غدار ( ناول )
مصنف: کرشن چندر، قیمت: 400 روپے
ناشر: بک کارنر، جہلم، واٹس ایپ: 03215440882

تقسیم ہند کے ہنگام جو کچھ ہوا ، اسے ابھی تک بھارت اور پاکستان، دونوں مملکتوں کے باسی بھولنے کو تیار نہیں۔ ان کے آنسو خشک ہونے میں نہیں آرہے ہیں۔ زیر نظر ناول کی صورت میں کرشن چندر نے بھی آنسو بہائے ہیں لیکن ان کے آنسوئوں کا تعلق ماضی میں رونما ہونے والے واقعات سے نہیں بلکہ مستقبل سے ہے۔

کرشن چندر سمجھتے تھے کہ بہت سے لوگ ان تلخ واقعات کو بھولتے جارہے ہیں لیکن اس نفرت کو نہیں بھولتے جس نے ان تلخ واقعات کو جنم دیا تھا … دونوں ملکوں کے درمیان ایک نفرت کی دیوار کھڑی ہے۔ ان کے بقول : ’’ ہندوستان میں ایک یا دو نہیں لاکھوں انسان ایسے ہوں گے جو پشاور تک اکھنڈ بھارت کو پھیلانے کے خواب دیکھتے ہوں گے۔ پاکستان میں ایسے انسانوں کی کمی نہیں جو دلی پر ہلالی پرچم لہرا دینے کے متمنی ہیں اور اس کے لئے لاکھوںکی تعداد میں جان دینے کے لئے تیار ہیں۔‘‘

کرشن چندر کا یہ ناول اسی نفرت کو سمجھانے اور اسے قلب و ذہن سے مٹانے کی ایک کوشش ہے۔ ناول کا آغاز بیج ناتھ ( برہمن ) اور شاداں ( مسلمان لڑکی) کے معاشقے سے ہوتا ہے۔ ایک ہندو لڑکی پاروتی ایک مسلمان نوجوان امتیاز سے والہانہ محبت کرتی تھی۔ اسی طرح ایک ہندو لڑکی ایک سکھ کی نظروں کا مرکز بنتی ہے۔ ان محبتوں سے اٹھان لیتی کہانی بیان کرتی ہے کہ کیسے امن اور پیار کے لئے کوشش کرنے والے اپنی اپنی اقوام کے ہاں ’’ غدار ‘‘ قرار دیے جاتے ہیں۔ کرشن چندر نے اس ناول کے ذریعے انسانیت کو محبت، اخوت ، خلوص اور تعاون، بردباری اور وسیع الخیالی ، مساوات اورآفاقی شہریت کا پیغام دیا ہے۔ ان کا انداز تحریر ایسا مسحور کن ہوتا ہے کہ قاری ہر جملے سے پوری طرح لطف پاتا ہے ۔ منظر نگاری ایسی خوبصورت ہوتی ہے کہ پڑھنے والا منظر میں کھوئے رہنا چاہتا ہے۔ اس ناول کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کی ضرورت ہے ۔

ساحل سے ساحل تک ( سفرنامہ )
مصنفہ : بلقیس ریاض، قیمت :300 روپے
ناشر: القریش پبلی کیشنز، اردو بازار، لاہور، فون 03004183997

