ہجرتیں اور کہانی

اس کتاب کے ورق پلٹیے، تو بہت سے شناسا ناموں پر نگاہ پڑتی ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے کتاب شایع کرانے کے شوقین چھاپ چھاپ کر ڈھیر لگا دیتے ہیں، ویسے ہی اس میں بھی کہیں خوامخواہ کی حرف آرائی نہ دیکھنے کو مل جائے، لیکن جب آگے بڑھتے ہیں، تو ہر موضوع کے نہایت مختصر مندرجات سے اس تاثر کی نفی ہونے لگتی ہے اور بہت سی جگہوں پر کچھ حوالے بھی مل جاتے ہیں، کیوں کہ یہ مصنف احتشام ارشد نظامی کے مختلف شخصیات یا سماجی مسائل اور حالات حاضرہ کے حوالے سے ذاتی خیالات، مشاہدات اور تجربات کا بیان ہے۔

اُن کے بقول یہ کتاب ’وہ رفاقتیں وہ حکایتیں‘ غیرسیاسی مضامین پر مشتمل ہے، لیکن پھر بھی یہاں کچھ نہ کچھ سیاسی تذکرہ نکل ہی آتا ہے۔ جیسے سابق ڈپٹی میئر کراچی عبدالرازق خان کا تذکرہ دیکھیے تو اس میں رازق خان کی زندگی کے نشیب وفراز کے ساتھ ان کی اندوہ ناک موت کا احوال بھی درج ہے۔

جنھیں آج ’شہرِ قائد‘ کے سیاسی منظرنامے میں زیادہ مذکور ہی نہیں کیا جاتا۔۔۔ 367 صفحاتی اس کتاب میں 94 چھوٹے چھوٹے مضامین تین ابواب میں بانٹے گئے ہیں، اس کی اشاعت کا اہتمام ’بزم تخلیق ادب‘  (0321-8291908)سے کیا گیا ہے۔ بہت سی جگہوں پر مختلف شخصیات کے علاوہ کچھ دیگر موضوعات پر بھی حالِ دل سپرد قلم کیا گیا ہے۔ مصنف مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان سے ہوتے ہوئے، اب ’ریاست ہائے متحدہ امریکا‘ کو اپنا وطن کیے ہوئے ہیں۔

 تین آپ بیتیوں کا نچوڑ

کتاب کے مرتب راشد اشرف کے مطابق ہندوستان میں ’ترقی پسند تحریک سے وابستہ عارف نقوی کی آپ بیتیاں تین حصوں میں شایع ہوئیں، ’جلتی بجھتی یادیں‘ میں ان تینوں کتب کا نچوڑ یا خلاصہ جمع کر دیا گیا ہے۔‘ ہم نے اس دل چسپ کتاب کو ٹٹولا تو اس میں عارف نقوی کی ذاتی زندگی اور محلے ’پنجابی ٹولہ‘ کا قصہ، عالمی جنگوں سے جڑی ہوئی کچھ باتیں، اوَدھ کی گُم گشتہ روایات کی بازگشت اور پھر بٹوارے کے ہنگام میں برپا کچھ جذباتی سے قصے ہماری توجہ حاصل کر گئے۔۔۔ ذرا اور آگے بڑھیے، تو اس میں دیس کے واقعات کے ساتھ جرمنی کی بازگشت بھی بدرجہ اتم موجود پائیے۔۔۔ سجاد ظہیر، حسن ناصر، چکبست، عبدالحلیم شرر، فراق گورکھ پوری سے لے کر کشن چندر وغیرہ تک کے تذکرے بھی یہاں خوب سمٹے ہوئے ہیں۔

اس لیے یہ بات کہنا کچھ ’اضافی‘ سا معلوم ہوتی ہے کہ اس میں عہد کے ہنگاموں سے لے کر ترقی پسندوں کے نشیب وفراز کے ساتھ 1947ء کے بٹوارے کے ہنگام کے بعد پیش آنے والے واقعات کا کتنا نزدیکی مشاہدہ شامل ہوگا، جس نے اسے ایک اہم دستاویز بنا دیا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ اس میں عارف نقوی کی تینوں تصانیف سے کچھ مضامین یا حصے علاحدہ کر کے جمع کیے گئے ہیں، بلکہ مرتب کے بقول ’اس میں تینوں کتابوں سے مصنف کی جانب سے کہی جانے والی تمام اہم باتیں شامل کر دی گئی ہیں۔‘ تاہم کتاب کے مصنف کے طور پر عارف نقوی کا نام ہی درج کیا گیا ہے، کتاب کے مندرجات کے الگ الگ عنوانات تلے ہونے کے باوجود ابتدا میں ’فہرست‘ کی کمی کافی محسوس ہوتی ہے۔ اس 348 صفحات کی قیمت 400 روپے رکھی گئی ہے اور اشاعت کا اہتمام ’اٹلانٹس پبلی کیشنز‘ (021-32581720, 0300-2472238) سے کیا گیا ہے۔

