انکا تہذیب میں خوراک اور جانوروں کو زندہ دفن کرنا عام رواج تھا۔  فوٹو: نیوسائنٹسٹ

انکا تہذیب میں خوراک اور جانوروں کو زندہ دفن کرنا عام رواج تھا۔ فوٹو: نیوسائنٹسٹ

پیروکار: آج کے پیروکار واقعی قدیم تہوار کے بارے میں انکشاف ہوا کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہاں صرف دیوتا رہنا ہی نہیں بلکہ صرف جانوروں کو زندہ دفن بھی کیا جاتا ہے۔

اگرچہ کچھ سال پہلے تک انکا آثار سے لے کر قبرستان ملتی رہتے تھے ، لیکن اس میں کچھ خاص بات نہیں ہوتی ہے ، مقامی جانوروں کے لامہ کے باقی حصے جن کے بارے میں خیالات میں رہتے ہیں۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف کیلگری کی تحقیق کے مطابق ، سفید لامہ کی پانچ لاشوں کی ایک جگہ سے ایک جگہ دریافت ہے۔ اس پر کسی چوٹ ، زخم اور جانچ کے نشانات نہیں ہیں۔ اس ضمن میں محقق پروفیسر لیڈیو پیڈیا ایک دوسرے سے موت کی واضح وجہ سامنے نہیں آسکتی ہے لیکن ہمارا گمان ہی زندہ دفنیا گیا تھا۔ دوسرے جانوروں کے حلقوں پر بھی کوئی نشان نہیں ہے۔

جنوبی امریکہ میں میکسکو اور پیروکار تک پھیلے ہوئے تھے لیکن انکا تہوار ترقی یافتہ سمجھوتہ تھا لیکن وہاں خواتین ، جانوروں اور کوہ کو زندہ دفن کرنا عام رواج تھا۔ اس کے علاوہ جنگی قائڈ کھانے پینے کے واقعات بھی دریافت ہیں۔ سینکٹرز سال پرانی یہ تہوار 1500 میں اسپینی موسم کے بعد ختم ہونے والی تھیم۔

‘انکا باشندے لاما کو مقدس متفرق ہیں۔ یہ کام جانوروں کی دودھ ، گوشت ، کھال اور اونٹ فراہم کرتا ہے ، ‘پروفیسر لیڈیو نے بتایا۔ لامہ دیوی اور دیوتا سے متعلق خاص مواقع پر قربانی کا پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں کی تعداد سینک کی جاتی ہے۔

بچوں کی بھینٹ

کچھ سال پہلے نیشنل جیوگراف کے بارے میں یہ خبر مشہور تھی کہ اس نے پیروی کی ہے 140 افراد کی لاشیں ملیشیا جنوری سے پہلے نشر آور شیل کھلاکر یا پلاکر زندہ دفن ہوئی تھیں۔ 500 سال قبل یہ واقعہ انکا تہذیبی دورے میں پیش پیش تھا۔ ماہرین نے انسانی تاریخ میں سب سے بڑے بھینٹ معاہدے کیے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here