ماہرین نے بیکیلس سبٹائلس بیکٹیریا میں اندرونی گھڑی دریافت کی۔  فوٹو: فائل

ماہرین نے بیکیلس سبٹائلس بیکٹیریا میں اندرونی گھڑی دریافت کی۔ فوٹو: فائل

ڈنمارک: بجلی کی کارخانے میں انسان ، جانور ، پرندے اور پوٹھے بھی اپنے اندرونی (حیاتیاتی) گھڑی کی صورتحال۔ اب تحقیق مستحکم ہے اور وہ بھی اندرونی گھڑی موجود ہے۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ 24 گھنٹے کام کرنے سے مناسب رہتا ہے۔

بیکٹیریا کی گھڑی کا سراغ پنے ہم بایو ٹکنالوجی ، دوا کے کھلونے اور فصلوں کا تحفظ بہت اہم کاموں میں آسان رہتے ہیں۔ لیکن حیاتیات کی گھڑی کو ہم حیاتیاتی گھڑیاں الگ الگ ہیں جو بیرونی عوامل کے تحت کام کرتی ہیں۔ “سرکیڈیئن رمڈ” نے بھی ہدایت کی۔ اسی گھڑی کی بدولت جاندار اجسام بدلتے ہوئے شب و روز اور موسموں کی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہوکر خود کو منظم رہتے ہیں۔

خلیوں کے اندر موجود سالمات بیرونی درجہ حرارت اور دن کی صورتحال کام کرتی ہے۔ اسی طرح انسانوں کے طویل فضائی سفر کے بعد کے دن کی رات میں اس کا اثر پڑتا تھا۔

دو دو عشروں سے ماہرین انسانی خلیات کی اندرونی گھڑی اور پودوں میں ضیائی تالیف (فوٹوسنٹ میں موت واقع ہوئی ہے) میں پوڈوں کے خلیاتی گھڑی کو جاننے والے کوشاں نہیں ہیں۔ اسی طرح انسانی نیند اور دماغی ارتکاز میں پابندی کو سمجھنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ اب اس دریافت سے عوامل کو سمجھنے میں مدد کا حص گیہ ہے۔

اگرچہ زراعت میں بیکٹیریا میں 12 فیصد کا کردار ہوتا ہے لیکن اس کے اندرونی گھڑی سے ہم واقف ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے ضیائی تالیف میں بھی اندرونی گھڑی کا کردار سامنے آیا تھا۔ لیکن الگ تھلگواں بکٹیریا میں یہ بات سامنے نہیں آرہی ہے۔ ماہرین کی شہروں میں ٹیم نے مٹی میں پائے جانے والے لوگوں کو بیکیلس سبٹائلس بیکٹیریا میں اندرونی ردم دریافت کہا ہے۔

اس جینیاتی سطح پر غور کیا گیا؟ اس میں سے ایک جین کا نام یٹوا ہے جو فوٹو ریسپٹر پر نیلی روشنی کی ڈی کوڈنگ کی فراہمی ہے اور دوسرا کائنک انزیمیم اسپورپ اور حیاتی پرت (بایوفلِم) کی تشکیل ہے۔

تجربہ کار طور پر اس نے بیکٹیریئم کو 12 گھنٹے اجال اور 12 گھنٹے اندھیرے میں رکھا تھا جہاں وہ دن اور رات کے مقامات سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن یہ عمل مسلسل اندھیرے میں بھی کام کرتا ہے۔ یعنی خردنامے میں یہ کیفیت اندرونی طور پر پیش آتی ہے اور اس میں اندرونی حیاتیاتی گھڑی کا عام معاملہ بھی ہوتا ہے۔

اس کے عبد جین اور خامرے دونوں درجہ حرارت کی تبدیلی پر بھی عین کارکنوں کا کردار ادا ہوا۔ اس طرح پہلی مرتبہ غیر حاشیئ تالیفی بیکٹیریا میں اس اندرونی گھڑی پائی جاری ہے۔ اس تحقیق سے بیکٹیریا کے انفیکشن اور اس کے علاج کے راستے بھی کھلے ہوئے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here