’روایات‘ پر کاری ضربیں

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اپنی اس تصنیف میں جہاں بہت سی دقیانوسی رسموں اور رواجوں کے خلاف لکھتی ہیں، وہیں بہت سی روایتوں کے راستے صنف نازک پر عائد کی گئی پابندیوں اور رکاوٹوں کو بھی بہت پرے اٹھا پھینکتی ہیں۔ وہ نہایت بے باکی سے ایسے ایسے موضوعات کو بھی اپنا ’کالم‘ کرتی ہیں، جن پر عام حالات میں اشاروں کنایوں میں ہی گفتگو ہو پاتی ہے۔

اس کتاب میں وہ حقوقِ نسواں اور خواتین کی آزادی کی جنگ میں صف اول میں کھڑے ہو کر نہایت جارحانہ انداز میں ’حریفوں‘ پر گرج اور برس رہی ہیں، جس میں سماج کی بہت سی مشہور شخصیات بھی موضوع ہو جاتی ہیں۔ یوں کہیے تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ اپنی ہر تحریر میں ہی مردوں کے سماج سے نبرد آزما دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی یہ کتاب ویب سائٹ ’ہم سب‘ پر لکھے گئے ان کے کالموں کا مجموعہ ہے، جسے بہ عنوان ’کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ‘ مجتمع کیا گیا ہے، کالم قرار دیے جانے والے یہ ’بلاگ‘ یا تحریریں چوں کہ ایک ویب سائٹ کی زینت بنی ہیں، اس لیے ہر ممکن اختصار کا مظہر بھی دکھائی دیتی ہیں۔

بہت سے مضامین کے ساتھ ضروری تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔ کتاب کے مشمولات پر نگاہ ڈالیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصے میں انھوں نے خواتین کے تعلق سے رونما ہونے والے مختلف واقعات اور تجربات پر قلم آرائی کی، وہیں ساتھ میں انھوں نے ہمارے سماج کی روایتی ’جکڑ بندیوں‘ پر بھی سخت ضربیں لگائیں۔ کتاب کے ’فلیب‘ سے ’پسِ ورق‘ تک ’ہم سب‘ کے مدیر وجاہت مسعود کی رائے درج ہے، جب کہ ابتدائی اوراق میں مہ ناز رحمن، انور سن رائے، ڈاکٹر عارفہ سید، افتخار عارف، ستیہ پال آنند اور نیلم احمد بشیر کے لکھے گئے تبصرے شامل کیے گئے ہیں۔

سخن وَری سے آراستہ سفرنامہ

روئے زمین کی ایک منفرد ترین نگری ’افریقا‘ کے سفر کی داستان سموئی ہوئی اس کتاب میں جا بہ جا شاعرانہ پیرائے اظہار ملتے ہیں، جو کہیں تو وہ اسی سفر کے دوران وارد ہوئے ہیں، جب کہ کچھ انھوں نے منظر کے بیان کی تکمیل کو سخن وَری کا سہارا لیا ہے۔ سفری احوال میں کہیں کہیں بالکل ڈائری کا گمان ہوتا ہے، تو کہیں یہ روزنامچے والا انداز پس منظر میں چلا جاتا ہے اور مشاہدات اور احساسات کا غلبہ ہونے لگتا ہے۔

افریقا کا ذکر ہے، تو وہاں نسلی امتیاز اور اس کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے بھی واقعات اور جذبات کا اظہار بھی دکھائی دیتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سفرنامے کی ایک اہم خصوصیت اس کی چھوٹے چھوٹے موضوعاتی ٹکڑوں میں بانٹ ہے۔ کینیڈین ادیب پروفیسر ڈاکٹر وارین کیریو کے الفاظ میں پروین شیر اپنے بیانیے میں اندر ہی اندر ایک عقبی راہ سے فلسفیانہ فکر، یادوں اور جذبوں کو ہمارے سامنے لاتی ہیں۔

صدر شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر ابوالکلام قاسمی کہتے ہیں کہ اظہار اور اسلوب میں ایک ایسی جامعیت ہے، جو کسی مخصوص شخص یا مخصوص علاقے کی محدود اذیت اور قدروں کے بحران کو آفاقیت اور ہمہ گیری میں تبدیل کردیتی ہے۔‘‘ یہ سفرنامہ ’چند سیپیاں سمندروں میں‘ راشد اشرف نے معروف سلسلے ’زندہ کتابیں‘ کے تحت فضلی بک سپر مارکیٹ سے شایع کیا گیا ہے۔ صفحات 232 اور قیمت صرف 200 روپے رکھی گئی ہے۔

