تصویر میں ایک ڈرون کے ذریعے گائے کے ریوڑ کو قابو کیا جارہا ہے (فوٹو: بی فری ایگرو)

تصویر میں ایک ڈرون کے ذریعے گائے کے ریوڑ کو قابو کیا جارہا ہے (فوٹو: بی فری ایگرو)

اسرائیل: ایک اسرائیلی نوجوان نے زرعی کمپنی کی بنیاد رکھتے ہوئے ڈرون کو چرواہا بنادیا جو فضا میں رہ کر چراگاہ، مویشیوں کی تعداد اور رکاوٹوں کو نوٹ کرتا ہے ساتھ ہی یہ جانوروں کو ایک جگہ رکھنے میں مدد بھی فراہم کرتا ہے۔

ڈرون مصنوعی ذہانت کی بدولت گائے، بھینسوں اور دیگر مویشیوں کا شماررکھتا ہے۔ اس کے طاقتور کیمرے ممکنہ رکاوٹ اور راستے کو دیکھتے ہوئے بہترین راستہ منتخب کرتے ہیں۔ نوم ازران نامی نوجوان نے اس ضمن میں ایک کمپنی بنائی ہے جسے ’ بی فری ایگرو‘ کا نام دیا گیا ہے۔

یہ کمپنی گزشتہ 5 برس سے ڈرون کے ذریعے چراگاہوں اور مویشیوں کو کنٹرول کررہی ہے اور ضمن میں لاگت میں 50 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

ایک ڈرون تین سے پانچ کلومیٹر پر پھیلے ہوئے جانوروں کی نگرانی کرسکتا ہے۔ غلہ بان کسی چھاؤں یا ایئرکنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھ کر تمام جانوروں کی غذا کھانے، پانی پینے اور نقل و حمل پر نظر رکھتا ہے۔ اس سے وقت اور رقم کی بچت ہوتی ہے جبکہ ڈرون کو چلانا بہت آسان ہے اور اس طرح پورا عمل خودکار ہوسکتا ہے۔

تجرباتی طور پر ایک ڈرون ایک ہزار سے زائد جانوروں کو پیٹ بھرنے میں مدد دیتا ہے اور ان پر نظر رکھتا ہے۔ اس کا خصوصی سافٹ ویئر جانوروں پر نظر رکھتے ہوئے انہیں پہچانتا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here