بہت سے گھروں میں توازن بگڑا ہوا بھی ہوتا ہے، مائیں سارا دن دباؤ میں بھی رہتی ہیں اور پھر انھیں جھڑکیاں بھی سننی پڑتی ہیں۔ فوٹو : فائل

بہت سے گھروں میں توازن بگڑا ہوا بھی ہوتا ہے، مائیں سارا دن دباؤ میں بھی رہتی ہیں اور پھر انھیں جھڑکیاں بھی سننی پڑتی ہیں۔ فوٹو : فائل

کل دفتر میں کھانا کھانے بیٹھی، تو حسب معمول کھانے کے ساتھ ساتھ دفتری ساتھیوں سے باتیں بھی جاری تھیں، ایک ساتھی گھر سے قیمہ لے کر آئی تھی اور قابل ذکر بات یہ تھی کہ یہ اس کے بھائی نے بنایا تھا، اس کے بعد یہی موضوع چل پڑا کہ کس کس کے گھر میں مرد حضرات کھانا پکانے سے شوق کرتے ہیں، اور پھر بات سے بات نکلتی چلی گئی۔

کھانے کے بعد محفل تو برخاست ہوگئی، مگر میں یہ سوچ کر کافی دیر تک مسکراتی رہی کہ ہر گھر میں کم و بیش سات سے آٹھ تو افراد تو ہوتے ہیں اور سبھی اپنے اندر ایک الگ ہی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں، یا بہت سے تو بہت زیادہ قابل ذکر کردار کے حامل ہوتے ہیں، جن میں دادا، دادی، امی ابو، بھائی بھابی، بچے، بہنیں بالخصوص گھر کی ایک الگ ہی رونق ہوتے ہیں۔

گھر میں کسی بزرگ کا ہونا ایک بہت بڑی نعمت ہوتی ہے اور ان کے ہونے سے ماں باپ بھی خود کو با اعتماد اور مکمل سمجھتے ہیں، کسی کی شادی سے لے کر گھر میں ’نئے مہمان‘ کی آمد تک، ہر چیز میں راہ نمائی کرنے اور اپنے تجربے کی بدولت ان کی دوراندیش رائے بہت اہم ہوتی ہے۔

بچوں کی محبت ان سے سب سے زیادہ ہوتی کے کیوںکہ بچے ان سے کہانیاں سنتے ہیں وہ بچوں کو ڈانٹتے نہیں، بلکہ اگر کسی اور سے ڈانٹ پڑ بھی جائے، تو بچے دادی کے پاس آکر ’پناہ‘ لے لیتے ہیں، ان کے کھانے اور دوا دارو کا خیال رکھنے کی ذمے داری زیادہ تر امی یا بہن پر ہوتی ہے۔۔۔

اس کے بعد سب کو اپنی جان سے پیارے والد ہوتے ہیں اور ابو بھی عموماً دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک بہت زیادہ شفیق اور دوستانہ رویہ رکھنے والے اور دوسرے تھوڑے سے غصے والے، جن کے بارے میں دن بھر امی یہ دھمکی دیتی رہتی ہیں کہ ’’آنے دو ذرا شام کو اپنے باپ کو۔۔۔!‘‘ اور بچہ ڈر کے شرارت سے باز آجاتا ہے۔ شام ہوتے ہی جلدی جلدی کھانا بنتا ہے، ہر چیز ابو کے حساب سے کیوں کہ وہ دن بھر کے تھکے ہوئے گھر آئیں گے۔ انھیں کسی بات پر غصہ نہ آجائے اور وہ گھر آکر سکون محسوس کریں۔ والد گھر کی رونق یوں بھی ہوتے ہیں کے رات کا کھانا سب ان کے ساتھ کھاتے ہیں اور دن بھر کی سرگرمیاں بتائی جاتی ہیں۔ تھوڑا ہنسی مذاق اور نوک جھونک سے دن بھر کی فکرات اور کاموں کا دباؤ کافی کم ہو جاتا ہے۔

بہت سے گھروں میں توازن بگڑا ہوا بھی ہوتا ہے، مائیں سارا دن دباؤ میں بھی رہتی ہیں اور پھر انھیں جھڑکیاں بھی سننی پڑتی ہیں، لیکن یہ سب گھر کے بڑوں یا مرد کے ظرف پر منحصر ہوتا ہے، اس کی اپنی تربیت اور سوچ کی عکاسی ہوتی ہے، لیکن یہ بات تو ہے کہ تقریباً ہر گھر میں ہی داخل ہوتے ہی سلام دعا کے بعد دوسرا سوال یہی ہوتا ہے کہ امی کہاں ہیں؟

امی کا سامنے موجود  نہ آنا گھر کے ہر فرد کو ہی بے چین کر دیتا ہے، دراصل ہماری امّیاں ہمہ وقت گھر گرہستی میں ہی مصروف رہتی ہیں، خود پر توجہ ہی نہیں دیتیں اور اگر کبھی وہ لپ اسٹک بھی لگا لیں، تو بچوں کے اس سوال سے تنگ آجاتی ہیں کہ ’آپ کہیں جا رہی ہیں کیا؟‘

