پولیو اس وقت پاکستانی بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ جدید دنیا نے اس موذی بیماری کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنا لیا ہے، لیکن اقوام عالم میں پاکستان اور افغانستان وہ دو بدقسمت ممالک ایسے ہیں، جہاں پولیو کے کیس تسلسل سے نمودار ہو رہے ہیں جبکہ المیہ یہ ہے کہ ایٹمی طاقت پولیو کے مرض (کیسز) میں سرفہرست ہے۔

پولیو کا عالمی دن ہر سال 24 اکتوبر کو منایا جاتا ہے اور اس حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایک مکمل اور جامع تحریر قارئین کی نظر کی جارہی ہے، جس سے استفادہ کرتے ہوئے پولیو سے پیدا ہونے والی مستقل معذوری سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ پاکستانی بچوں کے لیے ایک بھر پور صحت مند زندگی کا حصول ممکن ہو سکے گا۔

پولیو مائیلائٹس  (Polio Myelitis) کا لفظ، جو یونانی  زبان پولیوPolio  ”سرمئی” + مائیلوسMylos  ”میرو/گودا” + ائٹس itis  ”سوزش”   سے ماخوذ ہے، 1874ء میں جرمن معالج ایڈولف نے پہلی بار استعمال کیا، اسے پولیو اس لیے کہا جاتا ہے کیو ں کہ یہ اعصابی ٹشوزTissues  Nervous   کے سرمئی رنگ والے حصے پر اثرانداز ہوتا ہے اور اس میں سوزش پیدا کردیتا ہے، جس فالج ہو سکتا ہے ۔

اس کا پہلا نام انفنٹائل فالج  (Infantile Paralysis) تھا۔ اس مرض کی اصل ابتدا کے بارے میں کوئی مستند حوالہ نہیں لیکن شواہد کے مطابق پولیو ہزاروں سال کی لمبی تاریخ رکھتا ہے، جیسا کہ مصری تہذیب سے دریافت ہونے والی مصری اسٹیل Egyptian Stele  پتھر کی نقش و نگاری سے پتہ چلتا ہے، جس میں ایک شخص کو چھڑی کے ذریعے چلتا دیکھا جا سکتا ہے، جس کی ٹانگ اور پیر مفلوج ہیں جو کہ پولیو کی خصوصیت ہے۔ اس بیماری کی پہلی طبی تفصیل 1789ء میں برطانوی معالج مائیکل انڈر ووڈ نے دی تھی، اور اسے 1840ء میں جاکوب ہائن نے ایک مخصوص جسمانی حالت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ پولیو کی پہلی جدید وبائی بیماری صنعتی انقلاب کے بعد شہروں کے پھیلاؤ کے نتیجے میں سامنے آئی اور یہ ایک غیر معمولی بیماری ثابت ہوئی۔

پولیو ایک متعدی بیماری ہے، جس کی وجہ پولیو وائرس ہے، جو بنیادی طور پر دس سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس خاص طور پر ناقص حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کے حالات میں پھیلتا ہے جو کہ پاخانے / انسانی فضلہ سے متاثرہ پانی یا خوراک سے جسم  میں داخل ہوتا ہے، اس کے بعد یہ آنتوں میں پھیل جاتا ہے، جہاں سے یہ اعصابی نظام پر حملہ کر سکتا ہے اور فالج کا سبب بن سکتا ہے جو اکثر مستقل رہتا ہے، یہاں تک کہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیو وائرس صرف انسانوں میں پایا جاتا ہے ۔

اگرچہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے تاہم بچوں کو اس اپاہج کرنے والی بیماری سے بچانے کے لئے ویکسی نیشن ایک مؤثر طریقہ ہے۔ ہر بار جب پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جاتے ہیں، تو ان کے وائرس سے تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے۔

پولیو وائرس کی اقسام

1۔جنگلی پولیو وائرس  (WPV) ، 2۔ویکسین سے حاصل ہونے والا وائرس  (VDPV) ،

وائلڈ پولیو وائرس کی مزید تین ذیلی اقسام ہیں

.i  وائلڈ پولیو وائرس  (WPV-1 )، .ii  وائلڈ پولیو وائرس (WPV-2) ، iii .  وائلڈ پولیو وائرس  WPV-3)

