فیصل آباد کے ’گھنٹا گھر چوک‘ پر اگر آٹھ راستے یک جا ہوتے ہیں، تو ’پاپوش نگر‘ (کراچی) کے ’خلافت چوک‘ پر بھی پانچ شاہ راہیں بغل گیر ہیں۔۔۔

عباسی شہید اسپتال والی سڑک سے جائیے، تو یہ چوراہا ’چاندنی چوک‘ سے کوئی 300 میٹر پہلے پڑے گا۔۔۔ عین اس چورنگی پر ’پشاوری سوپ‘ کی ایک بڑی ساری دکان ہے، اس کے ساتھ، بابو پان والے کا کیبن اور اس کے بالکل برابر 13 سالہ عبدالوارث، جس سے اُس روز ہماری ملاقات ہوئی۔۔۔

کہنے کو ہم نے اب تک 100 سے زائد انٹرویو کر لیے ہیں، لیکن جتنی دشواری ہمیں عبدالوارث سے رابطے میں ہوئی، اتنی شاید کسی وائس چانسلر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیر وغیرہ سے رابطے میں بھی نہ ہوئی ہوگی، وہاں پہنچ کر سوچا کہ ذرا سامنے انھیں فون کر کے دیکھیں کہ آخر ہمارا فون کیوں نہیں اٹھاتے، نمبر ملایا تو ’مصروف‘ تھا، ہم نے پوچھا کہ کیا ہمارا نمبر بلاک وغیرہ کر دیا ہے، تو انھوں نے جیب سے موبائل نکال کر دیکھا اور بولے ’35 مس کالیں!‘

یہ سچ ہے کہ چند دن میں ہی عبدالوارث کی ویڈیو ’فیس بک‘ وغیرہ پر اس قدر پھیلی ہے کہ اب ان کے پاس بے تحاشا فون آنے لگے ہیں۔۔۔ ایک طرف مدد کے خواہاں، تو دوسری طرف ذرایع اِبلاغ کے نمائندے۔۔۔ اور اس پر مستزاد ’نیم صحافیے‘ جو دنیا کے کسی بھی طرح کے منظر کی ویڈیو میں اپنا ’منہ‘ شامل کر کے ’یوٹیوب‘ وغیرہ پر زیادہ سے زیادہ ’دکھاوے‘ پا کر اپنی ’دیوانگی‘ کی تسکین چاہتے ہیں۔۔۔

یہاں عبدالوارث گھر کے بنے ہوئے ڈونٹس، میکرونی اور گلاب جامن وغیرہ کے ڈبے سجا رہے ہیں، بقول اُن کے کہ ’فیس بک‘ کی مذکورہ ویڈیو ایک ڈیڑھ ہفتے قبل کا واقعہ ہے، لیکن ہماری کھوج کے مطابق انٹرنیٹ پر ویڈیو مشتہر ہونے کے چوتھے روز ہم ان کے روبرو تھے۔ عبدالوراث نے بتایا کہ وہ کبھی اسکول یا ٹیوشن نہیں گئے، اس لیے انگریزی یا اردو بالکل بھی نہیں پڑھ سکتے، بس اپنا نام اور ’اے بی سی ڈی‘ آتی ہے۔

ہم سے تھوڑی سی گفتگو کے بعد وہ ذرا اپنی ’دکان‘ کی طرف گئے، تو دو عدد سرخ مائیکوں سے ’مسلح‘ نامہ نگار آدھمکے۔۔۔ اب کیمروں کی تیز روشنیاں تھیں اور ’’اسٹارٹ، کیمرا، ایکشن‘‘ طرز کی صدائیں۔۔۔ عبدالوارث کو سامان سجاتے ہوئے ’عکس بند‘ کیا جا رہا تھا۔۔۔ باقاعدہ ’کیٹ واک‘ کرائی جا رہی تھی، جیسے وہ ابھی سائیکل پر سامان لا رہے ہوں۔۔۔

’ایسے نہیں کرو، ویسے کرو، اِدھر نہیں، اُدھر دیکھو۔۔۔!‘ دو خبری چینلوں کی گویا ’منہ کھولی‘ گاڑیاں دیکھ کر اس بارونق چورنگی پر اور خلقت اکٹھی ہونے لگی۔۔۔ کہیں کیمرے کے ’چوکھٹے‘ میں زیادہ لوگ نہ آجائیں، اس لیے ’کیمرا مین‘ پیچھے ہٹو، اُدھر جاؤ‘ کی آوازیں لگا رہا تھا۔۔۔ اور اب ہم اِن کیمروں کی چکا چوند میں، صبح کے کسی سنجیدہ اخبار کی طرح ایک کنارے ہوئے، اپنے ہم پیشہ ساتھیوں کی ’کاری گری‘ دیکھ رہے تھے۔۔۔