یہی صورت حال گھروں کی بڑی بیٹیوں کے لیے بھی ہوتی ہے، اگر گھر کی بڑی اولاد اگر بیٹی ہو تو وہ ماں کا دوسرا روپ ہوتی ہے، بڑی اولاد بیٹی ہونے کے سبب امور خانہ داری میں جُتی ہوئی ماں پر گھر کے کاموں کا بار کافی کم ہو جاتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اسے ایک اپنی ساجھے دار اور ہمہ وقت ساتھ رہنے والی سہیلی بھی میسر آتی ہے، جو گھر میں ماں کا نہ صرف ہاتھ بٹاتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گھر کے ہر چھوٹے بڑے کا احساس بھی کرتی ہے۔ سب کی ضرورتوں کا خیال کرتی ہے، گھر کر ہر فرد کے ساتھ اس کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہوتا ہے، باپ کی لاڈلی، ماں کی پیاری اور وہ شخصیت جو ہر مشکل میں یاد آئے، تو دل کہے یہ مسئلہ اب کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

بہنیں اوپر تلے کی ہوں، تو آپس میں لڑتے جھگڑتے بھی ہیں، لیکن بہن جب بھائی کے ’رازوں‘سے آگاہ ہوتی ہے، تو پھر اس راز کو افشا کرنے کی دھمکیوں اور دباؤ کے طور پر استعمال کرنا بھی بچپن اور لڑکپن کی ایک خوب صورت یاد بن کر تا زندگی ہمیشہ مسکراتا رہتا ہے۔ کتنی ہی بار بہن ابو سے راز فاش کرنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے وقت بے وقت اپنے باہر کے کام کرواتی ہے، کہیں ساتھ جانا ہو، شام کی چائے پر کچھ کھانا ہو یا کوئی سہیلی آجائے اور اس کی تواضع کے لیے چپس اور دیگر لوازمات منگوانے ہوں، تب بھی یہی سلسلہ رہتا ہے۔

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ پہلوٹی کی اولاد بیٹا ہو تو نہ صرف میل جول والے اطمینان کا اظہار کرتے ہیں، بلکہ اس امر کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ یہ بڑا ہو کر گھر بار کا بوجھ اٹھائے گا اور اپنے باپ کا بازو بنے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بڑے ہونے کے بعد بھی اس کا خوب سواگت اور پذیرائی کی جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں بڑی بیٹی کے گھر کو جوڑ کر رکھنے اور گھر گرہستی سے لے کر چھوٹے بہن بھائیوں کی تربیت اور اہل خانہ کی دل جوئی میں دن رات ایک کر دینے پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتا۔

ایک بڑی بہن کس طرح ایثار اور قربانی کا پیکر بنتی ہے، اگر آپ کبھی اس پر غور کریں، تو شاید آپ کی پلکیں بھی ڈبڈبانے لگیں اور آپ کو بھی یاد آجائے کہ آپ کی بڑی بہن نے کس کس طرح صرف آپ کی خوشی کے لیے اپنی خواہشات کی قربانی دی ہوگی۔ آپ کی کام یابی پر کس اپنائیت سے فخر کیا اور آپ کی خوشیوں کو نہ صرف دو چند کیا، بلکہ آپ کے مسائل اور مصائب میں بھی ہمیشہ آپ کے شانہ بشانہ رہی ہوگی۔

ہر چند کہ اسے ماں باپ کی بڑی اولاد ہونے پر کہیں نگاہوں سے اور کہیں باقاعدہ ہدف بنایا گیا ہو کہ ’ائے ہائے، اگر بیٹا ہوتا تو آج کو گھر میں معاشی تنگی نہ ہوتی۔۔۔!‘ لیکن کبھی سوچا ہے کہ ایک جیتے جاگتے انسان کو جب یہ باور کرایا جائے کہ اپنے گھر کے کسی مسئلے کی وجہ اس کا وجود ہے تو اس کے دل پر کیسے آرے چلتے ہوں گے۔۔۔ کیسے وہ خود کو نا کردہ گناہوں کا قصور وار سمجھ کر اندر ہی اندر گھٹنے لگتی ہوگی، اُسے کتنی اذیت محسوس ہوتی ہوگی۔۔۔؟

بہ ظاہر تھوڑی سنجیدہ شخصیت مگر اندر اندر زندہ دل اور ہر مشکل کا سامنا کرنے کا ہنر بڑی بیٹی نے اپنی ماں سے ہی سیکھا ہوا ہوتا ہے، بھائی کی شادی کے بعد اگر خدانخواستہ کبھی بھائی اور بھابی میں اَن بن ہوجائے یا کوئی غلط فہمی پیدا ہونے لگے تو ایسے میںکتنی ہی مرتبہ بڑی بہن ہی ثالثی کا کردار ادا کرتی ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر ’نند‘ کے نام پر اس رشتے کو بدنام ہی دیکھا، سنا اور سمجھا جاتا ہے۔ جیسے ’ساس بہو‘ کا ناتا بدنام ہے، بالکل ایسے ہی نند اور بھاوج کو بھی ایک دوسرے کا حریف سمجھا جاتا ہے۔

نہ جانے ہم کب اس روایتی تلخی سے باہر نکلیں گے اور طعنے تشنوں کے بہ جائے کھل کر بڑی بیٹی اور بڑی بہن کو سراہیں گے۔۔۔ کب انھیں اپنے تکلیف دہ جملوں سے گھائل کرنے کے بہ جائے گلے لگا کر کہیں گے کہ ’’میری بٹیا، تم ہمارے گھر کا فخر ہو۔۔۔!‘‘ یا ’’آپی، اگر تم نہ ہوتیں تو ہم نہ جانے کتنی مشکل اور ادھوری زندگی گزار رہے ہوتے!‘‘



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here