت قواعد نافذ ہونے والوں نے دیکھا ، فوٹو: فائل

جرمنی میں کورونا کیسز میں ہوشربا اضافی چیزوں پر سخت قواعد نافذ ہونے والوں نے دیکھا ، فوٹو: فائل

برلن: جرمنی کی پارلیمنٹ میں ماسک نہیں پہنتے ہیں ارکان پر 5 ہزار سے 25 ہزار یورو تک جرمانہ عائد ہوتا ہے۔

عالمی خبر رسالہ کے مطابق جرمنی کی پارلیمان کے صدر وولفگانگ شوئبلے نے پارلیمنٹ ، پارلیمنٹ لاؤنجز ، میٹنگ روم ، راہداریوں اور لفٹس میں بھی تمام اراکین کو ماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے۔ فوری طور پر نافذالعمل ضوابط 17 جنوری 2021 تک لاگو اکثریت ہوگی۔

ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے واقعات میں لوگو نئے گئے سال تک قواعد کے تحت مسک کی پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان لوگوں کا تعلق پارلیمان سے 5 سے 25 ہزار یورو تک ہوتا ہے اور اس کا پارلیمان کی عمارت میں داخلہ بھی روکا ہوتا ہے۔ تقریر کے دوران ماسک صاف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

میگنگ روم کے اندراور اجلاسوں میں اگر درمیانی میٹر تک فاصلہ ہو تو اس طرح کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے ماسک کو بھی اجازت نہیں مل سکتی ہے۔

دوسری مرتبہ ارکان اسمبلی کا فیصلہ تھا کہ انفیکشن نے پھیلاؤ کو روکنا تھا اور اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔

واضح رہے کہ یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی بھی کورونا وائرس کے بڑے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے حکومت کی حفاظتی ہدایات کی پاسداری سخت ہوسکتی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here