تصویر میں پیراشوٹ کے ایک چھوٹا کیپسول نظر آرہا ہے جس میں رائگو سیارے کی مٹی موجود ہے۔  فوٹو: فائل

تصویر میں پیراشوٹ کے ایک چھوٹا کیپسول نظر آرہا ہے جس میں رائگو سیارے کی مٹی موجود ہے۔ فوٹو: فائل

ٹوکیو: جاپان کی اس نظام سے شمسی چار ارب 60 برس سال قدیم شہابی پر اترنے والی مٹی کے نمونے لے کر آئے ہوئے تھے ‘حیابوسا دوم’ نامی خلائی جہاز زمین پر کامیابی سے اتریں۔

جاپانی وقت کے مطابق صبح کی ڈھائی بجے ، حیابوساٹو آسٹریلیا کے ایک ویران ریگستان میں اترا۔ اس دوران ایک کیپسول زمینی فضا میں کسی شہابے کی طرح داخل ہوا اور پیراشوٹ کھولیں آسٹریلیا میں اترا۔ جاپانی خلائی ایجنسی کے مطابق حیابوسا ایک دوسرے مشن پر روہانہ کی جگہ ہے اور یہ کیپسول سوادولاکھ کلومیٹرڈور ایک شہابے سے مٹی لے زمیں تک پہنچا ہے۔ اس منصوبے پر 15 کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے جو زمین پر 0.1 گرام مٹی ہیروچی ہے۔

یہ اہم مشن جاپانی خلائی تسخیر کی ایجنسی ‘جاکسا’ نے 3 دسمبر 2014 کو زمین سے روانہ کیا تھا۔ 600 کلوگرام وزنی اس جدید ترین خلائی جہاز کوئی رائیگو نامی سیاررویٹ کے بارے میں بھیجا نے بتایا کہ اس کی سطح سے کچھ نمونہ لینے کے لئے زمین کو واپس لے جایا گیا ہے اور اس طرح کی ہیابوسا دوم کے لئے اہم مشن کا ایک حصہ کامیابی سے ہمکنار ہے۔ ہے۔ واضح رہے کہ گھریلو فریج کی جسامت کا رائگو نامی سیارچہ زمین سے سوادولاکھ کلومیٹر دور ہے۔

آسٹریلیا میں موجود جاپانی ٹیم کیپسول اتری ہے جو چند گھنٹوں کے بعد اس کے قبضے میں لیتے ہیں اور اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس میں مٹی کا نمونہ موجود ہے۔ چونکہ یہ شہابیہ خود بہت قدیم ہے اسی طرح کی مٹی کی تحقیق ہم نظامِ شمسی کی پیدائش اور ارتقا کے بارے میں جانکاری کے بہت سارے مقامات ہیں۔ برس برس برس تک جاپانی تجربہ کرنے والے صارفین ان کی تحقیق میں رہیں گے اور انکشافات کریں گے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=LU6WmxGBl78

رائیگو اتر پر ہیہیبوسا ٹو سیار لیٹ پر ٹائٹانیئم دھات سے بنی 5 گرام وزنی گولی فائر فائر اور اس سے دور والی مٹی اور ذرات کو جمعہ۔ اس کے بعد حیاباسو ٹوئیر سیارے کو خیرباد کہا اور وہاں سے دور رہ گئے۔ 5 ارب کلومیٹر کا سفر طے کیا ہوا تھا اور الیکٹرک آئن ٹھرسٹر کا استعمال بھی کیا ہوا تھا؟ اس کی غیرمتعمولی لاگ آئی ٹی آئی کی ہے۔

لیکن جولائی 2026 میں 2001 میں سی سی 21 کے پاس پہنچے ، لیکن اس سے پہلے ہی دو سیارچوں کا پتہ چل گیا تھا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here