گوجرانوالہ / چیچہ وطنی: بلاشبہ پیدائش کے بعد بچے کی تربیت میں گھر کے ماحول کا اہم کردار ہوتا ہے، لڑکپن کی دہلیز عبور کرنے کے بعد تادمِ مرگ،  معاشرتی ماحول کے انسانی زندگی پر اچھے یا بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن کے نتائج بعض اوقات خون سفید ہونے کی صورت میں بھی برآمد ہوتے ہیں۔

یہ پنجاب کے ایک گاؤں کے روایتی متوسط کاشتکار گھرانے کی دردناک کہانی ہے۔ محنت کش محمد شفیع کا مختصر کنبہ تین بیٹوں محمداویس، محمد وقاص الحسن،اشفاق الحسن اورایک بیٹی (ف) پر مشتمل تھا، والدین کو قدرتی طور پر پہلی اولاد سے زیادہ محبت ہوتی ہے، یہی وجہ تھی کہ والدین کے بے جا لاڈ پیار نے بڑے بیٹے محمداویس کے مزاج پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے تھے۔

محمد شفیع نے اپنی بساط کے مطابق چاروںبچوں کی تعلیم میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، جب اولاد جوان ہوئی تو دستور زمانہ کے مطابق اُس کے روزگار کی فکر ہوئی تو اپنے بڑے بیٹے اویس کو اڈہ غازی آباد میں دکان بنا دی اور کافی بھاگ دوڑکے بعد چھوٹے بیٹے وقاص الحسن کو ویزا لگواکر سعودی عرب بھجوادیا، سعودی عرب سے آنے والی کمائی سے محمد شفیع کے گھر میں پیسے کی ریل پیل اور خوشحالی آ گئی تو اُس نے فوراً لگے ہاتھوں بیٹی کی شادی کردی، ساتھ ہی اویس کو دکان میں مزید سودا سلف ڈال دیا، جو اُس کی قدرتی کاروباری ذہانت کی بنا پر جلد ہی کامیابی سے چل نکلی۔ اس طرح معقول آمدن کا ایک اور مستقل سلسلہ شروع ہو گیا،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ محمد اویس کے مزاج کا ضدی پن، تند مزاجی میں تبدیل ہوتا گیا۔ گزرتے ماہ و سال کے ساتھ محمد شفیع اس دارِفانی سے کُوچ کر گیا۔

محمد وقاص الحسن کوسال کے آغاز میں ہی’’ کورونا وائرس ‘‘کی وجہ سے وطن واپس لوٹنا پڑا تھا، جس کے بعد وہ بھی بڑے بھائی کے ہمراہ دکان پر بیٹھنا شروع ہو گیا، لیکن اُسے کچھ ہی روز میں اندازہ ہو گیا کہ تند مزاجی کی وجہ سے مستقبل میں بھائی اویس کے ساتھ گزارہ قطعی ناممکن ہے، لہٰذہ وقاص الحسن نے دل ہی دل میں علیحدگی کا فیصلہ کرلیا تھا، قبل ازیں رواں برس مارچ میںاویس کی شادی بھی ہو گئی تھی مگر اویس کی فطری تند مزاجی کی وجہ سے اُس کی ازدواجی زندگی شروع دن سے ہی ناخوشگوار رہی۔ مسلسل کشیدگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر نوبت طلاق تک آپہنچی۔ وقاص الحسن جو پہلے ہی بڑے بھائی کی جھگڑالو طبیعت سے شدید نالاں تھا، اُس نے بھائی اویس کو مشترکہ کاروبار سے علیحدگی کا فیصلہ سناتے ہوئے حساب کتاب کا مطالبہ کردیا۔

لالچی اور خود غرض مسمی اویس اس مطالبے پر بھڑک اٹھا۔ چوں کہ موجودہ کاروبار میں سرمائے کا بڑا حصہ وقاص الحسن کا سعودیہ سے بھیجی رقم کا تھا، لہذا اُس کی علیحدگی کے بعد اویس عملی طور پر قلاش ہو جاتا، جو اُسے کسی طور قابلِ قبول نہ تھا۔ اِس تناظر میں اویس کے شاطر ذہن میں وقاص الحسن سے مستقل چھٹکارے کے لئے ایک خطرناک منصوبہ پرورش پانا شروع ہوگیا۔

17جولائی 2020ء کو اُس کا سابق برادرِ نسبتی مسمی مدثر، اپنی مطلقہ بہن کے جہیز کا سامان واپس لے کر گیا تھا، لہذا اویس نے اِس حُسنِ اتفاق کو سنہری موقع جان کر اپنے بھائی کے قتل کو اپنے سسرال کی انتقامی کارروائی قرار دینے کے شیطانی منصوبہ پر عملدرآمد کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ اُسی شام کو تقریباً ساڑھے سات بجے دونوں بھائی دکان بند کرکے حسبِ معمول اپنی ملکیتی جیپ میں سوار ہوکر اڈہ غازی آباد سے واپس گھر جانے کیلئے نکلے تو دورانِ سفر دونوں بھائیوں میں علیحدگی کے مسئلہ پر تلخ کلامی شروع ہو گئی۔

اِسی اثنأ میںجب گاڑی کھیتوں کے درمیان سے گزرنے والی سڑک پر پہنچی تو لالچ میں اندھے مسمی اویس نے منصوبہ کے مطابق اچانک جیپ روک دی اور گاڑی میں موجود اپنی ملکیتی غیرلائسنسی گن اُٹھا کر اپنے حقیقی بھائی کی چھاتی پر فائر کر دیا، جس سے مسمی وقاص الحسن شدید زخمی ہوگیا۔ بعد ازاں مسمی اویس نے پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آلہ قتل چھپاکر ٹیلیفون پر پولیس کو واردات کی اطلاع دی اورموت وحیات کی کشمکش میں مبتلازخمی بھائی وقاص الحسن کو لے کر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال چیچہ وطنی کے شعبۂ حادثات پہنچ گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔

واردات کی اطلاع ملتے ہی آر پی او ساہیوال طارق عباس قریشی اور ڈی پی او ساہیوال امیرتیمور بزدارکی ہدایت پر ایس ڈی پی او ساجد محمود گوندل فوری طور پر تھانہ صدر کے ایس ایچ او راناآصف سرور سمیت جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور فرانزک ڈیپارٹمنٹ کے ہمراہ تمام دستیاب شواہد اکٹھا کیے۔

ادھر مسمی اویس نے منصوبہ کے عین مطابق قتل کا الزام اپنے سابقہ برادرِ نسبتی مسمی مدثر اور اُس کے دو نامعلوم ساتھیوں پر ڈال دیا۔ پولیس نے حسبِ دستور مسمی محمداویس کی مدعیت میں الزام علیہان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا اور جلد ہی پسِ پردہ اصل حقائق کو بھانپ لیا۔ پولیس نے دولت کی خاطر اپنے ہی حقیقی بھائی کے قاتل کو بے نقاب کرکے پس زنداں ڈال دیا۔ بعد ازاں ایک موقع پر ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگوکرتے ہوئے سفاک قاتل نے اپنے وحشیانہ عمل پر  شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اہلِ خانہ سے معافی کا طلبگار ہوا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here