’’ جھوٹ مسلسل  بولا جائے تو وہ سچ بن جاتا ہے۔‘‘

                        (جرمن ماہر ِپروپیگنڈا،جوزف گوئبلز)

٭٭

دنیا میں ساڑھے چار ارب افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔آج یہ ڈیجٹل علاقہ فراہمی ِمعلومات کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا۔اس کے فوائد ہیں اور نقصان بھی۔ایک اہم منفی پہلو یہ کہ شرپسند انسانوں سے لے کر حکومتیں تک اس کی وساطت سے دنیا بھر میں جھوٹی خبریں پھیلانے اور مخالفین کو بدنام کرنے کی خاطر پروپیگنڈا کرنے لگی ہیں۔

مدعا یہ کہ اپنے مفادات اور مقاصد پورے کر سکیں۔حکومتیں نان اسٹیٹ یعنی غیر سرکاری مہروں کے ذریعے یہ کام کرواتی ہیں۔اس عمل کو ’’ہائبرڈ یا ففتھ جنریشن وار‘‘ کا نام دیا جا چکا۔پچھلے دنوں بیلجئم کی ایک تنظیم،ای یو ڈس انفو لیب(EU DisinfoLab )کی انکشاف انگیز رپورٹ یہ حقیقت سامنے لائی کہ شرپسندحکمران طبقے کیونکر انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔رپورٹ نے انکشاف کیا کہ بھارتی حکمران طبقہ پچھلے پندرہ برس سے پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی خاطر بذریعہ انٹرنیٹ ایک خفیہ مگر نہایت منظم و مربوط مہم چلا رہا ہے۔اس سے پاکستان کے خلاف مختلف جھوٹ پھیلائے گئے تاکہ وہ انتہاپسند،بے ایمان اور جھوٹی مملکت ثابت ہو سکے۔

گہرائی سے مطالعہ : ای یو ڈس انفو لیب سے ماہرین کمپیوٹر وابستہ ہیں۔ان کا بنیادی کام یہ ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک،اداروں اور افراد کے خلاف انٹرنیٹ پہ جو جھوٹ پھیلائے جاتے ہیں،انھیں حکومتوں اور عوام کے سامنے اجاگر کر دیں۔مدعا یہ کہ حکومتیں اور عوام سچ اور جھوٹ میں تمیز کر لیں۔

یوں کوئی فیصلہ کرنے میں آسانی رہتی ہے۔گویا تنظیم کا کام مثبت اور انسانیت کے لیے مفید ہے۔تنظیم کے ماہرین کی تحقیق سے خصوصاً پاکستان کو بہت فائدہ پہنچا۔پچھلے سال انھوںنے پتا چلایا تھا کہ بھارتی حکومت کی سرپرستی میں ’’265‘‘ویب سائٹس کام کر رہی ہیں۔یہ ’’65‘‘ممالک میں رجسٹرڈ تھیں۔ماہرین نے تھنک ٹینکس اور این جی اوز کا بھارتی نیٹ ورک بھی دریافت کیا۔یہ سبھی عناصر یورپ میں پاکستان کے خلاف مظاہرے کرنے ،نیٹ پر پاکستان مخالف  جھوٹے مضامین شائع کرنے اور بیانات دینے میں مصروف تھے۔اس نیٹ ورک کے طریق واردات پہ ایک مضمون ایکسپریس سنڈے میگزین میں شائع ہو چکا۔

خاص امر یہ کہ ڈس انفو لیب نے تحقیق ختم نہ کی،اس کے ماہرین بھارتی نیٹ ورک کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہتے تھے۔وہ یہ جاننے کے خواہش مند تھے کہ بھارت نے کب سے نیٹ پہ پاکستان مخالف پروپیگنڈاجنگ چھیڑ رکھی ہے۔نئی تحقیق سے مذید حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے جو یورپی تنظیم نے دسمبر 2020ء میں دنیا والوں کے سامنے پیش کیے۔