اسی طرح پولیو وائرس سے ماخوذ وائرس  VDPV کی بھی تین ذیل اقسام ہیں:

.i  cVDPV ، .ii  iVDPV، .iii  VDPV

اس وقت پاکستان جنگلی پولیو وائرس ٹائپ 1 اور گردشی ویکسین سے اخذ پولیو وائرس ٹائپ 2 سے متاثر ہے۔

جنگلی پولیو وائرس ٹائپ 1اور ٹائپ 2کو دنیا سے بالترتیب سال 1999ء اور 1912ء میں مٹا دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وائرس صرف انسانوں میں ہی زندہ رہ سکتا ہے نہ کہ دوسرے جانوروں میں جو کہ دنیا سے اس بیماری کے مکمل خاتمے کوممکن بناتا ہے۔ پولیو کا Incubataion Period   (انکیوبیشن پیریڈ ، وائرس کے جسم میں داخل ہونے اور پہلی علامات ظاہر ہونے کی مدت)  10 دن تک ہوتا ہے اور انفیکشن کے تین چوتھائی مریضوں میں فوراً علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

پولیو کی تاریخ

1900ء کے اوائل میں پولیو اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب دیگر جان لیوا امراض مثلاً خناق، ٹائیفائیڈاور تپ دق بین الاقوامی افق پر کم ہو رہے تھے ۔ 1905ء کے لگ بھگ ناروے اور سوئیڈن میںاس کی بڑی وباء سامنے آئی ۔ 1916ء میں نیو یارک کواس پہلی بڑی وباء کا سامنا کرنا پڑا جس میں 9000  سے زائد واقعات میں  3432  اموات ہوئیں۔ اس صدی کے دوران بڑے پیمانے پر وباء پھیلی۔ 1952ء میں امریکہ میں ریکارڈ 62857 واقعات ہوئے۔ انسانوں میں پولیو وائرس ہوسکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ان میں تمام علامات موجود ہوں لیکن یہ وائرس کو دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔

پولیو کی ویکسین سے پیدا ہونے والا پولیو کا مرض (cVDPV) متعدی نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ  OPV  پولیو کی ویکسینیشن( او پی وی) کی 2.7 ملین خوراک میں صرف ایک بچہ پولیو سے متاثر ہوسکتا ہے جو کہ پولیو سے تحفظ کے مقابلے میں بہت ہی کم تناسب ہے۔ پولیو کاوائرس انسانی جسم میں تبدیل ہوسکتا ہے اور یہ تبدیل شدہ وائرس 12 سے 18 ماہ کے دوران جسم سے بذریعہ فضلہ خارج ہوتا ہے اوردیگر بچوں میں بیماری پیدا کرسکتا ہے جن کو پہلے سے حفاظتی قطرے / ٹیکہ جات نہیں ملے۔

پولیو کے مرض میں درج ذیل اقسام ہوتی ہیں:

.1   مفلوج نہ کرنے والا پولیو(Non Paralytic Polio) : کچھ لوگوں میں پولیو کے وائرس سے یہ علامات پیدا ہوتی ہیں جو کہ معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں لیکن اس سے جسمانی معذوری نہیں ہوتی ان میں عام طور پر درج ذیل علامات جو کہ 10 دن تک جاری رہ سکتے ہیں،  شامل ہیں:

(i ) بخار، ((iiگلے کی سوزش ، ((iii سر درد، ((iv متلی / قے کا ہونا، ((v   تھکاوٹ، ((viکمر میں درد یا کھچاؤ، ((viiگردن میں درد یا کھچاؤ، ((viii  بازؤوں یا پیروں میں درد یا کھچاؤ، (ix ) پٹھوں کی کمزوری

.2   مفلوج کرنے والا پولیو(Paralytic Polio) : بیماری کی انتہائی سنگین شکل ہے۔ فالج پولیو کی ابتدائی علامات میں شامل ہے دیگرعلامات مثلاً بخار ،  سر دردجو کہ اوپر دی گئی پہلی قسم سے مماثلت رکھتی ہیں ۔ تاہم ایک ہفتہ کے اندران علامات کے علاوہ دیگر علامات ظاہر ہوتی ہیں مثلاً؛

