اسلام اور قتلِ انسان
مصنف : مولانا ابوالکلام آزاد، قیمت :200 روپے
ناشر: مکتبہ جمال ، تیسری منزل ، حسن مارکیٹ، اردو بازار لاہور، 03008834610

زیرنظرکتاب میں ایک مسلمان کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کے قتل کے مسئلہ پر بحث کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے ، تو اس کی سزا دوزخ کی ہمیشگی ہے ، اللہ کا غضب ہے، اس کی پھٹکار ہے اور بڑا ہی دردناک عذاب ہے جو اس کے لئے تیار ہو چکا ہے‘‘۔

کتاب میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ جو مسلمان ایسا کرتاہے، اس کے لئے آخرت میں کیا سزا ہے۔ حتیٰ کہ جو مسلمان دوسرے مسلمان کو ہتھیار سے ڈراتا ہے، ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے، کھلا ہتھیار دیتاہے یا مجمع میں کھلے ہتھیار لے کر چلتاہے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کتاب میں  اس سوال کا جواب بھی پوری جامعیت سے دیا گیاہے کہ جو مسلمان غیرمسلم فوج کے ساتھ مل کر مسلمان کو قتل کرے، اس کے لئے کیا حکم ہے؟کیا اسے کوئی چھوٹ مل سکے گی؟ اسی طرح مسلمانوں کے ہاتھوں غیرمسلموں کے قتل پر بھی بحث کی گئی ہے بالخصوص جو لوگ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں، کیا واقعی اسلام ان کا سراڑا دینے کا حکم دیتاہے ؟ اس سوال کا جواب فقہا کی آرا کی روشنی میں دیا گیاہے۔

آج کے دور میں جب انسانوں کا قتل عام ہورہا ہے، لوگ انسانی قتل کو معمول سمجھتے ہیں، کسی کی جان لے کر فخر کا اظہار کرتے ہیں، ایسے میں یہ کتاب انسانوں کو  کچھ الگ سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس تناظر میں اس کتاب کا مطالعہ ہر انسان پر لازم ہے۔

 بار خاطر
مصنف : شوکت تھانوی، قیمت : 600 روپے، ناشر: بک کارنر، جہلم

زیرنظر کتاب شوکت تھانوی (1904-1963 ) کی وہ معرکۃ الآرا تصنیف ہے جو ایک عرصہ سے نایاب تھی،  یہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ’غبار خاطر ‘ کی پیروڈی میں لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے جو مختلف مشاہیر کے نام تحریر کیے گئے۔

ان میں سید امتیاز علی تاج،  حفیظ جالندھری، حفیظ ہوشیار پوری، عابد علی عابد ، حضرت جگرمراد آبادی، عشرت رحمانی، فضل احمد کریم صاحب فضلی، سید محمد جعفری،  مولانا ابوالکلام آزاد ، راز مراد آبادی، پنڈت آنند نرائن ملاّ ، بابائے اردو ، بہزاد لکھنوی، ارشد تھانوی، محمود نظامی، مجید لاہوری، پنڈت جواہر لال نہرو، صوفی غلام مصطفے تبسم ، مولانا عبدالماجد دریا بادی، صباح الدین عمر، لتا منگیشکر، حکیم محمد امین، حضرت تسکین قریشی ، نسیم ممتاز سید، مولوی عبدالرؤف عباسی، مولانا نیاز فتح پوری، سید ذوالفقار علی بخاری، ڈاکٹر عبادت بریلوی، پروفیسر وقار عظیم ، کرنل شفیق الرحمن ، میجر منان اللہ بیگ، میر عزت حسین ، مولانا عبدالمجید سالک، ساغر نظامی، اقبال صفی پوری، پروفیسر مسعود حسن ادیب ، حاجی محمد اصطفیٰ خاں، امین سلونوی، کنورمہندرسنگھ بیدی، ظریف جبل پوری، پنڈت ہری چند اختر، نواب مرزا جعفرعلی خان اثر لکھنوی، سراج لکھنوی، فیض احمد فیض ، شکیل بدایونی، ماہرالقادری، احمد ندیم قاسمی شامل ہیں۔ مصنف نے  شوکت تھانوی یعنی اپنے نام بھی ایک خط لکھا ہے۔

شوکت تھانوی لکھتے ہیں:

