ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ان ادویات کی قلت کی وجہ سے کیا ہوا ہے ، وزارت صحت (فوٹو: فائل)

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ان ادویات کی قلت کی وجہ سے کیا ہوا ہے ، وزارت صحت (فوٹو: فائل)

اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) اس نے کابینہ کی منظوری کے بعد جان بچانے والی 94 ادویات کی نئی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق 22 ستمبر کو وفاقی کابینہ نے جان بچانے کے لویات ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی جو آج ڈریپ کی نئی قیمتوں میں ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق جنگی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں ہائی بلڈ پریشر ، کینسر ، امراض قلب کی ادویات اور اینٹی ریبیز ویکسن شامل تھیں۔ ایم آر پی کے حصول کی دو شرائط ہوں گی۔ اد اد ادویات کی اضافی قیمت 31 جون 2021 ء تک منجمد اکثریت۔ ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز 1986 ء کے تحت پییکٹ کے لیبل پر ایم آر پی پرنٹ ہو گیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ریبیز ویکسین کی قیمت 1641 ڈالر ، برنال کریم 30 گرام کی قیمت 35 یورو ، ایپی وال 500 ملی گرام کی 100 گولیوں کی قیمت 1075 روبیس ، بروفین سسپنس کی قیمت 75 کی قیمت ، ایرینیک ٹیبلٹ کی 100 گولیوں کی قیمت 382 دن ، ایرینک فورٹ ٹیبلٹ کی 100 گولیوں کی قیمت 740 ڈالر ، ریواٹرل ٹیبلٹ 2 ملی گرام کی قیمت 282 میٹر ، نیورووبن ٹیبلٹ کی 100 گولیوں کی قیمت 977 روبع ، گلوکو فیچ 750 ملی گرام کی 30 گولیوں کی قیمت 267 تاریخ ، ویرلکس ویکسین کی قیمت 2904 ہے کردا ہے۔

دوسری دواؤں کی صحت سے متعلق ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ادویات کی قلت کا پتہ چلتا ہے۔ صحت کی وزارت صحت کے مطابق ڈرگ پالیسی 2018 ء میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت تھی ، اس وجہ سے وہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرسکتے ہیں جس میں سالانہ اضافہ ہوتا ہے۔

قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ادویات کی مارکیٹ میں قلت آئے گی۔ ادویات کی قلت کی وجہ یہ ہے کہ ادویات بلیک میں مہنگے داموں کی فروخت ہورہی زندگی ہیں۔ بلیک مارکیٹنگ اور قلت کو روکنے کے لئے قیمتوں میں اضافے کا کام چل رہا ہے۔

وزارت صحت کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں میں مناسب اضافے کی اجازت دی تھی جس کے بعد ادویات کی قیمتوں میں مناسب اضافہ ہوا تھا۔



Source by [author_name]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here