(i) بے چینی واضطراری ، (ii)  پٹھوں میں شدید درد یا کمزوری، (iii)  پٹھوں کا ڈھیلا پن / طاقت میں کمی

.3  پولیو کے بعد ہونے والی حالت (Post Polio Syndrome) :  یہ پولیو وائرس کے حملے کے بعد ہونے والی صورت حال ہے جو کہ مختلف علامات کا مجموعہ ہوتی ہے، جو کہ پولیو کے حملے کے بعد برسوں تک کچھ لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ان میں درج ذیل علامات شامل ہوسکتی ہیں؛

(i) پٹھوں یا جوڑوں کا بتدریج کمزورہونا/ سوکھنا ،) (ii  تھکاوٹ، (iii)  پٹھوں کاسکڑ جانا (Atrophy)، ) (iv سانس لینے یا نگلنے میں دشواری، (v)  دوران نیند سانس لینے میں دشواری ، (vi)  جسمانی درد ودرجہ حرارت میں کمی

تشخیص

ڈاکٹر اکثر پولیو کو علامات سے تشخیص کرتے ہیں ،  جیسے گردن اور کمر میں کمزوری و کھچاؤ ،  غیر معمولی اضطراب ، نگلنے اور سانس لینے میں دشواری۔ اس کے علاوہ تشخیص کی تصدیق کے لیے کچھ ٹیسٹ بھی کرائے جاتے ہیں مثلاً ناک ،گلے کے مواد کا معائنہ ،  پاخانے کا معائنہ ،  ریڑھ کی ہڈی کے پانی / دماغی سیال کا معائنہ جو کہ تشخیص کرنے میں حتمی ہوتا ہے ۔یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ پولیو کی تشخیص کیلئے پاخانے کا نمونہ لازمی بھجوانا چاہیے۔

علاج

چونکہ پولیو کا کوئی علاج موجود نہیں ہے،  لہذاجسمانی و ذہنی سکون میں اضافہ کے ذریعے اس مرض کی پیچیدگی سے بچاؤ میں معاونت حاصل کی جاسکتی ہے اور مریض کا علاج مستند معالج کے ذریتے ہی کیا جانا ضروری ہے۔ شدید انفیکشن کی صورت میں سانس لینے والے پٹھے متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مریض سانس نہیں لے سکتا ۔ ایسی صورت حال میں مریض کیلئے مصنوعی سانس دینے والی مشینVentilator(وینٹی لیٹر)کا ہونا مریض کی زندگی بچاسکتا ہے ۔ ایسے تمام پولیو سے متاثرہ مریضوں کی جسمانی ورزش ،  مساج،  فزیو تھراپی جلد از جلد شروع کرادینی چاہیے تاکہ پٹھوںکو فعال بنایا جاسکے اور انکو مزید کمزور ہونے سے بچایا جاسکے۔ اس کے علاوہ بخار،  درد  اور ساتھ میں ہونے والے دیگر انفیکشن کیلئے ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔

اس وقت پولیو سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسی نیشن ہے۔ پولیو ویکسین کی دو قسمیں ہیں؛

.1  منہ کے ذریعے پلائے جانے والے قطرے (OPV)

.2  گوشت میں لگائے جانے والے ٹیکے (IPV)

منہ کے ذریعے پلائے جانے والے قطرے (OPV)

یہ ویکسی نیشن سستی ، محفوظ اور موثر ہونے کے ساتھ ساتھ پولیو کے خلاف دیرپا تحفظ مہیا کرتی ہے ۔ اس ویکسین میں پولیو کا وائرس زندہ ہوتا ہے لیکن اس میں بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ۔ یہ دفاعی نظام کو بڑی تیزی سے متحرک کرتی ہے اور مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ویکسی نیشن کے بعد کئی ہفتوں تک وائرس آنت میں موجود رہتا ہے اور جسم سے خارج ہوتا رہتا ہے۔

گوشت میں لگائے جانے والے ٹیکے (IPV)