بلقیس ریاض عہد حاضر کی بڑی نثر نگاروں میں سے ایک ہیں، تیس سے زیادہ کتب کی مصنفہ ہیں جن میں ناول بھی ہیں، افسانوںکے مجموعے بھی اور سفرنامے بھی۔ ان کی پہلی پہچان ناول و افسانہ نگاری ہی ہے ، بعد ازاں جب سفرنامے لکھنے شروع کئے تو اس میں بھی وہی خوبصورتی نظر آئی جو ان کے لکھے فکشن کا خاصہ ہوتی ہے۔ منفرد انداز میں سادہ اور چھوٹے جملوں کے ساتھ اپنی بات بیان کرتے چلے جانا ۔ یوں وہ پڑھنے والے کو کہیں ادھر ادھر جانے نہیں دیتیں ۔
بلقیس ریاض امریکا ، برطانیہ ، جنوبی افریقہ ، فلپائن، ایران، انڈیا اور کینیڈا گھوم پھر چکی ہیں، درجن سے زیادہ سفرنامے لکھ چکی ہیں۔ ان کے سفرناموں کی خوبی ہے کہ وہ غیرملکی معاشروں میں موجود خوبیوں کو بطور خاص بیان کرتی ہیں جنھیں ہم بھی اختیار کر سکتے ہیں اور اپنے معاشرے کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔
زیرنظر سفرنامہ امریکی ریاست پنسلوانیا کے ایک چھوٹے سے شہر ’ کینٹ سکوائر‘ اور کینیڈین دارالحکومت اوٹاوہ کا ہے۔ اپنی آنکھ سے انھوں نے جو دیکھا، جیسے دیکھا، بیان کردیا۔ وہ ساتھ ساتھ ہلکے پھلکے جملوںمیں اپنا تبصرہ بھی کرتی چلی جاتی ہیں، انھیں کینٹ سکوائر کی ایک خاتون ملیں جو ہر ہفتے کے اختتام پر دیگر چند خواتین کے ساتھ چیریٹی کا کام کرتی ہیں۔ ایک میاں بیوی کا ذکر کیا جن کا گھوڑوں اور بھینسوں کا فارم ہے، وہ بھینسوں کا دودھ بیچنے کے بجائے ضرورت مندوں تک پہنچاتے ہیں۔ آپ اس سفرنامے میں ایسے ہی مزید دلچسپ لوگوں کے تذکرے پڑھیں گے۔ یقیناً اس سفرنامہ کا مطالعہ آپ کیلیے ایک پرلطف تجربہ ثابت ہوگا۔

وفیات مشاہیر لاہور
مصنف : ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، قیمت : 3500 روپے
ناشر: قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل ، بینک سٹاپ، والٹن روڈ
لاہور کینٹ ، 0300-0515101

زیرنظر کتاب ایک انسائیکلوپیڈیا ہے ان لوگوں کا جنھوں نے ایک خاص عہد میں لاہور میں وفات پائی۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے، جس میں سب سے پہلے لاہور کے مدفونین پر لکھی گئی کتب کا مختصر تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے، ان میں ’خفتگان خاک لاہور ‘، ’لاہور میں دفن خزینے‘ ، ’لاہور میں مشاہیر کے مدفون‘ ، ’لاہور میں مدفون مشاہیر‘ اور لاہور میں مدفون مشاہیر جلد سوم ‘ شامل ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے ان کتب میں موجود غلطیوں اور کمیوں کی نشان دہی کی ہے۔ بعض شخصیات کا تعارف غلط ہے یا پھر نامکمل ہے، بعض کی تاریخ وفات ہی غلط لکھی گئی ہے۔ یا پھر ایسی شخصیات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو لاہور میں مدفون نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ حوالہ جاتی کتب میں ایسی غلطیاں اور کمیاں ہوں تو پھر یہ غلطیاں انڈے بچے دیتی رہتی ہیں، نتیجتاً آنے والے ادوار میں تحقیق کرنے والے ان اغلاط کو درست کرنے کے لئے الگ سے زندگیاں کھپانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی یہ کام کرنا پڑا۔ انھوں نے غلطیوں کو درست کرکے، کمیوں کوتاہیوں کو پورا کرکے آنے والی نسلوں کو احسان کیا ہے۔

’وفیات مشاہیر لاہور‘ میں ایسی اہم 3200 شخصیات کا تذکرہ شامل ہے جو 14اگست 1947ء سے 14اگست2018ء کے درمیان میں انتقال کرگئے۔ انھوں نے ہر شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی وجہ شہرت، ولدیت ، تاریخ پیدائش، جائے پیدائش ، تاریخ وفات ، جائے وفات، مدفن ، تصانیف اور اعزازات کو بھی بیان کیا ہے۔ اس اعتبار سے ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ کی مرتب کردہ یہ کتاب اردو وفیات نگاری کے اثاثے میں ایک غیرمعمولی اضافہ ہی نہیں بل کہ آنے والے تمام زمانوں کے محققین کے لئے ایک بیش بہا تحفہ بھی ہے۔

ٹیڑھی لکیر (ناول)
مصنفہ : عصمت چغتائی، قیمت :900 روپے
ناشر: بک کارنر، جہلم، واٹس ایپ: 03215440882

