میامی واقعی طوفان لاسکتی سے 157 میل فی گھنٹہ ہے۔  فوٹو: سائنس الرٹ

میامی واقعی طوفان لاسکتی سے 157 میل فی گھنٹہ ہے۔ فوٹو: سائنس الرٹ

میامی: سائنس میں سازشی نظریات تراشنے والے یہاں ایک دوسرے سے الگ الگ رہتے ہیں جو فلاں ملک کے مصنوعی زلزلے سے قبل موجود ہے یا سمندری طوفان لا بس مشین ہی بن چکی ہے جو پوری دنیا میں تیز رفتار ہوا کا درجہ حرارت پانچ کا طوفانِ باد (ہری) ہے۔ کین) موسم گرما ہے۔

‘دیوارِ باد’ یا دی وال آف وِنڈ کا نام 157 میل فی گھنٹہ ہے یا 70 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ہوا کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہوائی دیوار کو اہم سائنسی تحقیق کی گئی ہے جو اس کی بدولت طوفانِ باد اور باران کی تحقیق میں مدد کے حصے کا حصہ ہے جو امریکہ میں عام طور پر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم خود طوفان سے بچنے والی عمارتوں اور مکانوں کی بہتر تیاریوں سے بچ گئے ہیں۔

لیکن اس عمارت کی راتیں تیار نہیں رہیں گی فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ہری کین ریسرچ سینٹر (آئی ایچ ای آرسی) اور جامعہ میں کمپیوٹرنگ کالج کے ماہرین نے 15 سال تک مسلسل تعطیلات کا مرکز بنایا۔

2005 ء میں دو ٹربائن لگائی ہوئی جو 53 میٹر فی سیکنڈ ہوا ہوا چل رہی تھی ، کل 12 پنک کا انسٹال ہوا جو مجموعی طور پر 70 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ہوا کی نقل و حرکت ہے جو صرف 42 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے مضبوط ہے۔ بیٹا اور گرجاتا ہے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=kkI0UjmFFDs

فلوریڈا یونیورسٹی کے مطابق ہوائی دیوار ہرقسم اسٹرکچر کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ طوفان کے بعد ہوا اور بارش سے عمارتوں کا اثر پڑتا ہے۔

اس مرکز میں چھوٹے مکانات اور عمارتوں میں ایک گھریلو ٹیبل ہے جس سے ہر گھر سے بچ گیا ہے۔ اس طرح کے ڈیزائن کے مکانات کو ہر طرح سے آزمائش سے گزارا جاک سند ہے۔

ماہرین ہوائی طوفان کو ناکارہ بنائیں سیفر سمپسن ہری کین اسکیل (پیمانہ) استعمال کریں۔ مثلاً امریکہ میں بھیجے جانے والے طوفان کترینہ اور اینڈریو پانچویں درجے کا تھا۔ اس طرح کی یہ مشین اب پانچوں درجات کی شدت سے پیدا ہوتی ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here