’’ میں نے یہ خطوط ’’غبار خاطر‘‘ والے مکاتیب کی طرح قلم برداشتہ تو نہیں البتہ دل برداشتہ ضرور لکھے ہیں۔ اس کے باوجود اگر ان خطوط میں کسی کو کوئی خوبی نظر آجائے تو اس کو میری کرامت نہ سمجھا جائے بلکہ مولانا آزاد کا فیض سمجھا جائے جن کے مکاتیب کی یہ ’’ ریڑھ ماری گئی ہے۔‘‘ پیروڈی کا ترجمہ ’’ ریڑھ مارنا ‘‘ سید محمد جعفری سے مجھ تک پہنچا ہے اور وہ راوی ہیں کہ یہ ترجمہ ماجد صاحب کا ہے بہرحال جس کا بھی ہو، خوب ہے اور اس مجموعہ کے لئے تو خوب تر!‘‘

میرا خیال ہے کہ شوکت تھانوی نے اپنی کتاب کا خود مکمل تعارف لکھ دیا ہے، اب آپ اس کتاب کو پڑھنا شروع کیجیے، یقیناً آپ کے بولنے اور لکھنے پر بھی امام الہند کے اثرات واضح طور پر نظر آئیں گے اور  لوگ آپ کے جملوں سے خوب لطف اٹھائیں گے ۔

 شمشیر بے زنہار
مصنف : فریدہ جبیں سعدی، قیمت :4000 روپے

ناشر :قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، بینک سٹاپ ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ

یہ کتاب رائے امیر حبیب اللہ خاں سعدی مرحوم کی حیات پر لکھی گئی ہے جن کا ایوب خان دور میں خوب شہرہ تھا۔ وہ مغربی پاکستان کی اسمبلی کے رکن اور چند ارکان پر مشتمل حزب اختلاف میں شامل تھے۔ یہ حزب اختلاف اگرچہ مختصر تھی لیکن جرنیلی اقتدار پر بہت بھاری تھی، رائے امیر حبیب اللہ خاں سعدی اس حزب اختلاف میں ممتاز تھے۔وہ کھدرپوش تھے لیکن کسی ریٹائرڈ جرنیل کی طرح انتہائی منظم زندگی گزارتے تھے۔ مزید کیا تھے؟ پاکستانی سیاست میں انھوں نے کیا ، کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیے، یہ سب کچھ بتائے گی یہ کتاب جو  ان کی بیٹی محترمہ فریدہ جبیں نے لکھی۔

ممتاز اخبار نویس، تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی کے بقول ’’ فریدہ جبیں نے ان (والد) کی سوانح حیات لکھ کر یوں سمجھیے کہ ہمارے سامنے ایک روشن  چراغ رکھ دیا ہے۔ فریدہ جبیں کوئی سکہ بند قلم کار نہں ہیں، اس لئے وہ اپنی معلومات کو بے تکان سپرد قلم کرتی چلی گئی ہیں، معلومات کا ایک جنگل کہ جو انھوں نے اگا دیا ہے، اپنے گرامی قدر والد کے شب و روز بھی محفوظ کر ڈالے ہیں۔

ان کا خاندانی پس منظر اور آزادی سے پہلے اور بعد کے سماجی رویوں کی یاد بھی تازہ کردی ہے۔ آگ اور خون کے ان دریاؤں کی منظر کشی بھی کی ہے جن میں غوطہ زن ہوکر پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنا ممکن ہوا۔اس جنگل کی سیر میں سیاست اور صحافت کے طالب علموں کو ایسے جگنو بڑی تعداد میں ملیں گے جو روشنیوں کا نگر آباد کرنے میں رہنما ہوسکتے ہیں۔‘‘

’قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل‘ نے انتہائی خوبصورت ٹائیٹل، مضبوط جلد اور عمدہ کاغذ کے ساتھ کتاب شائع کرکے اس کا حق ادا کردیاہے۔ پاکستانی سیاست کے طلبہ و طالبات کا مطالعہ اس کتاب کے بغیر ادھورا رہے گا۔

 ٹرین ٹو پاکستان( ناول )
مصنف : خوشنونت سنگھ، قیمت :500 روپے، ناشر : بک کارنر ، جہلم