تیز روشنی سے عبدالوارث کی آنکھیں چندھیائی جاتی تھیں۔۔۔ چہرہ بالکل سپاٹ۔۔۔ مسکراہٹ اور پسند وناپسند کے کسی بھی تاثر سے یک سر عاری۔۔۔! شاید ’زندگی‘ کی کچھ اور ’سچائیاں‘ اتنی زیادہ بڑی تھیں، کہ انھیں ذرا دیر کو بھی اُن سے ’بے خبر‘ ہونے کی مہلت نہ تھی۔۔۔ ’برقی خبر نگاروں‘ کی یہ مَشق رات کے اس پہر بلامبالغہ ہمارا سوا گھنٹا ’پی‘ گئی۔۔۔ اب ’’ہم‘‘ بھلا کیا ’’بول‘‘ سکتے تھے۔۔۔! ہم ٹھیرے ایک اخبار کے نمائندے، جو ایک عام ہو جانے والے ماجرے کو اب بہتر اور مزید اچھا پیش کرنے کی جستجو میں تھا۔۔۔ کیوں کہ ’مکھی پہ مکھی مارنے‘ کی اگر کوئی ذرا سی رَمق ہم میں رہی بھی ہوگی، تو وہ اللہ بخشے احفاظ الرحمن کے بلند معیار نے اپنی شاگردی میں کبھی کی ختم کر دی تھی۔ اب صحیح معنوں میں ہم اخبار کے محدودات سے چینلوں کی تیزرفتاری اور چَکا چوند کا مقابلہ کرنے کی چارہ جوئی میں تھے۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ پہلے آنے کے باوجود ہمیں تفصیلی بیٹھک کے لیے ذرا ’سوفتے‘ کا انتظار تھا، کیوں کہ اس بھیڑ اور دھما چوکڑی میں ہماری ’دال‘ نہیں گل سکتی تھی۔۔۔ خدا خدا کر کے دونوں کیمروں کی ’آنکھیں‘ بند ہوئیں تو ہم نے بھی اپنے موبائل کو جُنبش دی اور اسے سب باتیں ’محفوظ‘ کرنے کا ’ذمہ‘ سونپا۔۔۔

اس دوران ایک بار آتے جاتے پشاوری سوپ والے لڑکے کو کوئی فقرہ چُست کرتے ہوئے عبدالوارث ذرا مسکرایا، کیمروں کی مشق کے دوران ہمیں سارا ’بکھیرا‘ ختم ہونے کا منتظر پا کر بھی دو تین بار اس کے سنجیدہ چہرے پر کچھ تبسم دوڑی تھی، شاید اسے احساس ہوا تھا کہ ہم کتنی دیر اس کے منتظر رہے۔۔۔

اس بیچ خریدار بھی آتے رہے، ایک گاہک دو بڑے تھیلے بھر کے لے گیا، اور اُن کا سب سامان ختم ہو گیا۔۔۔ دونوں خبری چینل والے بھی منظر سے رخصت ہوگئے۔۔۔ ہم انھیں لبِ سڑک سے ’پشاوری سوپ‘ کے بغل میں ذرا اندر کو لے آئے؛ کرائے کی گاڑیوں کی بند دکانوں کے گنجائش والے کھلے وسیع حصے میں، جہاں ہلکی سردی میں لوگ مرغی کی گرما گرم یخنی سے لطف اٹھا رہے تھے۔

ہم نے عبدالوارث سے ان کی مشہور ہونے والی ویڈیو میں سنا تھا کہ وہ دراصل کپڑے کی دکان پر کام کرتے ہیں، انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ دکان سامنے سعدیہ مارکیٹ میں ہے۔ پانچ بہن بھائیوں میں ان کا نمبر تیسرا ہے، دو بہنیں بڑی ہیں۔ ایک بہن شادی شدہ ہیں اور ایک کی شادی ابھی ہوگی، ایک بہن اور ایک بھائی اُن سے چھوٹے ہیں۔ اپنے والد کے حوالے سے عبدالوارث نے بتایا کہ ’وہ پہلے کپڑے اور چوڑیوں وغیرہ کے پتھارے لگاتے تھے۔۔۔ ایک آپریشن ہوا، جس کے بعد سے وہ گھر پر ہی رہتے ہیں۔ ہم نے پوچھا کب سے؟ تو وہ بولے کہ ’کافی وقت ہوگیا، میں چھوٹا سا تھا۔‘