تنظیم نے بھارتی حکمران طبقے کے کرتوت عیاں کرتے اسکینڈل کو ’’انڈیا کرانیکلز‘‘کا نام دیا۔اس نے ثابت کر دیا کہ دور جدید کا بھارتی حکمران طبقہ بظاہر جمہوریت پسند،سادہ مزاج،اصول پرست مگر حقیقتاً آمریت پسند،عیار ومکار اور قانون شکن ہے۔منہ پہ رام رام ،بغل میں چھری کا مقولہ اس پر موزوں بیٹھتا ہے۔اس نے اپنے مقاصد کی خاطر قانون واخلاقیات کی دھجیاں اڑا دیں۔گاندھی اور نہرو بھی قائداعظم کے مقابل رہے مگر وہ مخالفت میں کبھی اتنے گھٹیا اور پست سطح پر نہیں گرے۔

مردہ انسان اور ادارے زندہ: ڈس انفو لیب کے محققوں کی نئی تحقیق سے منکشف ہوا،بھارتی حکمرانوں نے 2005ء سے نیٹ پر پاکستان مخالف خبروں کا طوفان برپا کر رکھا ہے۔اس دوران نیٹ ورک چلانے کے ذمے دار بھارتی پاکستان مخالف ’’750‘‘ویب سائٹس بنانے میں کامیاب رہے جو جھوٹی خبروں کا منبع بن گئیں۔

یہ دنیا کے ’’116‘‘ممالک میں موجود تھیں۔انکشاف ہوا کہ بھارتیوں نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے مردہ مغربی دانشور زندہ کر ڈالے تاکہ ان کے ذریعے پاکستان کو بدنام کیا جائے۔اقوام متحدہ سے منظور شدہ انسانی حقوق کی جو تنظیمیں ختم ہو چکی تھیں،انھیں بھی حیات نو مل گئی تاکہ پاکستان مخالف جھوٹی خبروں اور تحریروں کو  قابل اعتماد بنایا جا سکے۔اس خوفناک بھارتی نیٹ ورک کے کرتا دھرتاؤں نے معروف مغربی شخصیات کے ناموں سے جھوٹے مضامین چھاپے تاکہ اپنا پروپیگنڈا طاقتور بنا لیں۔حتی کہ تصّوراتی ملاقاتوں اور جعلی کانفرنسوں کی رپورٹیں شائع کیں جن میں ماہرین نے پاکستان میں اقلیتوں پہ جھوٹے مظالم کو نمایاں کیا۔

بھارتی حکمران طبقے نے اپنی شناخت چھپانے کی خاطر منفرد طریق واردات اپنایا۔اس نے مختلف ایجنٹوں کو بھاری رقم دی جنھوں نے جعلی کمپنیاں کھول لیں۔ان کمپنیوں کے ذریعے پھر دنیا بھر میں ویب سائٹس،تھنک ٹینکس اور این جی اوز بنائی گئیں۔یورپی ممالک میں این جی اوز کی جانب سے پاکستان مخالف مظاہرے کرانا بھی ان بھارتی ایجنٹوں کی ذمے دار تھی۔وہ منہ مانگی رقم دے کر کرائے کے مظاہرین جمع کرتے اور ان سے پاکستان کے خلاف مظاہرہ کراتے۔خصوصاً یہ پروپیگنڈا ہوتا کہ پاکستان میں اقلیتوں پہ ظلم ہو رہا ہے۔

ڈس انفولیب کے مطابق سب سے زیادہ ویب سائٹس سری واستا گروپ نامی کمپنی کی جانب سے کھولی گئیں۔کمپنی کا صدر دفتر نئی دہلی میں صفدر جنگ روڈ پر واقع ہے۔کمپنی کے مطابق اس نے میڈیا،کان کنی،آئل ڈرلنگ،توانائی ،تجارت وغیرہ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔مگر ظاہر ہے،یہ بھارتی حکمران طبقے کے گماشتوں کی جعلی کمپنی ہے ۔یہ اس لیے کھولی گئی تاکہ وہ خود کو پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانے والے عالمی نیٹ ورک سے دور رہ سکے۔

بین الاقوامی قانون کا باپ: یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال ڈس انفولیب نے مذموم بھارتی نیٹ ورک طشت ازبام کرنے کے بعد اپنی تحقیق ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔اس دوران ایک اتفاقیہ دریافت نے مگر ماہرین کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پہ مجبور کر ڈالا۔ہوا یہ کہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے پتا چلا کہ بھارتی ویب سائٹس کی رو سے لوئیس بی سوہن(Louis B. Sohn) 2007 ء میں اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں شریک تھا۔اور یہ کہ اس نے 2011ء میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں منعقدہ ایک پاکستان مخالف مظاہرے میں شرکت کی تھی۔

