ہر سال 10 دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں آگاہی دینا اور اس حوالے سے ہونے والے اقدامات کا جائزہ لینا ہے۔

پاکستان میں بھی یہ دن خصوصی طور پر منایا جاتا ہے اور سرکاری سطح پر سال بھر کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اگلے برس کا لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

اعجاز عالم آگسٹین
(صوبائی وزیر برائےانسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب)

انسانوں کی بات سب کرتے ہیں مگر ان کے حقو ق کی بات کم لوگ کرتے ہیں ۔ ہماری حکومت لوگوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے دن رات کام کر رہی ہے۔ رواں سال ہم نے انسانی حقوق کے عالمی دن کو صرف ایک دن تک محدود نہیں رکھا بلکہ پورا ہفتہ منانے کا اعلان کیا جس کا آغاز 3 دسمبر کو کیا گیا اور اختتام 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن پر ہوا۔  ہم نے پنجاب کے تمام اضلاع میںپہلی مرتبہ ہیومن رائٹس سیل قائم کیے ہیں جو بہترین کام کر رہے ہیں۔

ہفتہ انسانی حقوق کے حوالے سے ہم نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی طور پر یہ ہدایت دی کہ وہ اپنے ضلع میں انسانی حقوق کی آگاہی کیلئے اس دوران کم از کم 5 سرگرمیاں کرائیں۔ اس کے علاوہ بینرز، پرنٹ، الیکٹرانگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی لوگوں کو آگاہی دی گئی۔ انسانی حقوق کے ادارے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت زیادہ ہیں مگر انسانی حقوق کی تعلیم کی کوئی بات نہیں کرتا حالانکہ شعبہ تعلیم انسانی حقوق کی آگاہی کیلئے انتہائی اہم ہے۔ پنجاب حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب یونیورسٹی میں انسانی حقوق کی چیئر قائم کی ہے۔

یہ ایک الگ شعبہ ہے جس کے پہلے سال میں 1100 طلبہ رجسٹرڈ ہوئے جو انسانی حقوق کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم نے گریجوایشن میں انسانی حقوق کا 30 نمبر کا مضمون بھی شامل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں بھی انسانی حقوق کو شامل کیا ہے۔

یہ وہ کام ہے جو سب سے اہم ہے اور اس کے ذریعے انسانی حقوق کی حالت بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ سکولوں کے تعلیمی نصاب میں بھی انسانی حقوق کے مضامین شامل ہونے چاہئیں، ہم اس حوالے سے آراء دے رہے ہیں مگر کر نہیں سکتے۔ انسانی حقوق کا ایکٹ منظور کرنے کے بعد ہماری وزارت مضبوط ہوجائے گی اور پھر ہم بہتر طریقے سے کام کر سکیں گے۔

میرے نزدیک سکول کی سطح سے ہی بچوں کی اس طرح ذہن سازی کرنی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال کریں، عزت و احترام کریں، ان میں برداشت اور رواداری ہو اور وہ مل کر ملکی ترقی میں کردار ادا کریں۔

اگر ہم نے ایسا کرلیا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ ملک ترقی نہ کرے اور انسانی حقوق سمیت لوگوں کے تمام مسائل حل نہ ہو جائیں۔ انسانی حقوق ان طبقات کا معاملہ ہے جو محروم ہیں۔ اشرافیہ کا تو یہ مسئلہ ہی نہیں اور نہ ہی انہیں علم ہے کہ لوگوں کی محرومیاں کیا ہیں۔

ہم نے محروم طبقات کو بھی اس میں شامل کیا ہے اور ان کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے۔ ملک میں ہیومن رائٹس ایکٹ موجود نہیں جس کی وجہ سے کوئی ٹھوس کام نہیں ہورہا۔ ہم برطانیہ کی طرز کا ہیومن رائٹس ایکٹ لارہے ہیں جسے آئندہ برس منظور کرلیا جائے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ہمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی 60 ہزار سے زائد شکایتیں موصول ہوئی، جس پر ہم نے متعلقہ محکموں کو کارروائی کا کہا مگر اس ایکٹ کے بننے کے  بعد ہم بااختیار ہوجائیں گے اور خود کارروائی کر سکیں گے۔