خوشونت سنگھ بتیس برس کے تھے جب برصغیر تقسیم ہوا، اس تناظر میں تقسیم کے ہنگام میں جو کچھ ہوا ، خوشونت سنگھ نے وہ سب کچھ اچھے بھلے انداز میں دیکھا ، محسوس کیا اور لوگوں کے سامنے بیان کیا۔ اگرچہ وہ سکھ تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ سکھ نہیں تھے، اگرچہ وہ بھارت کے باسی تھے لیکن وہ  اس دائرے سے اوپر اٹھ کر جیے۔ جس طرح انھوں نے بہت سی چیزیں سکھ مت کی قبول نہیں کیں، اسی طرح بھارت کی بہت سی باتوں سے اتفاق نہیں کیا۔ وہ ایک مردآزاد تھے، جن پر کوئی عصبیت آسانی سے رنگ جما نہیں سکتی تھی۔’ ٹرین ٹو پاکستان ‘ بھی کسی عصبیت سے پاک ناول ہے۔

یہ ناول پنجاب کے ایک گاؤں منوماجرا کے گرد گھومتا ہے جس کی بیشتر آبادی سکھ ہے اور ان کے مزارعہ مسلمان ہیں۔ سکھوں کے دل میں کوئی جذبہ منافقت نہیں مگر کچھ اشتعال پسند انھیں زبردستی اشتعال کی راہ پر گامزن کردیتے ہیں۔ مسلمانوں کو پہلے کیمپ بھیجا جاتاہے جہاں سے انھیں ایک ٹرین سے پاکستان لے جایا جانا ہے۔

فسادی ایک منصوبہ بناتے ہیں کہ ٹرین میں مسلمانوں کا قتل کردیاجائے کیونکہ پاکستان سے جو ٹرینیں آتی ہیںاس میں ہندو اور سکھ  کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ منصوبے کے مطابق کھمبے سے بندھے آہنی رسے کو نیچے گرایا جانا ہے جس سے ٹرین کی چھت پر بیٹھے ہوئے مسافر از خود ختم ہوجائیں گے، ٹرین کی رفتار میں کچھ دھیما پن آنے سے باقی مسلمانوں کو بھی ختم کردیا جانا تھا … یہ منصوبہ ناکام ہوا، کیسے؟ یہی ایک دلچسپ داستان ہے۔

’ ٹرین ٹو پاکستان ‘ بھارتی سفارت کار اور معروف مصنف آرتھر لعل نے لکھا:

’’ ایک عمدہ ناول کے طور پر اس کی لازوال خوبیاں قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں اور قاری حالات و واقعات کے دھارے میں بہتا چلا جاتاہے۔ کردار واضح اور قرین قیاس ہیں اور خوشونت سنگھ انہیں دو سطحوں پر شاندار طریقے سے آگے بڑھاتاہے۔

کرداروں میں محبت اور انتقام کی متضاد نسبت قائم ہے۔ وہ اپنے گاؤں سے بے پناہ لگاؤ رکھتے ہیں۔ ان میںتخریبی اور تعمیری رجحانات بہ یک وقت موجود ہیں۔ پھر کردار دوبارہ ایک بڑے سٹیج پر جلوہ افروز ہوتے ہیں جو تقسیم ہند 1947ء کے طوفانی حادثات  و واقعات کی صورت میں ان کے گاؤں میں سجتاہے… یہ (کہانی) ایک پنجابی مصنف نے لکھی ہے جس کے خاندان کو آبائی گھر سے دربدر ہونا پڑا۔ اس نے1947ء میں برصغیر پاک و ہند کے شمال مغربی علاقوں میں ان خوفناک حادثات و واقعات کا دوبدو سامنا کیا۔ ’ ٹرین ٹو پاکستان ‘ کو پڑھتے ہوئے قاری کو احساس ہوتاہے کہ وقت کے بہاؤ سے اس عمدہ ناول کی تازگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ افسانہ و ناول پڑھنے کے شائق آج بھی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔‘‘

 یوگی، جس نے اپنی فیراری بیچ دی

مصنف : رابن شرما، قیمت :800 روپے، ناشر : بک کارنر ، جہلم

کچھ عرصہ پہلے تک اس کتاب کی ڈیڑھ کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی تھیں،  یہ کتاب اس قدر مقبول اور موثر ثابت ہوئی کہ  دنیا کے معروف ناول نگار پاؤلوکوئیلو پکار اٹھے کہ ’’یہ ایک دلچسپ کہانی ہے جو خوشی کا درس دیتی ہے۔‘‘ اور موٹی ویشنل سپیکر  برائن ٹریسی کہنے پر مجبور ہوئے کہ ’’یہ ایک تفریحی، دلچسپ مہم جو داستان ہے جو حکمت کے خزانوں پر مشتمل ہے جو ہر شخص کی زندگی کو پراعتماد  بناسکتی ہے اور بڑھا سکتی ہے۔‘‘

