ستمبر میں تین نوجوانوں کو جلاوطن کردیا گیا تھا اور اس سے ماورائے عدالت قتل کیا ہوا تھا۔ (فوٹو ، فائل)

ستمبر میں تین نوجوانوں کو جلاوطن کردیا گیا تھا اور اس سے ماورائے عدالت قتل کیا ہوا تھا۔ (فوٹو ، فائل)

سری نگر: بھارت کے زیریں تسلط کشمیر میں جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے تین نوجوانوں کی قبر کشائی کے بعد جسد خاکی لواحقین نے اس کو قتل کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں والوں کے مطابق رواں سال 18 جولائی کو کوپن میں بھارتی فورسز کی جعلی مقابلے میں نوجوان امتیاز احمد ، ابرار احمد اور ابرار کھٹانہ کو جعلی کے مقابلے میں شہید ہوئے تھے۔

شہریوں کے لواحقین نے دو مہینوں تک جاری رہنے والے نوجوانوں اور بھارتی فوجیوں کے ساتھ دعویٰ کیا تھا کہ ان لوگوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان کو غلط قرار دیا گیا تھا۔ جس کے بعد 18 ستمبر کو ہندوستانی فورسز نے نوجوانوں کو پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے بارے میں کھانا کھایا۔

بھارتی فوج کے جاری رہنے والے تینوں نوجوانوں کے علاقے راجوری سے تعلق رکھنے والے پاس پورٹ مزدور اور ہندوستانی اہل کاروں سے متعلق خصوصی قوانین حاصل کرنے کے اختیارات غلط قرار دیئے گئے ہیں۔

مقامی پولیس افسروں کو رواں ہفتے کے آغاز میں مقتولین کی شناخت کی اطلاع ملی تھی اور قبر کشائی ہونے والے جسد خاکی لواحقین نے ان لوگوں کو بتایا تھا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: پاکستان کا کشمیریوں کے ماورائےعدالت قتل کی عالمی نگرانی میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے

واضح رہے کہ بھارت کے زیریں تسلط جموں و کشمیر میں جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چھ شہروں کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here