ہم ٹرانس جینڈرز کے حقوق و تحفظ کیلئے قانون سازی کر رہے ہیں، ان کی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت ہوچکی ہے، جلد یہ بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ ہماری بچیاں تیزاب گردی کا شکار ہورہی ہیں، اس حوالے سے بھی قانون سازی کی جارہی ہے جو آئندہ ماہ مکمل ہو جائے گی۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اقلیتی بچیوں کا مذہب زبردستی تبدیل کرکے ان سے شادی کر لی جاتی ہے، اس حوالے سے پنجاب پہلا صوبہ ہے جو لڑکیوں کے مذہب کی جبری تبدیلی کے حوالے سے قانون لا رہا ہے، یہ پرائیویٹ نہیں بلکہ سرکاری بل ہے اور میں تحریک انصاف کا مشکور ہیں کہ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی اور اب یہ بل جلد اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔ ہم نے اس مرتبہ تمام مذاہب کے رہنماؤں کو مدعو کیا اور انسانی حقوق کے حوالے سے ان کے ساتھ بات چیت کی جس کے بعد اب مساجد، چرچز و دیگر عبادتگاہوں سے انسانی حقوق کی آگاہی دی جارہی ہے اور لوگوں کو بتایا جارہا ہے کہ ان کی اہمیت کیا ہے۔ میرے نزدیک ’’سب سے پہلے انسانیت‘‘ ہے ، اس پر سب نے اتفاق کیا اور یہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔

ریاست پر تنقید کرناآسان ہوتا ہے مگر ریاست کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی و دیگر اداروں کا کردار بھی اہم ہوتا ہے لہٰذا سب کو مل کر انسانی حقوق کا علم اٹھانا ہوگا۔ ہمارے مجموعی معاشرتی رویے درست نہیں ہیں، لوگ بدعنوانی کے بغیر کام نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ دھونس کے ساتھ اپنی بات منوائی جاسکتی ہے جس سے ملک میں خرابیاں پیدا ہورہی ہیں۔

ہمارے نظام عدل میں بھی بے شمار مسائل ہیں۔ ججز اور وکلاء انصاف کیلئے اہم ہیں اور یہی انسانی حقوق کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیںلہٰذا ہمیں مل کر اس نظام کو بہتر بنانے کیلئے کام کرنا ہوگا۔کورونا کی دوسری لہر میںاپوزیشن اپنے مقاصد کیلئے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اسے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

بیگم مہناز رفیع
(رہنما انسانی حقوق )

بدقسمتی سے پاکستان آج تک فلاحی ریاست نہیں بن سکا جس کی وجہ سے آج یہاں سب اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اشرافیہ نے صرف اپنے مفادات کیلئے کام کیا اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی، اس لڑائی میں ملک پیچھے رہ گیا اور اشرافیہ آگے نکل گئی جبکہ عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

یہاں آزادی اظہار رائے کی بات ہوئی، میرے نزدیک صرف بولنے کا حق مل جانا کافی نہیں ہے بلکہ تعلیم، صحت، خوراک، زندگی جیسے حقوق بے حد ضروری ہیں۔ ان پر کام کرنے کیلئے دیکھنا یہ ہے کہ کیا وسائل ہیں اور ان پر کس طرح سے کام کرنا ہے۔ ہمارے ہاں تو آزادی کے بعد سے وسائل کا ایسا برا حال کیا گیا کہ اب عام آدمی کے پاس کچھ نہیں ہے، وہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے۔

حکومتیں اشرافیہ کی رہی جن کا عام آدمی سے تعلق ہی نہیں۔ اگر عوام کی آواز حکومت نہ سنے تو عدالت سنتی ہے مگر یہاں نظام عدل بھی عام آدمی کیلئے نہیں ہے، دادا سے شروع ہونے والے کیس کی پیروی پوتا کرتا ہے لہٰذا ہمیں اس نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیںجو بہت بڑی بات ہے۔

