ان جزیروں پر شہر بسانے کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟ ۔  فوٹو : فائل

ان جزیروں پر شہر بسانے کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟ ۔ فوٹو : فائل

سمندروں میں بنتے، مٹتے جزیرے ہمیشہ سے انسانوں کے لیے دل چپسی کا باعث رہے ہیں۔ متعدد شاعروں نے بھی جزیروں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے لیکن کراچی کے قریب واقع دو جزیروں کے ان دنوں خبروں میں رہنے کی وجہ ان جزیروں پر نیا شہر بسانے کا اعلان ہے۔

بحیرۂ عرب کے کنارے آباد پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی کے ساحل سے تین ناٹیکل میل مغرب میں واقع بنڈل (مقامی زبان میں بھنڈر) اور بندو جزائر پر نیا شہر بسانے کا خیال نیا نہیں۔ اس سے پہلے سابق صدر پرویزمشرف کے دور میں اور پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں بھی ایسی کوششیں ہوچکی ہیں۔

٭جزائر پر نیا شہر

ارباب اقتدار کو ایک بار پھر ان جزائر کو آباد کرنے کا خیال شاید حالیہ بارشوں میں دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر کا حشر اور تباہ حال انفرا اسٹرکچر دیکھ کر آیا۔ نیا شہر آباد کرنے کے لیے آئی لینڈز اتھارٹی بھی قائم کردی گئی۔ لیکن اس سلسلے میں ’سب اچھا‘ نہیں ہے۔

٭ماہی گیر، سول سوسائٹی سراپا احتجاج

صدیوں سے اپنے رزق کے لیے سمندر پر انحصار کرنے والے غریب ماہی گیروں اور آبی حیات اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں، عام شہری اور سول سوسائٹی اس اقدام پر سراپا احتجاج ہیں۔ سمندری جزیرے بچاؤ تحریک کے تحت ابراہیم حیدری سے بنڈل اور بندو آئی لینڈ تک پچیس کشتیوں پر مشتمل احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی راہنماؤں نے شرکت کی اور جزائر پر مجوزہ تعمیرات کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ پاکستان فشرفوک فورم کے چئیرمین محمد علی شاہ نے بنڈل اور بندو جزائر پر تعمیرات کو مچھیروں کے روزگار پر حملہ اور سمندر کی مزید تباہی قراردیا۔

٭سمندری طوفان، سونامی کے خطرات

سترہ ہزار پانچ سو ایکڑ رقبے پر پھیلے بندو اور بنڈل جزائر پر مشترکہ طور پر تین ہزار پانچ سو ایکڑ پر مینگروز کے جنگلات پھیلے ہیں۔ ان جزائر پر آبادکاری کا سیدھا سیدھا مطلب غریب ماہی گیروں کو مزید مشکلات سے دوچار کرکے روزگار سے محروم کرنا، سمندری طوفانوں اور سونامی کے خلاف قدرتی ڈھال بنے مینگروز کی بربادی، سردیوں میں مہاجر پرندوں کی آمد رک جانا اور مچھلیوں، کچھوے اور دیگر آبی حیات کا خاتمہ ہے۔

٭بنڈل، بندوجزائر

ماہی گیروں کی بستی ابراہیم حیدری سے بنڈل اوربندوآئی لینڈز جانے کے لیے کشتی میں بیٹھیں تو سمندر کا پانی کثیف اور دور تک کچرا اور کولڈڈرنک کی پلاسٹک کی بوتلیں تیرتی نظر آتی ہیں۔ بنڈل آئی لینڈ کے قریب پہنچیں تو پانی بتدریج صاف ہونے لگتا ہے اور دور سے مینگروز کے جنگلات ایک قطار کی صورت دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک دفاعی لائن ہے۔ سمندر میں کچھ فاصلے پر مختلف مقامات پر ڈنڈے پر لگے کپڑوں کے ٹکڑے اس مقام پر سمندر کی گہرائی سے متعلق ماہی گیروں کو خبردار کرتے ہیں۔ بنڈل آئی لینڈ پر ایک ویران لائٹ ہاؤس بھی دیکھنے والوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔

٭ویران جزیروں پر اونٹ

پینتیس چالیس منٹ کے سفر کے دوران ماہی گیروں کی بہت سی کشتیاں گہرے سمندر کے لیے روانہ ہوتی اور واپس آتی دکھائی دیتی ہیں۔ سب سے زیادہ حیرت جزیرے پر اونٹوں کو دیکھ کر ہوئی۔ پتا چلا کہ اونٹ مینگروز بہت شوق سے کھاتے ہیں اور جزیرے پر کبھی بھٹکتے ہوئے آنکلتے ہیں۔ یہ اونٹ سمندر میں گھنٹوں تیر سکتے ہیں۔

٭بنڈل، بندوجزائر۔۔۔ماہی گیروں کے لیے آرام کا ٹھکانا

بنڈل اور بندو آئی لینڈز پر آبادی نہیں لیکن بظاہرغیرآباد یہ جزیرے ماہی گیروں کے لیے رات بسر کرنے کا اہم ٹھکانا ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں گہرے سمندر میں جانے اور آنے والے سستاتے ہیں۔ اپنے جال ٹھیک کرتے اور آرام کرتے ہیں۔ بندوآئی لینڈ پر ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کے شکاریوں کا تین افراد پر مشتمل ایک گروپ لکڑیاں جلا کر کھانا پکانے میں مصروف تھا۔ کچھ لوگ باز کی تلاش میں بھی آتے ہیں اور کوئی باز شکنجے میں آجائے تو لاکھوں روپے میں فروخت ہوتا ہے۔

٭ماہی گیروں کا روزگار خطرے میں

ماہی گیروں کے خاندان میں پیدا اور پلنے بڑھنے والے ساجد ملاح سے بات ہوئی تو ان کی آواز میں شکوے اور دکھ کی آمیزش تھی۔

’’ان دونوں جزیروں پر نیا شہر بننے کا مطلب یہ ہے کہ ماہی گیروں کو گھوم کر لمبے راستے سے گہرے سمندر میں جانا پڑے گا، جس سے ان کا خرچہ مزید بڑھ جائے گا۔ ماہی گیر ویسے ہی کسمپرسی اور غربت کا شکار ہیں۔ بہت سے لوگ روزگار سے محروم ہوجائیں گے۔ چھوٹے ماہی گیر ان جزیروں کے گرد ملنے والی چھوٹی مچھلیاں پکڑ کر گزربسر کرتے ہیں۔ وہ تو مارے جائیں گے۔‘‘ ساجدملاح نے ان جزیروں پر آبادکاری کے بارے میں اپنے تحفظات بیان کیے۔

٭جدید تعمیرات کے ماحولیات پر اثرات

بنڈل اور بندو جزائر پر جدید تعمیرات ماحول پر کیسے اثرانداز ہوں گی؟ اس بارے میں کراچی میں رہائش پذیر ایکولوجسٹ رفیع الحق نے ممکنہ خطرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ دوہزارپندرہ سے غیرمتوقع موسمیاتی تبدیلیاں ہورہی ہیں، جن کے لیے ہماری کوئی بھی تیاری نہیں۔ سمندری طوفان اور سونامی جیسے خطروں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ان جزائر کو ان کی قدرتی شکل میں برقرار رہنے دیا جائے۔ ان جزائر کو بطور سیاحتی مقام استعمال کرنے کا آئیڈیا بھی کچھ مناسب نہیں۔ تھائی لینڈ کے جزیرے پھکٹ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس جزیرے کی قدرتی شکل ختم کرکے اسے سیاحتی مقام بنایا گیا تھا۔ دوہزارچار کا سونامی سب بہا لے گیا۔

٭ایکوسسٹم، آبی حیات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ

بنڈل اور بندوآئی لینڈ پر نیا شہر تعمیر ہونے کی صورت میں ہزاروں فشنگ گراؤنڈز ختم ہوجائیں گے اور ایکوسسٹم اور آبی حیات کو نقصان پہنچے گا۔ بندو اور بنڈل جزائر کے اطراف پھیلے مینگروز کے جنگل مچھلیوں، کچھووں اور جھینگوں کی نرسری کا کام کرتے ہیں۔ جدیدتعمیرات کی بھاری قیمت متنوع آبی حیات سے محرومی کی شکل میں چکانا پڑے گی۔ ہزاروں ماہی گیر روزگار سے محروم ہوں گے اور غربت بڑھے گی۔ سردیوں میں بنڈل اور ڈنگی جزائر پر آنے والے ایک لاکھ سے زائد پردیسی پرندے بھی کسی اور طرف کا رخ کریں گے جو ماحولیاتی توازن کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