’’جعلی سائنس دانوں‘‘ سے سوالات

پہلی نظر میں ہمیں ایسا لگا کہ یہ ناول زمین اور کائنات کے بنیادی سائنسی رموز آشکار کرتا ہوگا، لیکن جب ورق گردانی کی تو پتا چلا کہ اس میں تو آج کی سائنسی تحقیق کا رَد کیا گیا ہے، جیسا کہ یہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، جب کہ اس میں تو یہ کہا گیا ہے کہ زمین ساکن ہے اور یہ سارے اور ستارے اس کے گرد حرکت کر رہے ہیں۔

ہماری زمین ’ہم وار‘ ہے، پلین (Plane) کے آخر میں ’ٹی‘ لگا کر اسے سیارہ (Planet) قرار دیا گیا اور پھر اسے ایک گیند سے تشبیہ دینا شروع کر دی۔ فزکس (طبیعیات) اور کائنات کے رموز کی گہری جان کاری رکھنے والے شاید اس کتاب کو مضحکہ خیز یا ’گُم راہ کن‘ قرار دے دیں، لیکن ہمارے خیال میں عام قارئین کے لیے اس کے مندرجات خاصے دل چسپ ہیں۔

پھر جہاں آج ہمارے بچے طرح طرح کی جادوئی اور غیرحقیقی داستانیں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں، ایسے میں اگر منطقی استدلال سے ان کے سامنے کچھ سوالات کھڑے کرنے کی کوشش کی جائے، تو یہ امر بچوں کے ذہنوں کو مہمیز کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

کتاب میں جا بہ جا ’’جعلی سائنس دانوں‘‘ کے دعوؤں، نظریوں اور تحقیقات پر سوالات کیے گئے ہیں، جس کے جواب یقیناً اس کے پڑھنے والے قارئین بچوں کو ہی ڈھونڈنے ہوں گے، اور یہ کتاب ان کے علم کو مدلل اور جامع کرنے میں ضرور مفید ثابت ہوگی۔۔۔ یہ ایرک ڈوبے (Eric Dubay) کی کتاب ’دی ارتھ پلین‘ (The Earth Plane) کا اردو ترجمہ ہے، جسے گل رعنا صدیقی نے ’زمین کی انوکھی کہانی‘ کے عنوان سے کیا ہے، کتاب میں صفحہ نمبر اردو ہندسوں کے ساتھ لفظوں میں لکھنے کی روایت بھی خوب نبھائی گئی ہے، البتہ سورج اور زمین کے طویل تر فاصلوں کے بیان میں صرف ہندسوں میں مسافت لکھنا خاصا بوجھل معلوم ہوا۔ 80 صفحات کی خوب رنگ برنگی تصاویر سے آراستہ اس کتاب کی قیمت400 روپے ہے، اشاعت آشیانہ پبلی کشینز (0333-3718343, 0342-4198208) نے کی ہے۔

’آئینہ جہاں‘

سید اقبال احمد کا یہ سفرنامہ 10 ابواب پر مشتمل ہے، ابتدا میں سرور جاوید، ڈاکٹر جمال نقوی اور حیات رضوی امروہوی کی آرا بھی شامل کی گئی ہیں، سفرنامہ نگار کے بیٹے دیارِ غیر میں مقیم ہیں اور یہ سفر دراصل ان سے ملنے ملانے کا ایک ذریعہ بھی تھا، یوں تو یہ سفر ترکی، امریکا اور کینیڈا کا حال احوال بہم پہنچاتا ہے، لیکن اس میں دبئی کی بازگشت بھی خوب موجود ہے۔ ورق گردانی کرتے ہوئے کتاب کا ذیلی عنوان ’دیکھتا جا شرماتا جا‘ بالکل بھی بے جا محسوس نہیں ہوتا۔۔۔ کتاب میں آرٹ پیپر پر رنگین تصاویر سے آراستہ صفحات علاحدہ سے بھی شامل کیے گئے ہیں، 153 صفحاتی تصنیف کی قیمت 500  روپے ہے۔ ساتھ مصنف کی زیر طبع کتابوں کی تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں، خبر ملتی ہے کہ ’’ایکسپریس نیوز‘‘ میں ’چَھپے‘ کالموں کا مجموعہ بھی بس آنے کو ہے، زیرتبصرہ کتاب کی اشاعت کا اہتمام ادارہ تحقیق وتخلیق (0316-2776702) نے کیا ہے۔