’’ ٹیڑھی لکیر ‘‘ کی ہیروئن ایک لڑکی نہیں بلکہ ہزاروں، لاکھوں لڑکیوں جیسی ایک لڑکی ہے۔ عصمت چغتائی نے اسے دیکھا، اسے سمجھا، اور اس کی ایک تصویر بنائی اور اسے اس ناول کی صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کردیا۔ اس پر طرح طرح کے تبصرے ہوئے۔ بقول مصنفہ ’’ کچھ لوگوںنے کہا ، میں نے ایک جنسی مزاج اور بیمار ذہنیت والی لڑکی کی سرگزشت لکھی ہے۔ علم نفسیات کو پڑھیے تو یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون بیمار ہے اور کون تندرست ۔ ایک پارسا ہستی جنسی بیمار ہو سکتی ہے اور ایک آوارہ اور بدچلن انسان صحت مند ہو سکتا ہے۔ جنسی بیمار اور تندرست میں اتنا باریک فاصلہ ہوتا ہے کہ فیصلہ دشوار ہے مگر جہاں تک میرے مطالعے کا تعلق ہے ’’ ٹیڑھی لکیر‘{‘{ کی ہیروئن نہ ذہنی بیمار ہے اور نہ جنسی۔ جیسے ہر زندہ انسان کو گندے ماحول اور آس پاس کی غلاظت سے ہیضہ ، طاعون ہو سکتا ہے، اسی طرح ایک بالکل تندرست ذہنیت کا مالک بچہ بھی اگر غلط ماحول میں پھنس جائے تو بیمار ہو جاتا ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔‘‘

عصمت چغتائی نے جس لڑکی کو اس کہانی کا مرکزی کردار بنایا ہے۔ اس کا تعارف کرواتے ہوئے عصمت لکھتی ہیں:

’’ اس پر مختلف حملے ہوتے ہیں لیکن ہر حملے کے بعد وہ پھر ہمت باندھ کر سلامت اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ وہ ہر امتحان سے گزر کر پرسکون انداز میں اپنا سر تکیے پر ٹکا دیتی ہے اور ٹھنڈے دل سے سوچ بچار کرنے کے بعد دوسرا قدم اٹھاتی ہے۔ یہ اس کا قصور نہیں ہے کہ وہ بے حد حساس اور ہر چوٹ پر منہ کے بل گرتی ہے مگر پھر سنبھل جاتی ہے۔ نفسیاتی اصولوں سے ٹکر لے کر وہ انھیں جھٹلا دیتی ہے۔ ہر طوفان سر سے گزر جاتا ہے۔‘‘

عصمت چغتائی نے ایک ایسی لڑکی کو ہیروئن بنایا ہے جو ضدی ہوتی ہے، جس نے ہتھیار ڈالنا سیکھا ہی نہیں ہوتا لیکن المیہ ہے کہ اسے کوئی سمجھ نہیں پاتا ۔ وہ پیار کی ، محبت اور دوستی کی بھوکی ہوتی ہے، اپنی بھوک مٹانے کے لئے بھیانک جنگلوں کی خاک چھانتی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کہانی عصمت چغتائی کی اپنی ہی ہے۔ سعادت حسن منٹو نے کہا تھا:’’ عصمت کا قلم اور اس کی زبان دونوں بہت تیز ہیں۔ لکھنا شروع کرے گی تو کئی مرتبہ اس کا دماغ آگے نکل جائے گا اور الفاظ پیچھے ہانپتے رہ جائیں گے۔‘‘ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مصنفہ کا تخلیق کیا ہوا کردار ان سے کہیں آگے نکل گیا ہے۔یہ ناول ضرور پڑھیے گا، آپ کو لطف حاصل ہوگا ، ہمت اور حوصلہ ملے گا۔

ہم ذات ( ناول )
مصنفہ : رفاقت جاوید، قیمت :500 روپے
ناشر : ناشر: القریش پبلی کیشنز، اردو بازار، لاہور، فون 03004183997

’’ ہم ذات ‘‘ ایک منفرد موضوع پر لکھا گیا ناول ہے۔ راجپوت جو برصغیر میں سب سے بڑی ذاتوں میں سب سے پرانی ذات ہے، جس کی بڑی اور چھوٹی شاخوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔دلچسپ بات ہے کہ ہر راجپوت صرف اپنی ہی شاخ کو اصل سمجھتا ہے۔ صرف یہی نہیں، وہ دوسری شاخوں سے تعلق رکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔ مصنفہ کہتی ہیں:

’’ میں نے راجپوت ذات کی مختلف وہ شاخیں جو نفری کے لحاظ سے چھوٹی اور بڑی ہیں، ان میں ان گنت مسائل کو ابھرتے دیکھا ہے۔‘‘ ظاہر ہے کہ یہ مسائل ان کے اپنے عجیب و غریب رویوں کے بطن سے جنم لیتے ہیں لیکن وہ انہی رویوں کے ساتھ جیتے ہیں، انہی پر فخر کرتے ہیں اور انہی کے ساتھ قبر میں اتر جاتے ہیں۔

