تصویر میں ایک ڈرون پر بھڑہ زندہ اینٹینا کوکیا بہت تیزی سے مختلف لڑکے کے دستاویزات ہیں۔  فوٹو: نیو اٹلس

تصویر میں ایک ڈرون پر بھڑہ زندہ اینٹینا کوکیا بہت تیزی سے مختلف لڑکے کے دستاویزات ہیں۔ فوٹو: نیو اٹلس

واشنگٹن: اس عجیب و غریب شیلی کویلیٹر اسماعیلی (بو) کاپٹر کا نام لیا ہوا تھا جو موت (موتھ) کے زندہ اینٹینا سے کام لے گی۔ یہ پرواز کے دوران رکاوٹونوں سے بچنے کی چیزوں کو بھی پسند کرتی ہے۔

اگرچہ ڈرون اور چھوٹے روبوٹ حادثات اور سانحات کے بعد دشوارگزار جگہوں تک پہنچ جاسکتے ہیں لیکن یہ ڈرون وہاں موجود زہریلے مادیسہ ، گیس وغیرہ اور انسانوں کی بوکھلاہٹ بھی ہے۔ لیکن کسی بو بو یا خوشبو سونگنے والے جدید ترین سینسر بھی بہت بہتر ثابت ہوئے ہیں۔ بہت تیزی سے بوٹوں کی شناخت نہیں ہوسکتی ہے۔ بالخصوص پروازیں اس دوران مکمل طور پر ماند پڑجاتی ہیں۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کی میلنی اینڈرسن نے اس مسئلے کا انقلابی حل پیش کیا ہے جس میں ان کا ذکر خاص طور پر اینٹہینا نے کیا ہوا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ برقی نظام فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ’’ ایک زندہ شے کی حساسیت اور روبوٹ تیزی سے ایک مقام پر سمودیا گیا۔

ہم جانتے ہیں کہ بٹھڑیاں حساس اینٹینا سے ماحولیاتی کیمیکل سے متعلق ہیں اور اپنے ساتھی یا غزو کی تلاش میں تلاش کرتی ہیں۔ قدرتی طور پر جس بوٹ کا کیمیکل ہوتا ہے وہ بھٹو کے اینٹینا کے خلیات سے زیادہ طاقتور بناد ہوتا ہے۔ یہ عمل بہت تیزی سے اور بہت اثر انداز ہوتا ہے۔

اس کے ‘مینڈیوسا سیکسٹا ہاک موتھ’ کے اینٹینا کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ماہرین نے بھٹی کوٹ بے ہوش کیا اور اس کے اینٹینا میں چار گھنٹے تک زندہ رہنا باقی رہا۔ اس کے بعد انٹینا سے باریک تار کا جوڑا چلا گیا اور اس نے برقی سرکٹ سے جوڑ لیا اور اس کا سگنل برقی نظام تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد ڈرون کو اڑایا گیا۔ سرنگ میں پروفیوم اور ایتھنول کی بخارات اڑوائے جنگی ڈرون کے سینسر کو فوری طور پر محتاط رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام کواڈکاپٹر استعمال ہوتا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here