عبدالوارث اپنے کام کی شروعات کرنے کی عمر چھے سال بتاتے ہیں اور ’کمالِ راز داری‘ سے اس ’ابتدا‘ پر اپنے شوق کا ’پردہ‘ ڈال دیتے ہیں۔۔۔ اب بھلا اسکول میں داخلہ کرانے کے بہ جائے ایک ننھے منے بچے کو کسی دکان پر بٹھا دیا جائے، تو بھلا یہ کیا ’شوق‘ ہوا۔۔۔! لیکن اس 13 سالہ لڑکے کی آدھی سے زیادہ زندگی ’غمِ روزگار‘ کی نذر ہوئی ہے، اس لیے گفتگو میں بہت سی جگہ چغلی کھانے کے باوجود وہ بات کرنے کے فن سے خوب آشنا ہے۔۔۔ روزانہ صبح 11 بجے تا 8 بجے زنانہ کپڑوں کی دکان پر اپنی ذمہ داریاں وہ یوں بتاتے ہیں کہ ’وہاں خواتین کو بلاتا ہوں، جیسے، آجائیں، دیکھ لیں ہمارے پاس۔۔۔!‘

’’دیکھیں، یہ ہے ہمارے پاس ورائٹی، اگر کہیں گی لان کے سوٹ، تو وہ دکھاؤں گا۔۔۔‘‘ عبدالوارث نے ہمارے استفسار پر طریقۂ کار بھی بتایا۔

انھیں دُکان پر اپنا پہلا دن یاد ہے، کہتے ہیں، تب مجھے کچھ نہیں پتا تھا، میں بس جا کر بیٹھ گیا تھا، پھر آہستہ آہستہ سب سیکھتا گیا۔ ہم نے جب عبدالوارث سے اس کام کو شروع کرنے کا پس منظر جاننا چاہا، تو یہاں بھی انھوں نے کسی معاشی ضرورت یا تنگ دستی کا ذکر نہیں کیا اور بولے کہ ’میں اپنے ’سپر ڈونٹس‘ کا نام بنانا چاہتا تھا، امی کو یہ سب چیزیں پہلے سے بنانا آتی تھیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ گذشتہ دنوں ’کورونا‘ کی وجہ سے بازار جب چھے بجے بند ہونا شروع ہوئے، تو میں نے سوچا کہ اتنی دیر میں فارغ گھوموں گا، تو پھر میں نے یہ کام کیا۔ امی نے منع کیا اور کہا کہ آپ اتنی رات میں باہر نہیں گھوم سکتے، مگر میں نے کہا کہ نہیں مجھے کرنا ہے۔

یوں گذشتہ ڈھائی ماہ سے وہ رات آٹھ بجے تا ڈیڑھ بجے یہاں ہوتے ہیں۔ گھر تھوڑی ہی دور ہے، وہ بتاتے ہیں کہ ابتداً چیزیں نہ بکیں، تو انھوں نے لوگوں کو چکھائیں، تو پھر فروخت شروع ہوئی، پہلے میں چائے بیچتا تھا۔۔۔‘‘

’چائے کیسے بیچتے تھے۔۔۔؟‘ ہم نے بے ساختہ پوچھا۔

’’چائے۔۔۔! چائے! گرم چائے!‘‘ انھوں نے مخصوص طرز پر بتایا۔ ’ہمارا مطلب ہے کہ تھرماس میں گرم کر کے؟‘ تو وہ اثبات میں جواب دیتے ہوئے بولے کہ ہاں، یہاں سائیکل پر رات 11 بجے تک گھومتا اور دکانوں اور ٹِھیے والوں کو چائے دیتا۔۔۔ یہ کچھ ہی دن کیا۔

عبدالوراث ایک مدرسے میں عَمّ پارہ پڑھ رہے ہیں، دونوں بڑی بہنیں بھی صرف مدرسے پڑھی ہوئی ہیں، ہم نے پوچھا کہ کوئی پڑھانا چاہے، تو پڑھیں گے؟ تو وہ انکار کر دیتے ہیں، تاہم کہتے ہیں کہ ’میں نہیں پڑھا، لیکن اپنے بھائی کو پڑھاؤں گا۔‘

’’میں وہی بولوں کہ آپ اتنی دیر انتظار کیوں کر رہے تھے، آپ کو زیادہ چیزیں پوچھنی تھیں۔‘‘ عبدالوارث ایک دبی دبی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔ ہم نے انھیں بتایا کہ ہمیں دو، تین منٹ کی ویڈیو نہیں چلانی، اس لیے ذرا تفصیل درکار ہے۔ ہم نے دکان پر کم تنخواہ کا استفسار کیا، تو انھوں نے نفی کی اور بولے کہ وہ بہت اچھے لوگ ہیں، کبھی کوئی سختی نہیں کی، میں وہاں بھی پوری آزادی سے کام کرتا ہوں۔