رفاقت جاوید کا یہ ناول دراصل راجپوت ذات کی چند گوتوں کے مسائل پر لکھی گئی ایک کہانی ہے۔ مصنفہ نے راجپوت مرد کا رویہ اور سلوک پوری طرح واضح کیا ہے۔ ناول ظاہر کرتا ہے کہ راجپوتوں کی مختلف گوتیں جہاں ہر وقت ایک دوسرے سے کشمکش میں رہتی ہیں، وہاں وہ اپنے مخصوص خاندانی نظام کو برقرار رکھتی ہیں ، اپنی روایات کی مستقل پاسداری کرتی ہیں۔ رفاقت جاوید نے ازدواجی زندگی میں راجپوت عورت کی حیثیت اور مرد کے کردار کو نہایت موثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اس ناول کے بغیر ہر قاری بالخصوص راجپوتوں کے گھر کا کتب خانہ ادھورا رہے گا۔

کیرئیر پلاننگ گائیڈ ( میڈیکل سائنسز)
مصنفین : یوسف الماس، صہیب احمد خان، مریم باجوہ
قیمت: 200 روپے، ناشر: ایجوویژن، ہائوس 1239، گلی58، جی الیون 2
اسلام آباد، رابطہ: 03335766716

زیرنظرکتاب میٹرک اور ایف ایس سی ( پری میڈیکل) کے ان طلبہ و طالبات کے لئے لکھی گئی ہے جو میڈیکل سائنسز (ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، فارمیسی، ویٹنری، ہو میو پیتھک، الائیڈ ہیلتھ سائنسز، فزیوتھراپی، نیوٹریشن، ویژن سائنسز، امیج ٹیکنالوجی، لیبارٹری ٹیکنالوجی اور نرسنگ) کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

کتاب پانچ حصوں پر مشتمل ہے، پہلے حصے میں کیرئیر پلاننگ کی انسانی زندگی میں اہمیت سے آگاہ کیا گیا ہے، اس کے بنیادی اصولوں سے روشناس کرایا گیا ہے، مقصد زندگی کی بات کی گئی ہے اور پھر شعبہ تعلیم اختیار کرنے کا طریقہ اور لازمی اجزا بتائے گئے ہیں۔ دوسرے حصے میں ایف ایس سی کرنے والے طلبہ و طالبات کو 184مضامین اور شعبہ ہائے تعلیم کے بارے میں آگاہی دی گئی ہے جن میں وہ داخلہ لیکر اپنا مستقبل بنا سکتے ہیں۔ ان میں بیچلر ڈگری پروگرام ، ڈپلومہ ، سرٹیفکیٹ کورسز اور شارٹ کورسز بھی شامل ہیں ۔ تیسرا حصہ میڈیکل سائنسز سے تعلق رکھتا ہے اس میں میڈیکل سائنسز کے ان تمام کیرئیرز کا تعارف کرایا گیا ہے جو ایف ایس سی پری میڈیکل کے طلبہ و طالبات کی اولین ترجیح ہوتے ہیں۔ چوتھا الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے متعلق ہے ، اس میں 31 کیرئیرز کی تفصیلات دی گئی ہیں جن میں سے اکثر ایف ایس سی (پری میڈیکل) کے طلبہ و طالبات کے لئے میڈیکل کے بعد دوسری بہترین ترجیح ہو سکتے ہیں۔ پانچویں حصے میں تعلیمی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی اقسام اور ان کی قانونی حیثیت سے آگاہ کیا گیا ہے، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میڈیکل کالج یا کسی دوسرے ادارے کا انتخاب کرتے ہوئے توجہ طلب امور کون سے ہیں۔ اس کے علاوہ اوپن میرٹ اور مخصوص نشستوں کی تفصیلات اور رہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے۔

یقیناً یہ کیرئیر پلاننگ گائیڈ میڈیکل سائنسز کے شعبے میں جانے کے خواہش مندوں کے خواب بہترین انداز میں پورے کرے گی۔

محبت نامے
مصنفہ : امرتا پریتم، مرتبہ : امروز (شریک حیات امرتا پریتم)
قیمت : 400 روپے، ناشر: بک کارنر، جہلم، واٹس ایپ: 03215440882