اس ریاست کی بنیاد انصاف اور لوگوں کے حقوق تھی جس میں ہر شخص جوابدہ تھا اور اس کو حق پہنچانے کیلئے خلیفہ رات کو گلیوں میں چکر لگاتے تھے۔ اب تو حکومت کے پاس سہولیات زیادہ ہیں لہٰذا ایسا نظام قائم کرنے کیلئے سب کو حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہمارے ملک میں انسانی حقوق کا وہ معیار نہیں ہے جو ہونا چاہیے، اس پر توجہ دینا ہوگی۔ ملک میں خواتین اور بچوں پر تشدد ہورہا ہے، انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے مگر مجرموں کو ضمانت پر رہائی مل جاتی ہے، ایسے عناصر کو کڑی سزا دیکر نشان عبرت بنایا جائے۔

پاکستان میں اقلیتیںا ٓزاد ہیں، ان کی عبادتگاہوں کی حفاظت کی جارہی ہے مگر ہمارے پڑوسی ملک بھارت صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں و دیگر مذاہب کے لوگوں پر زمین تنگ کر رہا ہے، ان کی نسل کشی کی جارہی ہے جو انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے مگر بدقسمتی سے اقوام متحدہ میں موجود انسانی حقوق کا سیل خاموش ہے، اسے جگانا ہوگا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ہر طرف اندھیرا ہے مگر یہ عالمی دن امید کی ایک کرن ہے کہ ملک میں لوگوں کو ان کے حقوق ملیں گے اور وہ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار سکیں گے۔

عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی دینی چاہیے اور انہیں اپنے نمائندوں کے چناؤ کا شعور دینا چاہیے تاکہ وہ ملک کی باگ ڈور ایسی قیادت کو دیں جو انہیں ان کے حقوق فراہم کرسکے، اگر ایسا ہوگیا تو لوگوں کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

عبداللہ ملک
(نمائندہ سول سوسائٹی )

10 دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائیں گے اور اس پر کام بھی کریں گے۔ یہ کام انفرادی سطح پر بھی ہوگا اور سب مل کر بھی ایک دوسرے سے تعاون  کریں گے۔

بنیادی انسانی حقوق میں تعلیم، صحت، خوراک، چھت و دیگر اہم ضروریات زندگی کے ساتھ ساتھ اب توانائی، ماحول وغیرہ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے لہٰذا پاکستان سمیت تمام ممالک کو ان حقوق کا تحفظ بھی کرنا ہوگا۔ آزادی اظہار رائے، تحریک اور ایسوسی ایشن بنانا بھی انسانی حقوق میں شامل ہیں مگر اس حوالے سے مسائل درپیش ہیں جنہیں دور کرنا ہوگا۔ آئین پاکستان کی بات کریں تو پہلے 25 آرٹیکل انسانی حقوق کے حوالے سے ہیں اور آئین ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے ان تمام حقوق کا تحفظ کرے اور ان کا خیال رکھے۔

اس وقت ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال ابتر ہے، توانائی اور ماحول پر توجہ تو دور ابھی تک لوگوں کو تعلیم، صحت، خوراک جیسے حقوق نہیں مل سکے، یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ملک کو فلاحی ریاست بنایا جائے۔ دنیا میں جہاں جہاں فلاحی ریاست ہے وہاں لوگوں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں لہٰذا اس عالمی دن کے موقع پر پاکستان کو بھی ان ممالک کی صف میں شامل ہوجانا چاہیے تاکہ لوگوں کو ان کے حقوق دیے جاسکیں۔ اخلاقیات و مذہبی اقدار بھی انسانی حقوق میں شامل ہیں مگر بدقسمتی سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہورہی ہے، خواتین اور بچوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہورہا ہے۔

عزتیں پامال کی جارہی ہیں، بچوں کا مستقبل تباہ کیا جارہا ہے جو تشویشناک ہے۔ وہاں 7 لاکھ سے زائد بھارتی فوجی اہلکار قابض ہیں جو دنیا میں بدترین مثال ہے اور سب سے زیادہ فوج والا علاقہ بھی ہے مگر افسوس ہے کہ امت مسلمہ اور عالمی دنیا اس پر خاطر خواہ آواز نہیں اٹھارہی، انسانی حقوق کے علمبردار اقوام متحدہ کو اس پر فوری ایکشن لینا ہوگا۔