ہم نے عبدالوارث سے پوچھا کہ آپ کی مشہور ہونے والی ویڈیو میں سائیکل دوسری تھی اور اب یہ کوئی اور ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ ’یہ کسی میڈیا والے نے تحفہ دیا‘ ہم نے پوچھا کہ ’’تحفہ لے لیتے ہو، لیکن مدد نہیں؟‘‘ تو بولے کہ تب مجھے ضرورت بھی تھی سائیکل کی۔

’تو ضرورت تو اس وقت ایک دکان کی بھی ہے؟‘‘ ہم نے جوابی سوال کیا، تو انھوں نے بتایا کہ ’مجھے اس کی ضرورت نہیں، میرے اندر بھی جلدبازی ہے کہ دکان کھول لوں، لیکن سب آہستہ آہستہ کروں گا۔‘

عبدالوارث کی دائیں کلائی پر بندھی ہوئی بَڑھیا سی دستی گھڑی اور سلیقے سے زیب تن کی ہوئی جیکٹ بھی تحفے میں ملی ہے۔ ہم نے کچھ چیزیں لے لینے اور کچھ قبول نہ کرنے کا ماجرا پوچھا، تو وہ اپنے بے ساختہ انداز میں بولے ’’اصل میں بات پتا ہے کیا ہے۔۔۔ یہ میڈیا والے تھے، ان کو میں نے پیسوں وغیرہ کا منع کردیا تھا، صحیح ہے، تو انھوں نے سوچا کہ پیسے وغیرہ تو یہ کچھ نہیں لے رہا، تو ان کے لیے کوئی تحفہ وغیرہ لے جائیں۔ مجھے ’ہیلپ‘ کی ضرور ت نہیں ہے، یہ تو ’گفٹ‘ لے کر آئے ہیں ناں میرے لیے۔۔۔‘‘

’کوئی دکان بھی تو تحفے میں دے سکتا ہے‘ ہم نے استدلال کیا، تو وہ بولے نہیں۔ ہم نے کہا ’کیا کوئی مخصوص حد ہے، کہ اتنی مالیت تک کا تحفہ لیں گے، باقی نہیں؟‘ وہ بولے کہ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں لے لیتا ہوں، پیسے اور ویسے اور کوئی چیز نہیں۔

اس وقت گھر کے اخراجات کا مکمل انحصار عبدالوارث کے کاندھوں پر ہے، ہم نے کہا اتنے چھوٹے پیمانے سے آگے کا سفر کافی لمبا ہے، کوئی نہ کوئی مدد تو لینا پڑے گی؟‘ اس پر عبدالوارث بولے کہ ’’اللہ نہ کرے مجھے کبھی کسی بھی طرح کی مدد کی ضرورت پڑے! میں چاہتا ہوں، اپنی محنت سے اس کام کو آگے بڑھاؤں۔

٭ عبدالوارث کا محتاط انداز

کم گو طبیعت کے مالک عبدالوارث کہتے ہیں کہ اُن کی ویڈیو ’وائرل‘ ہونے کے بعد رَش پڑنا شروع ہوا۔ بہت سے لوگ آکر عجیب عجیب سے سوالات بھی کرتے ہیں۔ ہم سے گفتگو میں بھی وہ کافی محتاط رہے۔ انھوں نے ’پشاوری سوپ‘ کے آگے اجازت لے کر اپنی ’دکان‘ لگائی۔ وہ کوئی چھٹی نہیں کرتے، جب کہ دکان سے جمعے کی چٹھی ہوتی ہے۔ ہم نے تاریخ پیدائش جاننا چاہی، کہ سال گرہ کب آتی ہے، تو بولے کہ ہم نہیں مناتے، ہم نے کہا، لیکن یہ یاد تو رکھتے ہیں، ورنہ یہ کیسے پتا چلا کہ آپ 13 سال کے ہیں، تو بولے گھر والوں نے بتایا۔ اصل میں ’شفٹنگ‘ میں کاغذات کھو جاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ رات کو ڈھائی بجے سو کر صبح آٹھ بجے اٹھ جاتا ہوں۔ والدہ خاتون خانہ ہیں اور میٹرک کی ہوئی ہیں، والد کی تعلیمی قابلیت بھی اتنی ہی ہے۔ رشتے داروں کے حوالے سے انھوں نے بس اتنا بتایا کہ ان لوگوں کی مدد بھی نہیں لی۔ ہم نے شوق یا مشاغل دریافت کرنے کی کوشش کی، تو وہ بولے کہ بس یہی کام۔۔۔ کھیلنے کا شوق نہیں۔ انھوں نے اپنے بچپن کے کھیل بھی نہیں بتائے۔

