اس اژدہے کو '' میسیلوپائتھن فریائی '' کا نام نہیں لیا گیا تھا جو زیادہ لمبا ہوا سے چھٹ گیا تھا۔  (فوٹو: سنکنبرگ میوزیم آف نیچرل ہسٹری ، فرینکفرٹ)

اس اژدہے کو ” میسیلوپائتھن فریائی ” کا نام نہیں لیا گیا تھا جو زیادہ لمبا ہوا سے چل رہا تھا۔ (فوٹو: سنکنبرگ میوزیم آف نیچرل ہسٹری ، فرینکفرٹ)

فرینکفرٹ / ساؤ پالو: برازیلی اور جرمن سائنسدانوں کا مشترکہ ٹیم فرینکفرٹ کے قریب ہی ہے۔

واضح رہے کہ اجمیڈوں کا شمار ‘غیر زہریلے سانپوں’ میں ہوتا ہے جو ہمیشہ شکار رہتا ہے اور ہڑپ کرجا عبادت ہے۔

اس سے پہلے اژدہے کی قدیم ترین رکازات مشرقی آسٹریلیا کے حصے میں جو تقریبا لاکھ 55 لاکھ سالانہ قدیم ہے لیکن حالیہ دریافت سے متعلق رکشہات میں ان کے مقابلے میں 9 گنا زیادہ واقعات سامنے آئے ہیں جن کا پتہ اژدہوں کا ارتقاء وجود سابقہ ​​معلومات سے ہے۔ بہت پہلے ہوچکا تھا۔

” یہ دریافت ظاہر نہیں ہے ، صرف ایک سابقہ ​​انداز میں ہی اس کا وجود ہے جو صرف پتا چلتا ہے اور اولین اژدہیوں کا ظہور یوروپ میں ہوا تھا ، ” ڈاکٹر حسام ظاہر ہوئی تھیں۔ پالو یونیورسٹی میں رکازیات (علمیات) اور ارتقاء کے پروفیسر اور اس تحقیق میں مرکزی ماہرین میں سے ایک ہیں۔

اس دریافت کی اطلاع رائل سوسائٹی کی تحقیقی مجلے ” بائیالوجی لیٹرز ” کی تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہو۔

مذکورہ قدیم اور معدوم اژدہے کو جرمن رکازیات دایاں ایبرہارڈ ‘ڈائنو’ فرش نام ” میسیلوپائتھن فریائی ” (میسیلوپیٹن فریئ) کا نام نہیں لیا گیا ہے اور زیادہ لمبا ہوا چل رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اژدہے قدیم ترین رکازات ہیں لیکن اب یہ بھی واضح نہیں ہے کہ دنیا کا سب پہلا اژدہ کب اور کیا نمودار ہوا ہے۔

اسی اژدہے کے ساتھ میسل پِٹ سے سانپوں کی کچھ باتیں اور معدوم اقسام دریافت جن جن کا تعلق ‘بوآ’ (بوآا) کہتے ہیں کہ بڑے سانپوں کے گروہ سے ہیں۔

یہ رکشہات بھی 4 کروڑ 70 لاکھ سالانہ قدیم ہیں جو ظاہر ہو چکے ہیں کہ وہ اژدہیوں اور بوآئی میں قریبی تعلقات سے تعلق رکھتے تھے اور یہ کس نوعیت کا تھا؟ سانپوں کے دونوں اقسام میں وسائل کے آپس میں جھگڑا رہتا تھا یا وہ تعاون باہمی کے اصول پر عمل کرتے ہیں؟

یہ اور دوسرے سوالات کے جوابات فی لمحہ ماہرین پاسپورٹ بھی موجود نہیں ہیں۔ قبل ازیں سائنسدانوں کا خیال تھا کہ آج ہمارا ایک دن پہلے ہی اژدہے اور بوآ کے مقابلہ میں رہتے تھے اور ان کا موقع ملنا ہی ہمیشہ رہتا تھا۔

ڈاکٹر حسام ظاہر ہوئے ، یوروپ کے رکازی ریکارڈ میں سانپوں کی باقیات 47 ملی گرام (4 کروڑ 70 لاکھ) سال قبل قبل کے لوگوں کی موجودگی میں موجود نہیں تھیں لیکن اچانک ہی 23 جون (2 لاکھ 30 لاکھ) سالانہ لے جا رہی تھیں سال قدیم یوروپی رکازی ریکارڈ میں سانپوں کی باقیات دکھائی دیتی ہیں۔

یہ ساری باتیں مزید تحقیق کا تقاضا کرتی ہیں اور امید کی جاتی ہیں کہ جلد ہی اس سے متعلق کوئی نئی تحقیقاتی مہم شروع نہیں ہوئی۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here