آئین پاکستان روزگار کا تحفظ دیتا ہے مگر گزشتہ برسوں میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے، اس میں سول سوسائٹی کے لوگ بھی شامل ہیں، عالمی این جی اوز پر پابندیوں اور سخت شرائط کی وجہ سے بے شمار اداروں نے یہاں کام بند کر دیا جس سے مزید لوگ بے روزگار ہوئے۔

میرے نزدیک جو اچھا کام کر رہے ہیں انہیں تنگ نہ کیا جائے اور جو کوئی ملکی سا  لمیت کیلئے خطرہ ہے، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور نشان عبرت بنایا جائے۔ دنیا بھر میں خواتین اور بچوں کے حقوق بھی پامال ہورہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 2 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جن کی تعلیم کی ذمہ داری حکومت کی ہے مگر ریاست اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر پائی، ان بچوں پر توجہ دینی ہوگی، یہ ہمارا مستقبل ہیں اور انہوں نے ہی ملک کی ترقی میں کیلئے کام کرنا ہے۔

جب تک ہم اقوام متحدہ سے کیے گئے وعدے کے مطابق جی ڈی پی کا 6 فیصد تعلیم پر خرچ نہیں کریں گے تب تک مسائل حل نہیں ہونگے۔ ہمیں ان بچوں کی صحت کے لیے کھیلوں کی گراؤنڈز کو آباد کرنا ہوگا اور نئی گراؤنڈز بھی بنانا ہونگی۔ خواتین کی بات کریں تو  10 میں سے 1 خاتون کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، ہر 2 گھنٹے میں ایک خاتون کے ساتھ گینگ ریپ ہوتا ہے،زچگی کے دوران خواتین اور بچوں کی اموات کے مسائل بھی افسوسناک حد تک ہیں، بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے اعداد و شمار بھی خوفناک ہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی ہراسگی کے واقعات سامنے آرہے ۔

پنجاب میں 2010ء میں تحفظ خواتین کا قانون منظور ہوا مگر ابھی تک کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا، آج بھی خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں۔جنسی تشدد کے حوالے سے حکومت ایک آرڈیننس لارہی ہے، میری رائے ہے کہ اس پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور ان کی آراء کو شامل کیا جائے، ایسا کرنے سے اس پر عملدرآمد میں آسانی ہوگی۔ رواں سال انسانی حقوق کے دن کو صحت کے ساتھ جوڑا گیا ہے مگر افسوس ہے کہ ہمارے ہاں صحت کی سہولیات بھی ناکافی ہیں۔

اس میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ ملکی قانون کی پاسداری سب پر فرض ہے مگر اپوزیشن اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی، کورونا کا خطرہ بڑھ رہا ہے مگر اپوزیشن کی جانب سے جلسے کیے جا ر ہے ہیں جبکہ حکومت بے بس نظر آرہی ہے، ایس او پیز فالو کرانے کیلئے حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنا ہوگی۔ ملک کو سنگین مسائل درپیش ہیں، لوگوں کے انسانی حقوق اور بہتر زندگی کی خاطر حکومت، اپوزیشن اور تمام سٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔

کورونا کی مشکل صورتحال میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف جو لوگوں کے بنیادی حق (صحت) کا خیال رکھ رہا ہے ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور جنہوں نے اس جنگ میں اپنی جانیں قربان کی ہیں ہم انہیں سلوٹ کرتے ہیں۔ یہی انسانی حقوق کے اصل محافظ ہیں، حکومت کو انہیں مزید سہولیات دینی چاہئیں اور لوگوں کے لیے صحت کی سہولیات میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ عام آدمی کو اس کے گھر کی دہلیز پر علاج معالجے کی سہولت میسر ۔ ایک اور اہم مسئلہ ماحول ہے، ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے جس کی بے شمار وجوہات ہیں۔ صاف ماحول بھی لوگوں کے بنیادی حقوق میں شامل ہے لہٰذا ریاست کو اس پر توجہ دینا ہوگی۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here