یہ پولیو کے خلاف گوشت میں لگایا جانے والا حفاظتی ٹیکہ ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً امریکہ میں OPV کے بجائے IPV  استعمال ہوتی ہے ۔ اس میں زندہ جراثیم موجود نہیں ہوتا لہذا اس ویکسی نیشن کے نتیجہ میں بچوں میں حفاظتی ٹیکے سے پولیو پیدا نہیں ہوتا۔ IPV کچھ لوگوں میں الرجک ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔

زیادہ تر بالغ افراد کو پولیو ویکسین کی ضرورت نہیں ہوتی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی بچوں کی طرح ویکسین لیتے ہیں۔ لیکن کچھ بالغ حضرات کو ویکسی نیشن کی ضرورت رہتی ہے، مثلاً؛

(i  اگرآپ کسی ایسے ملک کا سفر کررہے ہیں جہاں پولیو کا خطرہ زیادہ ہو۔

(ii   آپ کسی لیبارٹری میں کام کر رہے ہیں اور پولیو کے نمونوں کو سنبھال رہے ہیں جس میں پولیو وائرس ہوسکتے ہیں۔

(iii   آپ طب کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں جو مریضوں کا علاج کر رہے ہیں جنھیں پولیو ہوسکتا ہے۔

ان تینوں گروپوں میں شامل بالغ افراد نے اگر کبھی پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پئے تو انہیں تین خوراکیں IPV ملنی چاہئیں، جس کا شیڈول درج ذیل ہے؛

(a   پہلی خوراک کسی بھی وقت ۔

(b   دوسری خوراک 1 سے 2 ماہ بعد۔

(c    تیسری خوراک 6 سے 12 ماہ بعد۔

پولیو کے خاتمے کے لئے عالمی اقدام کا آغاز

عالمی ادارہ صحت نے پولیو کے خاتمے کے لئے عالمی سطح پرایک قرار داد منظور کی، جس میں عالمی حکومتوں،  ڈبلیو ایچ او،  روٹری انٹرنیشنل،  یو ایس مرکز برائے امراض روک تھام ،  (سی ڈی سی)، یونیسف ،  بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن شامل ہیں ۔1988ء میں عالمی ادارہ صحت کی گورننگ باڈی نے عالمی پولیو خاتمہ اقدام (جی ۔پی ۔ای۔ آئی) کا آغاز کیا جس کو عالمی سطح پراس مرض کے خاتمے کا کام سونپا گیا تھا۔ سال 1988ء میں دنیا بھر میں350000 کے قریب پولیو کے مریض موجود تھے اور اس سے دنیا کے تقریبا 125 ممالک متاثر تھے۔ ان عالمی اقدامات کے نتیجے میں سال 2018ء تک پولیو کے مرض میں 99 فیصدنمایاں کمی آئی جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

1994ء میں عالمی ادارہ صحت نے امریکہ کو پولیو سے پاک ہونے کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد 2000 ء میں WHO نے مغربی بحرالکاہل خطے اور جون 2002ء کو یورپ سے پولیوکے خاتمے کا اعلان کیا۔ جنوری 2011ء میںہندوستان نے اپنے ملک کو پولیو فری قرار دیا ۔27 مارچ 2014ء کوWHO نے جنوب مشرقی ایشیاء خطے کو پولیو سے پاک ہونے کی تصدیق کی ۔ حالیہ کرونا عالمی وباء کے تناظرمیں 25 اگست 2020 ء میں عالمی ادارہ صحت نے افریقہ کو بھی پولیو سے پاک قرار دیا ہے جو کہ نائجیریا میں پولیو کے خاتمے کیساتھ مشروط ہوا، لیکن اس کے ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس وقت دنیا کی 80 فیصد آبادی اب پولیو سے پاک مصدقہ علاقوں میں رہ رہی ہے۔