’ماہ نامہ ڈائجسٹوں سے چُنے گئے ’گُل دستے‘

’ایکسپریس‘ میں ہمارے سینئر ترین ساتھی مرزا ظفر بیگ صاحب نے ایک مرتبہ ہمیں بتایا کہ ’ہمدرد‘ سے وابستگی کے زمانے میں جب انھوں نے ایک دفعہ ماہ نامہ ’ہمدرد نونہال‘ کے کسی شمارے کے لیے مواد کا انتخاب کیا، تو اپنے تئیں بہترین کہانیاں اور مضامین چن لیے، جس پر انھیں مدیر نونہال مسعود احمد برکاتی نے کہا کہ آپ نے ساری صف اول کی چیزیں ایک ہی شمارے میں دے دی ہیں، ہمیں تو ہر ماہ ہی ایک رسالہ نکالنا ہوتا ہے، اگر ہم دست یاب تمام بہترین کہانیاں اور مضامین ایک ہی ’رسالے‘ میں دینے کی کوشش کریں گے، تو لامحالہ ہمیں اگلے شماروں میں یہ معیار برقرار رکھنے میں دشواری محسوس ہوگی۔

یہ بات ہمیں زندہ کتابیں کے ’ڈائجسٹ کہانیاں‘ کی ورق گردانی کرتے ہوئے بار بار یاد آئی، کیوں کہ اسے چار جلدوں میں جمع کر کے راشد اشرف نے ڈائجسٹی ادب سے گویا ایسی ہی کہانیوںکو چُن کر ایک گل دستے کی صورت کر دیا ہے۔۔۔ اس کی پہلی جلد میں 1980ء کی دہائی تک کی29 کہانیاں، مضامین اور دو ناول شامل کیے گئے ہیں۔

اس کی طبع زاد کہانیاں اور تراجم اردو ڈائجسٹ، سب رنگ ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، مسٹری میگزین، نئے افق، سپنس ڈائجسٹ اور جاسوسی ڈائجسٹ وغیرہ سے چُنے گئے ہیں۔ اس میں ہمیں مرتب راشد اشرف کے ذوق کا رنگ ’ایسٹ انڈیا کمپنی کی ماں‘ اور ’1857ء کی ایک آپ بیتی‘ جیسے مضامین کی موجودگی سے ملتا ہے، جو تاریخی ذوق رکھنے والے قارئین کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، 640 صفحات کی اس جلد کی قیمت 780 روپے ہے، ’ڈائجسٹ کہانیاں‘ کی دوسری جلد میں سائنس فکشن کا چناؤ کیا گیا ہے اور 1980ء کی دہائی میں ’ایڈونچر ڈائجسٹ‘ سے سات کہانیاں منتخب کی گئی ہیں۔

ان کہانیوں کے مترجم الف صدیقی کا سراغ فقط اتنا مل سکا ہے کہ وہ اندرون سندھ کے کسی شہر کے رہنے والے تھے۔۔۔ بقول مرتب ’’ڈائجسٹوں میں لکھنے والوں کو ویسے بھی کون پوچھتا ہے، ادب کے ناخداؤں نے انھیں کب درخور اعتنا جانا‘‘ مترجم نے اس خوبی سے تحیر اور سنسنی کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے کہ ان کی مہارت کا قائل ہونا پڑتا ہے۔۔۔ 626 صفحاتی کتاب کی قیمت 840 روپے ہے۔ تیسری جلد میں رائیڈر ہیگرڈ (Rieder Haggard) کے دو ناولوں کے ترجمے بہ عنوان ’پاسبانِ شب‘ اور ’قاصدِ جاں‘ کیے گئے ہیں، مترجم یعقوب کرولوی اور ماخذ حسب سابق ’ایڈونچر ڈائجسٹ ہی ہے۔

دونوں ناول بالترتیب 283 اور 123 صفحات تک دراز ہیں، قیمت 610 روپے ہے۔ ’ڈائجسٹ کہانیاں‘ کی چوتھی جلد میں ’جاسوسی ڈائجسٹ‘ اور ’مسٹری میگزین‘ سے سڈنی شیلڈن ودیگر کی پانچ طویل کہانیاں منتخب کی گئی ہیں، جس میں سے چار کہانیاں ترجمہ شدہ ہیں۔ Bill Walsh کی مشہور زمانہ مزاحیہ فلم One of Our Dinosaurs is Missing کا شکیل صدیقی کا کیا گیا اردو ترجمہ بھی اس جلد کا حصہ ہے۔ اس کے صفحات 580 اور قیمت 810 روپے ہے۔ چاروں جلدوں کی اشاعت کا اہتمام ’اٹلانٹس پبلی کیشنز‘ (021-32581720, 0300-2472238) سے کیا گیا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here