’ڈر لگتا ہے کیا۔۔۔؟ اتنا محتاط کیوں ہو؟‘ ہم نے آخر کو عبدالوارث کی احتیاط پسندی دیکھ کر پوچھ ہی لیا، تو انھوں نے یوں کہا کہ ’’اب میں پوری زندگی کی بات تو نہیں بتا سکتا ناں، ابھی مجھے گھر سے اور سامان بھی لینے جانا ہے۔۔۔‘‘

٭ سرکاری امداد سے کینیڈا سے ماہانہ امداد تک سے معذرت

’پاکستان بیت المال‘ کے اسسٹنٹ ایاز حسین شیخ نے ’ایکسپریس‘ کو بتایا کہ مینجینگ ڈائریکٹر ’بیت المال‘ عون عباس بپی نے عبدالوارث کی ویڈیو دیکھ کر فوری مدد کے احکامات جاری کیے، ہم ان کی 50 سے 60 ہزار روپے تک کی امداد کر سکتے ہیں، اگر تعلیم حاصل کرنا چاہیں، تو ہم پالیسی کے مطابق ان کی اور ان کے بہن بھائیوں کی بھی مدد کریں گے، لیکن یہ خود دار ہیں، کہتے ہیں کہ کسی کی مدد نہیں چاہیے، لیکن آگے بڑھنے کے لیے کچھ مدد کی ضرورت تو ہوتی ہے، اگر کسی فرد کے بہ جائے سرکاری مدد ہو تو اچھا ہے، یہ تو عوام ہی کے ٹیکس کا روپیا ہے۔

عبدالوارث سے ہماری گفتگو کے دوران وہاں ایک شہری آئے اور عبدالوارث سے کہا کہ کینیڈا سے ہمارے ایک دوست آپ کے بہن بھائیوں کے تعلیمی اخراجات کے لیے ماہانہ کچھ پیسے دینا چاہتے ہیں، جس پر عبدالوارث نے پروقار انداز میں اپنا عزم دُہرایا کہ ’مجھے اصل میں ضرورت نہیں ہے!‘ ہم نے پوچھا کہ ’پھر کیسے بڑھائیں گے کام؟‘ تو وہ بولے کہ اللہ کروانے والا ہے۔ ہم نے اگلا قدم پوچھنے کی کوشش کی، تو وہ بولے کہ جیسے جیسے کام بڑھتا جائے گا، یہ مجھے بھی نہیں پتا کہ کیسے۔۔۔!

٭ یہ کہانی دراصل ’والدہ عبدالوارث‘ کی ہے۔۔۔

13 سالہ عبدالوارث کی پُرعزم اور جدوجہد سے عبارت اِس کہانی میں ہم اُن کی امی کے کلیدی کردار کو بالکل بھی فراموش نہیں کر سکتے۔۔۔ لیکن اُن کا یہ کردار عبدالوارث کے حوالے سے ساری خبروں اور ویڈیو میں اَن کہا ہے۔۔۔ نہایت سوچ سمجھ کر لب کھولنے والے عبدالوارث کے ہر قدم کے پیچھے دراصل ان کی والدہ کی تربیت ہے۔۔۔ چھے برس کی عمر سے دکان پر بیٹھنے اور کبھی اسکول کا منہ نہ دیکھنے والے عبدالوارث اگر نہایت سمجھ داری، تہذیب اور شائستگی سے گفتگو کرتے ہیں، تو یہ ان کی والدہ کا ہی کمال ہے۔۔۔ ذرا سوچیے، کھلونے سے کھیلنے والا ایک چھے سالہ معصوم بچہ جب غمِ روزگار میں مبتلا ہوا ہوگا، تو اس ماں نے کیسے ننھے عبدالوارث کی شخصیت کے اس فطری ’خلا‘ کو پُر کیا ہوگا۔۔۔ یہ ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔۔۔! اس لیے درحقیقت یہ ساری کام یابی انھی کی ہے کہ کبھی ’بچپنا‘ نہ جی سکنے والا بچہ آج دنیا کے سامنے نہایت پراعتماد انداز میں سراپا صبرو شکر بنا ہوا ہے۔۔۔ ہم عبدالوارث کی عظیم والدہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here