2025 تک 5 سے زیادہ لوگوں کو پانی کی خوشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا اثر علاقائی اور عالمی سیاست ہوتا ہے۔  (فوٹو: فائل)

2025 تک 5 سے زیادہ لوگوں کو پانی کی خوشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا اثر علاقائی اور عالمی سیاست ہوتا ہے۔ (فوٹو: فائل)

مین ہٹن: امریکی سرمایہ دارانہ نظام ایک نیا نظام پیش کر رہا ہے جس کے تحت آئندہ چند برس پانی کی عالمی تجارت بھی اسی طرح کی ہے جو آج کی پوری دنیا میں ‘پیشگی سودوں’ (فیوچرز کنٹریکٹ) کے تیل اور سونے کی خریداری ہے۔ ویزے ہے۔

اس ضمن میں امریکی مالیاتی کمپنی ” سی ایم ای گروپ ” نے ایک معاہدہ بھی کیا ہے جس سے اس کا تعلق ہے اور اس کی فراہمی (واٹر سپلائی) مقامی مارکیٹ سے ہے ، جس کا تجارتی حجم 110 ڈالر ڈالر (تقریبا ڈالر 175) ہے۔ ارب پاکستانی کمپنیوں کو بتایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کیلیفورنیا کا شمار ماحولیاتی تبدیلی سے ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ سب سے زیادہ متاثرہ امریکی ریاستوں میں موجود ہے جہاں چند برسوں کے دوران اوسط درجہ میں نمایاں اضافی اور جنگلات میں آتش زدگی کی شدت کے ساتھ پانی کی قلت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بھگینہ کیلیفورنیا کو غیر اعلانیہ صحرا میں تبدیل کیا گیا۔

سی سی ایم ای گروپ نے بڑے پیمانے پر پانی کی خرید و فروخت کے معاہدوں پر کام شروع کردیا جنوری میں ، گھریلو ، صنعتی اور زرعی استعمال کے پانی کی کوکی ‘جنسِ تجارت’ ہے۔ ‘(کموڈٹی) درجہ حرارت کی تصدیق کے ساتھ آزادانہ نرخ طے کرنا اور پیشگی سودوں کو ممکن بنانے کی کوشش کی گئی۔

ویب سائٹ ” بزنس انسائیڈر ” اس بارے میں سی ایم ای گروپ کے ایک اہم عہدیدار ، ٹام مک کور کے بارے میں ایک بیان کے بارے میں یقین ہے کہ لکھا ہے کہ پانی کی جنس سے متعلق تجارت کے معاہدے سے بالخصوص کسان طبقے کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ اس طرح کہ مستقبل کے امکانات مدنظر نظر آئیں گے ، مناسب ترین قیمتوں پر ، زرعی پانی کے ‘پیشگی سودے’ کے بارے میں خدشات اور خطرات ہر ممکن حد تک کم رہ جائیں گے۔

بتبادی چل رہی ہے کہ عالمی ماحول میں تیز رفتار تبدیلی انسانوں کی بس سے قریب ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 2025 تک ساری دنیا میں پانچ ارب سے زیادہ لوگوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا اثر صرف دنیا پر ہی نہیں ہوتا ہے۔ پر بھی پڑے ہوئے۔

ان حالات میں معدنی تیل (پیٹرولیم) اور سونے کی طرز پر پانی بھی جنسِ تجارت (اجناس) معاہدہ کرنا ایک تشخیصی امر ہے۔ البتہ ، پانی کی عالمی تجارت کا طریقہ مستقبل کی بات ہے ، معاشرتی اور معاشی نتائج برآمد ہوں گے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here