٭بنڈل، بندو جزائر متنوع آبی حیات کے لیے اہم

ریجنل ڈائریکٹر ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیوایف) ڈاکٹر طاہررشید کا کہنا ہے یہ جزائر متنوع آبی حیات کے حوالے سے اہم ہیں۔ ان جزیروں کے گرد سمندری کچھووں، سمندری سانپوں، پرندوں اور پودوں کی کچھ ایسی اقسام پائی جاتی ہیں جو صرف یہیں ملتی ہیں۔ ماہی گیروں کا روزگار بھی ان جزیروں سے وابستہ ہے۔ ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ اور چشمہ گوٹھ کے رہائشی بھی ان جزائر پر انحصار کرتے ہیں۔ ان جزائر کی ایکوسسٹم کے حوالے سے اہمیت کا اندازہ کسی تیسرے فریق سے لگوایا جائے اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ بنڈل اور ڈنگی جزائر پر کنکریٹ کے استعمال کے اثرات کیا ہوں گے۔

٭مقامی کمیونٹی کا جزائر سے ثقافتی تعلق

بنڈل اور بندو جزائر سے مقامی کمیونٹیز کا ثقافتی اور روحانی تعلق بھی جڑا ہے۔ بنڈل آئی لینڈ پرصوفی بزرگ یوسف شاہ کا تین روزہ عرس ہر سال منایا جاتا ہے جس میں ہزاروں ماہی گیر عقیدت مند شریک ہوتے ہیں۔ یہ سب کے لیے خاص موقع ہوتا ہے جس میں خواتین، بچے، بوڑھے، جوان سب شریک ہوتے ہیں۔

٭نیا شہر آباد کرنے کی کوشش نئی نہیں

بنڈل اور بندوجزائر پر جدید شہر تعمیر کرنے کی کوششیں ماضی میں بھی ہوچکی ہیں۔ سن دو ہزار اور دوہزارچھے میں سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت کی کوششیں عوامی دباؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں کے احتجاج کے باعث ناکام ہوئیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے دو ہزار تیرہ میں بھی کوشش کی لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے جزائر پر تعمیرات پر پابندی عائد کردی۔

٭جزائر سے متعلق اتھارٹی کے قیام پر تنقید

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت جزائر کا کنٹرول سنبھالا ہے اور پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بنائی ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو عوام اور مختلف سیاسی جماعتوں کی تنقید کا سامنا ہے۔

٭عالمی معاہدے

اقوام متحدہ کے پائے دار ترقی کے سترہ اہداف اور رامسر کے عالمی معاہدے کے دستخط کنندہ کے طور پر پاکستان ماحولیات کا تحفظ کرنے اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی اور ان کا معیارزندگی بہتر بنانے کا پابند ہے۔ رامسرمعاہدے کے تحت یہ ایک پروٹیکٹڈ سائٹ ہے جہاں اس قسم کے منصوبے نہیں بنائے جاسکتے۔ بنڈل اور بندو جزائر پر جدید شہر بسانے سے ہزاروں ماہی گیر متاثر ہوں گے اور غربت میں اضافہ ہوگا۔

٭ماحولیات کا تحفظ، سب کی ذمے داری

بنڈل اور بندو آئی لینڈ کے گردونواح میں مسلسل کشتیوں کی آمد رفت یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ سمندر کا یہ حصہ ماہی گیروں کے لیے کتنا اہم ہے۔ گہرے سمندر سے ساحل تک واپسی کے درمیان بنڈل اور بندو جزائر ماہی گیروں کو زمین کا وہ ٹکڑا فراہم کرتے ہیں جس پر سر رکھ کروہ آرام بھی کرتے ہیں اور اپنے جالوں کی مرمت بھی۔ سمندر کی چمکیلی لہروں میں اچھلتی مچھلیوں اور جُھنڈ کی شکل میں اُڑان بھرتے پرندے انسانوں کوایک ہی پیغام دیتے نظر آئے اور وہ پیغام تھا ماحولیات کا تحفظ۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here