یہ مظاہرہ ’’فرینڈز آف گلگت بلتستان‘‘نامی خود ساختہ تنظیم نے منعقد کیا تھا۔باعث ِتعجب اور چونکے والی بات یہ کہ لوئیس بی سوہن 2006ء میں مر چکا تھا۔1914ء میں پیدا ہونے والا یہ آسٹروی نژاد امریکی علم ِقانون کا نامی گرامی دانشور تھا۔امریکا میں ’’بین الاقوامی قانون کا باپ‘‘کہلاتا ہے۔بھارتیوں نے اس مردہ امریکی کو بھی نہ چھوڑا اوراسے زندہ کر کے اپنی پاکستان مخالف مذموم سرگرمیوں میں استعمال کرنے لگے۔ یہ ہے چانکیہ کے پیروکار بھارتی حکمران طبقے کا اصل روپ!

ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے: پاکستان میں آج بھی ایک مخصوص طبقہ بھارت سے دوستی کرنے کا خواہاں ہے۔یقیناً امن و آشتی سب کا مطمع نظر ہونا چاہیے کہ اس کے بے پناہ فوائد ہیں مگر تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔تاریخی حقائق سے عیاں ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ روز اول سے پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہی ہے تاکہ اسے ختم کر سکے۔اسی باعث بھارت خفیہ و عیاں، ہر ممکن طریقے سے اسلام،بھارتی مسلمانوں اورپاکستان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سیکولر ہوں،روشن خیال وترقی پسند یا شدت پسند،بھارتی حکمران طبقے کے سبھی ارکان ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں۔

مثال کے طور پہ یورپی تنظیم کی تحقیق بتاتی ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے 2005ء سے پاکستان کے خلاف جھوٹ گھڑنے والا نیٹ ورک شروع کیا۔تب تک بھارت میں کانگریس کی حکومت آ چکی تھی جو اعتدال پسند،سیکولر اور مسلمانوں کی حمایتی سمجھی جاتی ہے۔مگر کانگریسی دور حکومت میں بھی پاکستان کے خلاف جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ پورے طمطراق سے جاری رہا۔اس صورت حال سے عیاں ہے،بھارتی جرنیل ہوں،سیاست داں یا سرکاری افسر،اسٹیبلشمنٹ کے سبھی لوگ خاکم بدہن،پاکستان کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

قبل ازیں بتایا گیا،ماضی میں اقوام متحدہ سے منظورشدہ دس سماجی تنظیمیں ختم ہو چکی تھیں۔پاکستان مخالف نیٹ ورک چلانے والوں نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے انھیں زندہ کر ڈالا۔انہی میں ایک تنظیم’’کمیشن ٹو سٹڈی دی آرگنائزیشن آف پیس‘‘کا سربراہ لوئیس بی سوہن تھا۔تنظیموں کے نام یہ ہیں:

  1. The International Institute of Non-Aligned Studies – IINS
  2. The Indian Council of Education – ICE
  3. The Commission to Study the Organization of Peace – CSOP
  4. The International Club for Peace Research – ICPR
  5. The World Environment and Resources Council – WERC
  6. United Schools International – USI
  7. International Association for Democracy in Africa (IADA)
  8. Pan African Union for Science and Technology (PAUFST)
  9. Canners International Permanent Committee (CIPC)
  10. Center for Environmental and Management Studies (CEMS)

درج بالا کے علاوہ بھارتیوں نے اپنی این جی اوز اورتھنک ٹینکس بھی ایجاد کر لیے مثلاً:

1.Baluchistan House

2.South Asia Democratic Forum

3.The Women’s Economic and Social Think Tank

4.The International Council For Inter-Religious Cooperation

5.The European Organization of Pakistani Minorities

غریب ’’فٹ سولجر‘‘: ان سبھی تنظیموں اور تھنک ٹینکس کو بھارتی ایجنٹ جعلی ناموں سے چلاتے رہے۔ان تنظیموں کے نمائندے اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شریک ہو کر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرتے۔خصوصاً یورپی پارلیمنٹ کے کئی ارکان جھوٹی خبروں کو سچ جان کر پاکستان کے خلاف ہو گئے۔