کتاب کے مصنف رابن شرما  ایک بہت ہی کامیاب وکیل  تھے مگر  اپنی زندگی سے پھر بھی خوش نہ تھے بالکل جولین مینٹل کی طرح ، جس کے بارے میں  آپ اس کتاب میں پڑھیں گے، وہ درد سے بھرے ہوئے احساس کے ساتھ زندگی بسر کررہے تھے ، پھر انھوں نے سچی کامیابی ، دائمی خوشی اور لازوال سکون پانے کے لئے بہت سی تدابیر اختیار کیں، تلاش کے اس سفر میں جو حاصل ہوا ، اس نے ان کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ پھر ایک اچھے انسان کی طرح رابن شرما نے فیصلہ کیا کہ انھوں نے جو سیکھا ، اسے ایک کتاب کے صورت میں دوسروں تک بانٹیںگے ۔یہی وہ کتاب ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہکتاب ایک پرنٹنگ اور فوٹو کاپی والی دکان سے شائع ہوئی جہاں مصنف نے اس کتاب کو پہلی دفعہ خود چھاپا۔ والدہ  ایڈیٹر بنیںاور  والد نے کتاب بیچنے میں  بیٹے کی مدد کی ۔ وہ ایک وقت میں ایک ہی آدمی کو کتاب بیچتے تھے، آغاز میں چند سو کاپیاں ہی چھاپی تھیں۔ جن لوگوں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا، ان کی زندگی میں معجزاتی تبدیلیاں آنے لگیں۔

انھیں اپنی ذات میں دلچسپی محسوس ہونے لگی اور پھر وہ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے سب سے بڑے خواب کے تعاقب میں چل پڑے۔ مصنف کے بقول ’’اس کتاب نے زندگی کے ہرشعبے سے منسلک عام لوگوں کو غیرمعمولی چیزیں حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے، اساتذہ ، کاروباری حضرات ، مشہور و معروف شخصیات، فلم میکرز، فائرفائیٹرز اور حکمران طبقے کو غیرمعمولی کام کرنے میں مدد دی ہے‘‘۔  آپ بھی پڑھئے گا ضرور، یقیناً آپ بھی اپنی زندگی میں غیرمعمولی چیزیں حاصل کریں گے۔

کیرئیرگائیڈ ( انجینئرنگ )
مصنف: یوسف الماس، قیمت: 200 روپے
ناشر: ایجوویژن، ہاؤس 1239، گلی58 ، جی الیون 2 ، اسلام آباد،
رابطہ: 03335766716

جناب یوسف الماس ملک کے ایک معروف کیرئیر کونسلر ہیں، طلبہ و طالبات کو زندگی میں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے، اس باب میں وہ گزشتہ کئی برسوں سے رہنمائی فراہم کر رہے  ہیں۔ یہ رہنمائی فراہم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتیں، نتیجتاً ایک سنگین معاشرتی المیہ جنم لیتا ہے۔

یہ المیہ ہے کیا ؟ مصنف کے مطابق :’’ میٹرک میں سائنس پڑھنے والے طلبہ و طالبات کی عظیم اکثریت کی پہلی ترجیح ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہوتاہے۔ جب ان سے معلوم کرتاہوں کہ کیوں بننا چاہتے ہیں؟ تو جواب ہوتاہے:’ بس بننا چاہتے ہیں، والدین نے کہا یا یہ کہ پسند ہے۔‘ پوچھا جائے کہ  معلوم ہیِ ڈاکٹر کیسے بنتے ہیں؟ انجینئر کا کام کیا ہوتاہے؟ ان کے کام کی نوعیت کیا ہوتی ہے، ضروریات اور تقاضے کیا ہیں؟95 فیصد کا جواب نفی میں ہوتا ہے‘‘۔

یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ طلبہ وطالبات کو ان کی صلاحیت کے مطابق راستہ دکھانے والا کوئی نہیں، سوائے جناب یوسف الماس جیسے لوگوںکے۔ انھوں نے یہ گائیڈ ایسے  ہی طلبہ و طالبات کے لئے لکھی ہے جو انجینئرنگ کا رجحان رکھتے ہیں اور معاشرتی مشکلات کم کرکے انسان کو سہولت دینا چاہتے ہیں، تجزیاتی اور تخلیقی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ انھیں الیکٹریکل گروپ ، سول گروپ ، مکینیکل گروپ  اور کیمیکل گروپ میں سے کون سا شعبہ اختیار کرنا چاہئے۔

یہ گائیڈ میٹرک اور ایف ایس سی ( پری انجینئرنگ) کے ان طلبہ و طالبات کو بتاتی ہے کہ انجینئرنگ صرف دو چار پروگرامز  ہی کا نام نہیں بلکہ اس میں 35 پروگرامز موجود ہیں، ہر پروگرام اپنی جگہ اہم ہے اور باعزت روزگار فراہم کرتاہے اور آپ کی زندگی کو خوشگوار بناسکتا ہے۔

مصنف اب تک قریباً ایک لاکھ طلبہ و طالبات کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق درست کیرئیر کی طرف رہنمائی کرچکے ہیں۔ یہ کتاب صلاحیتوں کے تجزیے سے تعلیمی ادارے تک، سارے سفر کی بہترین ساتھی ثابت ہوتی ہے۔ہمیں نہ صرف اپنے بچوں بلکہ معاشرے کے دیگر بچوں کو بھی اس کتاب کے ذریعے فائدہ پہنچانا چاہئے۔

 مسلمان جھوٹے خداؤں کے نرغے میں

مصنف: سلمان آصف صدیقی، قیمت: 300 روپے

ناشر: ایجوکیشنل ریسورس ڈیولپمنٹ سینٹر،کراچی

انسان کی تخلیق کا مقصد خدائے بزرگ و برترکی بندگی اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ہی انسان کی نجات ممکن ہے مگر فی الوقت انسان سراسر گھاٹے میں ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی بجائے جھوٹے خداؤں (دولت دنیا، حرص و ہو ا اور مناصب کے بتوں) کی بندگی شروع کردی ہے۔ اس مختصر سی کتاب میں مصنف نے اسی نکتے کو سامنے رکھ کرکتاب تصنیف کی ہے۔

کتاب کی فہرست پر نظر ڈالنے سے ہی اس کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے، جن میں سے چند عنوانات یہ ہیں: سوال کیوں ضروری ہیں، چند بنیادی سوالات، بندگی کیا ہے، اللہ کی قدرت، عقیدہ اور انسانی نفسیات، جھوٹے خدا اور خوف، بچاؤ کی صورت، یہ دور اپنے براہیم میں تلاش میں ہے ، وغیرہ۔

انسان جب کوئی چیز دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں سوالات کا آنا لازمی ہے، مصنف لکھتے ہیں:

’’رسولﷺ نے فرمایا تھاکہ سوال علم کی کنجی ہے۔ جب ذہن میں سوالات پیدا ہونے لگیں تو غورو فکر اور تدبر کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ سوالات اخلاص کے ساتھ کیے جائیں۔‘‘

’’مسلمان کی بہت بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے قول، فعل اور حال سے خدائے واحد و حقیقی کی عظمت و کبریائی کی شہادت پیش کرے۔ اس تحریر کا مقصد ان چند عوامل و اسباب کا تجزیہ کرنا ہے جن کے باعث یہ ذمہ داری نبھانا دشوار ہورہی ہے۔ جدید مغربی تہذیب اور اس کے پیدا کردہ نتائج بندگی سے مزاحم ہونے والی بہت بڑی قوت بن چکے ہیں۔ انکار کی فضا نے ماننے والوں کے جوہرِ بندگی کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ آج کا مسلمان تواپنے ضعفِ ایمانی کے باعث مظہر ِ حق نہیں بن سکالیکن حق تعالٰی نے اپنی شانِ قدرت کا جلوہ انسانوں کو دکھا دیا۔‘‘

مصنف نے انتہائی دل سوزی کے ساتھ مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔کتاب کا مطالعہ کرکے انسان سوچنے پرضرور مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم زول ادبار کا شکار کیوں ہیں اور پھر اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے پر آمادہ ۔۔۔۔اور یہی مصنف کی کامیابی ہے۔کتاب کا سرورق خوب صورت اور دل کش ہے، قیمت کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here