یہاں یہ بات بڑی دلچسپی کی حامل ہے کہ عالمی سپر پاور کا سربراہ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ میں 39 سال کی عمر میں پولیو کی تشخیص ہوئی تھی اور اس کے بعداس نے  پوری زندگی وہیل چیئر پر گزاری اور اپنی کمزوری کو اپنے معاملات پر حاوی نہ ہونے دیا جو کہ پولیو کے متاثرین کے لیے ایک بہت بڑی حوصلہ افزاء بات ہے۔ عالمی ادارہ صحت WHO   انفرادی ممالک کے بجائے دنیا کے خطو ں کو پولیو سے پاک ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو06 خطوں میں منقسم کیا ہے جن میں افریقہ، امریکہ،  مشرقی بحیرہ روم،  یورپ،  جنوب مشرقی ایشیاء اور مغربی بحر الکاہل شامل ہیںاور پاکستان مشرقی بحیرہ روم میں شامل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی خطے کو پولیو سے پاک مصدقہ ہونے کیلئے عالمی ادارہ صحت کے درج ذیل معیار پر پورا اترنا لازمی ہے۔

  1. i) اس خطے میں کم از کم تین سال تک کسی بھی مقامی دیسی پولیو کا کوئی واقعہ ریکارڈ نہ ہو۔

(ii  نگرانی کا قابل اعتماد نظام موجود ہو۔

(iii  خطے میں پولیو کے درآمد کیسوں کا پتہ لگانے اور ان کی وجوہات جاننے کی صلاحیت موجود ہو۔

پاکستان 1994ء سے پولیو خاتمہ پروگرام کے ذریعے ملک سے پولیو وائرس کو ختم کرنے کیلئے کاوشیں کررہا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت تقریباً 270000 تربیت یافتہ عملہ پولیو سے بچاؤ کی ویکسی نیشن پر مامور ہے جو کہ اس وقت پولیو کے خلاف دنیا کا سب سے بڑا نگرانی، کوالٹی کوائف جمع کرنے والا نیٹ ورک ہے۔ پاکستان میں 2011ء میں سب سے زیادہ پولیو کیس (198) رپورٹ ہوئے۔ پاکستان نے Covid-19 کی عالمی وباء کے پیش نظر پولیو مہم عارضی طورپر روک دی تھی لیکن جولائی 2020 ء سے پولیو ویکسی نیشن کی تمام سرگرمیوں کو چار ماہ کی معطلی کے بعدشروع کردیا گیا ہے ۔

پہلے مرحلہ میں، 20 سے 28 جولائی2020 ء تک مخصوص اضلاع فیصل آباد،  اٹک،  جنوبی وزیرستان ، کراچی اور کوئٹہ کے کچھ حصے اس میں شامل تھے، پانچ سال سے کم عمر تقریبا 07 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے گئے۔ اس کے علاوہ اگست اور ستمبر 2020ء میں ملک بھر کے 100 سے زائد اضلاع میں تقریباً34 لاکھ بچوں کی پولیو ویکسی نیشن کی گئی۔

2020ء میں تا حال پاکستان میں وائلڈ پولیو کے 74 اور سی وی پی پی وی کے 64 کیسزرپورٹ ہوئے ہیں جن میں خیبر پختونخواہ سرفہرست ہے اوردوسرے نمبرپر صوبہ سندھ  جبکہ 2019ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کل جنگلی پولیووائرس کے 147 اور سی وی پی کے 22 کیسز سامنے آئے اورپچھلے سال بھی خیبر پختونخواہ سرفہرست رہا ہے۔

پولیو کا عالمی سطح پر خاتمہ

دنیا میں اب تین میں سے دو جنگلی پولیو وائرس کا خاتمہ ہوچکا ہے اور دنیا پولیووائرس کے مکمل خاتمے کے حصول کے لئے صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہے۔  اس اعلان کے ساتھ کہ دنیا بھر میں جنگلی پولیو وائرس ٹائپ 3 (WPV3) کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔اب دنیا صرف جنگلی پولیو وائرس ٹائپ ون ،  ون ڈبلیو پی وی 1 کے خاتمے کی طرف توجہ مرکوز کررہی ہے۔

WPV-2، چیچک اورWPV-3 کے بعد انسانی تاریخ میں تیسری بڑی بیماری ہے جس کا دنیا سے خاتمہ کردیا گیا ہے۔

بین الاقوامی صحت کے ضوابط(International Health Regulatioin)

انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز (IHR) کے ذریعہ پاکستان کو WPV1، cVDPV1 یا cVDPV3 سے متاثرہ ریاستی خطہ قرار دیا گیا ہے ، جہاں پولیو وائرس کے بین الاقوامی سطح پر پھیلاؤ کے امکانات موجودہیں۔

سفری سفارشات (Travel Recommendations)

ڈبلیو ایچ او کے بین الاقوامی سفر اور صحت کی تنظیموں نے سفارش کی ہے کہ پولیو سے متاثرہ علاقوں میں جانے والے تمام مسافروں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشی،  04 ہفتوں سے زیادہ عرصہ قیام کرنے زائرین کو OPV یا IPV کی اضافی خوراک سفر کے  04  ہفتوں سے 12 ماہ کے اندر ، اندر لازمی ملنی چاہیے۔ وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 2 (ڈبلیو پی وی 2) کا آخری بار 1999 میں شمالی ہندوستان کے علی گڑھ میں پتہ چلا تھا۔ پولیو خاتمہ کے عالمی کمیشن (GCC )نے باضابطہ اعلان کیا کہ پولیو وائرس ٹائپ- 2 کاخاتمہ 20 ستمبر 2015 ء کو کردیا گیا ہے جبکہ پولیو وائرس ٹائپ 3-کا آخری کیس 10 نومبر 2012 ء کو نائیجیریا میں پایا گیا تھا۔

کرونا وباء کے باعث پاکستان میں میں پولیو کی سرگرمیاں تقریبا 04 ماہ کے تعطل کے بعد جولائی 2020 ؁ء سے دوبارہ شروع بحال ہوچکی ہیں۔ جولائی 2020 ؁ء میں پاکستان کے منتخب اضلاع میں تقریبا  07 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔

ماہ اگست میں ملک بھر کے 125 اضلاع میں پولیو کی مہم چلائی گئی جس میں تقریبا 34 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ ماہ ستمبر میں تقریبا 40 ملین بچوںکا ہدف مقرر کیا گیا تھا ۔  اس کے علاوہ پاک آرمی نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ سال 2021 ؁ء میں پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ کردیا جائے گا جوایک خوش آئند بات ہے ۔

ان دونوں شیڈولز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں پولیو سے بچاؤکے لئے صرف حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں پولیو کے قطروں کے ساتھ ساتھ پولیو کے حفاظتی ٹیکے بھی شامل ہیں کیونکہ پاکستان میں پولیو کے کیسز کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کی روشنی میں پولیو کے قطروں کے ساتھ ساتھ پولیو سے بچاؤ کے لئے ٹیکے کو بھی حفاظتی پروگرام میں شامل کیا  گیا ہے جو کہ پولیو کے قطروں کی آخری خوراک کے ساتھ 14 ماہ کی عمر میں لگایا جاتا ہے، جس کا مقصد پولیو کے خاتمہ کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔

یہاں اس بات کا اظہار کرنا ضروری ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی معاشرے میں پولیو کی حفاظتی ویکسین کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے جو کہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے ۔ پولیو ویکسین ایک محفوظ ویکسین ہے یہ کسی غیر ملکی ، غیر اسلامی طاغوتی،  استحصالی اور سامراجی طاقتوں کا ایجنڈہ نہیں ہے جو پاکستان کی آبادی کو کم کرنا چاہتے ہیں اور اس میں منصوبہ بندی کے حوالے سے کیمیائی مادے شامل ہیں ۔

موجودہ دور میںجدید ٹیکنالوجی ، سہولیات اوردنیا بھر میں سب سے زیادہ پولیو کی نگرانی کرنے والے سٹاف/ نظام کے باوجودپولیو کی عالمی درجہ بندی میںپہلے نمبر پر آنا ایک ایٹمی مسلمان ریاست کیلئے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ لہذا تمام سیاسی ، مذہبی، سماجی وکاروباری حلقے اپنے ذاتی مفادات اور وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اس موذی مرض کے خلاف نہ صرف متحد ہوں بلکہ اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے سول وعسکری قیادت کے ساتھ اس جنگ میں میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے ہراول دستے کا کردار اداکریں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here