ان تنظیموں کے پلیٹ فارم پہ مختلف این جی اوز ،سیاسی جماعتوں اور تھنک ٹینکس کے رہنما خطاب کرتے رہے۔ان  میں یہ شامل ہیں:بلوچ وائس ایسوسی ایشین،بلوچ پیپلز کانگریس،پشتون تحفظ موومنٹ،جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی،گلگت بلتستان اسٹیڈیز،جموں کشمیر پیس اینڈ ڈویلمپنٹ انسٹیوٹ اور دیگر گروہ جو بظاہر ریاست ِپاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں لیکن ان کے لیڈر غیرملکی فنڈنگ کے سہارے یورپ میں عیش وعشرت کی زندگی گذار رہے ہیں۔جبکہ وہ چند ٹکے دے کر پاکستان میں غریب ’’فٹ سولجر‘‘ ڈھونڈنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

دوسری بڑی بھارتی نیوز ایجنسی: بھارتی نیٹ ورک میں شامل این جی اوز اور تھنک ٹینکس کی سرگرمیوں کی تشہیر واشاعت کے لیے پھر کئی سو میڈیا ویب سائٹس بنائی گئیں۔یہ پوری دنیا میں پھیلی تھیں۔ان سائٹس سے پاکستان کے خلاف جی بھر کر پروپیگنڈا ہوتا اور بے حساب جھوٹی خبریں شائع کی جاتیں۔سائٹس میں ای یو کرانیکل،ای یو آؤٹ لک کام،اریزونا ہیرلڈ،سیرالیون ٹائمز،بنگلہ دیش نیوز،تاجکستان نیوز،بیجنگ نیوز،یمن نیوز،سینٹ پیٹرزبرگ نیوز وغیرہ شامل ہیں۔

جب نیٹ ورک میں موجود تمام سائٹس کوئی پاکستان مخالف جھوٹی خبر پھیلا دیتیں تو اگلا مرحلہ جنم لیتا۔اے این آئی (ایشین نیوز انٹرنیشنل)بھارت کی دوسری بڑی نیوز ایجنسی ہے۔1971ء میں پریم پرکاش نے اس کی بنیاد رکھی۔یہ ایجنسی پاکستان مخالف نیٹ ورک کی ویب سائٹس سے خبریں اٹھاتی اور انھیں مشتہر کر دیتی۔چونکہ دنیا بھر میں اے این آئی قابل اعتماد سمجھتی جاتی ہے۔

لہذا اس کی جاری کردہ خبریں اور تحریریں مستند جان کر اکثر قومی اور عالمی میڈیا ادارے شائع کر دیتے۔گویا بھارتی نیٹ ورک کا طریق واردات یہ تھا کہ پہلے جعلی تنظیموں و اداروں کے ذریعے پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں بنائی جاتیں۔پھر وہ نیٹ ورک کی میڈیا سائٹس میں دی جاتیں ۔پھر اے این آئی کے ذریعے ان پہ مہر تصدیق لگ جاتی۔ ڈس انفو لیب کی رپورٹ سے مگر ثابت ہو گیا کہ اے این آئی بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار ہے اور اس سے جاری کردہ ساری خبریں مصدقہ اور سچی نہیں ہوتیں۔

پاکستان اپنا ادارہ بنائے: دنیائے انٹرنیٹ اور یورپ میں بھارتی حکمرانوں کا مہرہ نیٹ ورک برسلز اور جینوا میں مسلسل پاکستان مخالف مظاہرے کراتا رہا کیونکہ وہیں یورپی پارلیمنٹ اور اقوام متحدہ کے دفاتر واقع ہیں۔ان شہروں میں ’’آزاد بلوچستان‘‘کے پوسٹر بھی بھارتی ایجنٹوں نے چسپاں کیے۔نیز ایسے جعلی گروپ بنائے جو یورپی ارکان پارلیمنٹ کے فیصلوں پہ اثرانداز ہو سکیں۔درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں خصوصاً بھارت حکمران دنیائے انٹرنیٹ میں پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔پاکستانی حکومت کو بھی فی الفور ای یو ڈس انفو لیب جیسا ادارہ بنانا چاہیے ۔

اس ادارے کے ماہرین  نیٹ کی دنیا میں پاکستان مخالف پروپیگنڈے اور جھوٹی خبروں پہ نظریں رکھیں تاکہ ان کا بروقت توڑ ہو سکے۔اس طرح دشمنوں کو پاکستان کے خلاف جھوٹ پھیلانے کا زیادہ موقع نہیں مل سکے گا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here