کوئٹہ کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ 'شعوری سوچ' کے سلسلے میں ایک ہفتہ اور پیچیدہ دماغ کا کوئی دخل ہوتا ہے۔  (فوٹو: کورنیل یونیورسٹی)

کوئٹہ کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ‘شعوری سوچ’ کے سلسلے میں ایک ہفتہ اور پیچیدہ دماغ کا کوئی دخل ہوتا ہے۔ (فوٹو: کورنیل یونیورسٹی)

برلن: جرمن سائنسدان صرف ایک چالاک ہی نہیں ہیں بلکہ انسانوں کے وجود کا احساس ہی پیدا ہوتا ہے ، یعنی ‘باشعور’۔

یہ دریافت بہت اہم بات ہے جب تک وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دماغوں کے دماغوں میں اتنے ترقی یافتہ / ارتقاء یا ہفتے نہیں ہوسکتے ہیں۔

آج یہ خیال عام طور پر موجود ہے کہ وہ انسان سے آگاہ ہے اور صرف جانوروں سے ہی مخصوص ہے۔ لیکن کوٹوں کی تازہ ترین تحقیق میں اس کا خیال غلط ثابت ہوا۔

ریسرچ جرنل ‘سائنس’ ‘ایک حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یونیورسٹی آف توبنجن ، جرمنی کی ماہرین نے جمعرات کو دو روزہ کوکیوں کو کچھ کام سکھائے اور پھر ان میں ‘شعوری سوچ’ کہا تھا۔

پہلے مرحلے میں کوکروں کے سامنے رکھی ہوئی اسکرین وقفے سے وابستہ ایک تربیت دی جارہی ہے جس طرح سے سرکا کرکرین روشن ہوا ہے ” ہاں ” اس کا اشارہ کرنا ممکن نہیں ہے ، اس کے دوران کوسٹوں کے دماغوں میں اعصابی سرگرمیاں نوٹ کر رہی ہیں۔ ’’ اکثریت۔

تربیت مکمل مشغولیت کے بعد مختلف اوقات میں 20 ہزار سے زیادہ مرتبہ کی آزمائشوں پر یقین رکھتے ہیں۔ بیشتر مواقع پر اسکرین یا آپ کو روشن ستھری تاریک رکھی ہوئی ہے ، کبھی کبھی مواقع پر اسکرین یا اس سے زیادہ جلدی سے روشن فوراً تاریک کیری ہو یا پھر اسکرین بہت ہی مدھم روشنی ڈالی ہو جاتی ہے۔

اس دوران کوسٹوں کے دماغوں میں تیزی والی اعصابی سرگرمی کی کتابیں (نیورل اٹیویٹیز) اس کو کوئنوں کی واضح روشنی پر روشنی ڈالتی ہیں ، فوراً دماغی اعصاب میں سرگرمیاں تیز تر ہوتی ہیں اور اس نے روشنی کا رد عمل دیا تھا۔ ‘ ہاں ‘اس کا اشارہ کیا ہے ، اس کے بعد اس کی سرگرمیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔

اس کے علاوہ ، جب اس بات کا یقین تھا کہ اس نے اسکرین پر روشنی ڈالی ہے ، تو اس کے دماغوں میں صرف ایک سرگرمی ہی نہیں ہے بلکہ صرف ایک ہی نوعیت کی تھیان تھی۔

تاہم ، جب اسکرین پر بہت کم وقت تھا یا بہت زیادہ مدھم روشنی نظر آتی ہے تو دماغی سرگرمی کی دکانیں خاص طور پر مختلف ہوتی ہیں ، لیکن وہ اس کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔

یہ بات بخوبی جانتی ہی نہیں تھی ، غیر واضح طور پر اس میں بھی شعوری سوچ رہی تھی۔

اس تجربے سے اگر کسی شعور کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے تو اس کے ساتھ شعور کے معاملات میں بھی اب تک خیالات کی ضرورت ہوتی ہے۔

انسانوں اور دوسرے ممالیہ جانوروں کے دماغوں میں کچھ خاص اعصاب کی پرتیں (پرتیں) جنوری شعوری سوچنے کی وجہ سے سمجھوتہ کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں پرندوں (بشمول کوّوں) کا دماغ بہت مختلف ہے۔ ذہانت میں اس سطح پر کوئی شعور نہیں آرہا تھا۔

البتہ حالیہ برسوں کے دوران کبوتروں اور اس کے بارے میں کچھ تحقیقات کی گئی ہیں۔ توبجن یونیورسٹی کے ماہرین کی تازہ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسانوں کا طریقہ بھی ‘باشعور’ ہے۔ اور یہ شعوری سوچ کا رشتہ زیادہ ترقی یافتہ اور پیچیدہ دماغ سے نہیں ہوتا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here