امرتا پریتم کا دوسرا نام محبت تھا ، ایسی محبت جو کبھی نہیں مرتی۔ چار برس کی عمر میں منگنی ہوئی، سولہ ، سترہ برس کی عمر میں شادی، شوہر کا نام پریتم سنگھ تھا، اسی مناسبت سے امرتا کور سے امرتا پریتم بن گئیں۔ منفرد خصوصیات والی یہ لڑکی منفرد پنجابی شاعرہ تھیں، جس سال ان کی شادی پریتم سنگھ سے ہوئی، اسی سال شاعری کا پہلا مجموعہ شائع ہوا۔ امرتا کا دل ساحر لدھیانوی کے لئے ایسے دھڑکتا تھا کہ کسی محبوبہ کا اپنے محبوب کے لئے کیا دھڑکا ہوگا، وہ پریتم سنگھ کے ساتھ بہت خوش نہ تھیں کیونکہ وہ ساحر کے سحر سے مسحور تھیں۔ پھر انھوں نے ساحر کے لئے شوہر کو چھوڑ دیا، اس اندازمیں چھوڑا کہ نہ پریتم سنگھ کو امرتا سے کوئی گلہ تھا، نہ امرتا کو پریتم سے، بلکہ یہ بھی ایک محبت ہی ہے کہ پریتم ( سنگھ ) آخری دن تک امرتا کے نام کے ساتھ جڑا رہا ۔

امرتا پریتم کی ساحر لدھیانوی سے محبت یکطرفہ ہی رہی، ساحر امرتا کو اپنی زندگی میں شامل نہ کر سکے۔ پھر امروز سے ملاقات ہوئی، باقی کی ساری زندگی انہی کی محبت میں گزری ۔ اس آرٹسٹ نے امرتا سے ایسی محبت کی کہ وہ خود بھی حیران رہیں۔ کہا:’’ امروز نے مجھے کس طرح کا اپنایا ہے، بمعہ اس سوز کے جو اس کی اپنی مسرتوں کا مخالف ہے…!

ایک بار (امروز نے) نے ہنس کر کہا تھا:’’ ایمو! اگر تجھے ساحر مل جاتا ، پھر تم نے نہیں ملنا تھا… میں نے ضرور ملنا تھا، چاہے تمھیں … ساحر کے گھر نماز پڑھتی کو جا ڈھونڈتا ۔‘‘

یہ ’’ محبت نامے ‘‘ اسی امروز کے نام لکھے گئے ہیں، جسے وہ کبھی ’’میری تقدیر‘‘ کہہ کر پکارتی، کبھی ’’ میرے ایمان‘‘ اور کبھی ’’ میرے نغموں کی جان ‘‘ کہہ کر ۔ ان محبت ناموں کو پڑھ کر ہر محبوبہ ٹھنڈی آہ بھر کے کہے گی کہ کاش! وہ بھی اپنے محبوب کو ایسے ہی لکھا کرتی۔ ایک خط کا کچھ حصہ ملاحظہ فرمائیے:

’’ میرے نغموں کی جان!

آج تمہارا خط ہمیں نصیب ہوا ہے۔ میں زندگی کی شکر گزار ہوں، جس نے میرے خطوں کے جواب مجھے لا کر دئیے۔ مگر میرے سارے خطوط تمہیں کیوں نہیں ملے؟ یہ میرا ساتواں خط ہے۔ تین میں نے نیپال جانے سے پہلے لکھے تھے۔ ایک تو اسی دن لکھا تھا جب میں اپنا سکون نو سومیل دور بھیج کر آئی تھی،21 تاریخ کو اور پھر ہر روز لکھتی رہی۔

کبھی میں نے دل کے سارے الہنے کے ساتھ لکھا تھا:’’ یہ میرا عمر کا خط اکارت گیا۔ ہمارے دل نے محبوب کا جو پتہ لکھا تھا، وہ ہماری تقدیر سے پڑھا نہ گیا۔‘‘ لیکن آج جب وہ پتہ سامنے ہے۔ ان ڈاک خانے والوں نے ، لگتا ہے، تقدیر سے سانٹھ گانٹھ کر لی ہے، ان سے بھی وہ پتہ نہیں پڑھا جا رہا…

تمہاری آشی ‘‘
ایک دوسرا خط
’’ جان بہار !
تمہارا یہ روپوں والا چیک میں کیش نہیں کرائوں گی۔ صرف تمہاری محبت کا چیک کیش کرانا ہے، اگر زندگی کے بینک نے کیش کردیا تو !
تمہاری آشی ‘‘
امرتا پریتم کے محبت نامے آپ بھی پڑھیں گے تو آپ کے من میں ضرور ہل چل ہوگی ۔ اس لئے ضرور پڑھیے گا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here